امریکہ میں حرامی بیٹی پیدا کرکے ولدیت سے مُکر جانے والے کو مدر فگر کہتے ہیں ، سعودیہ میں یہی عمل کرنے والے کو ولد الحرام کہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ایسے زانی کو “ امت مسیلمہ کا لیڈر “ کہا جاتا ہے جس کے آپ پیروکار ہیں
نوسرباز عمران خان کے دورحکومت کی پالیسیز کی بدولت بزنس مینز، Industrialists اور عام لوگوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا اور بیشرمی کا عالم یہ تھا کہ معیشت کا بٹھہ بٹھا کر کتنی بیشرمی سے یہ سب Confess کر رہا تھا اور یوتھئے تالیاں بجا رہے تھے۔۔
نہ کوئی شرم نہ کوئی حیا۔۔
عمران خان، علی امین گنڈا پور، شفیع جان وغیرہ اور اب میاں داؤد کی اخلاق سےگری گفتگو کےبعد میں مریم نواز کو سیلیوٹ کرتا ہوں جو ایسے مردوں کے معاشرے میں سر اٹھا کر مضبوطی سے کھڑی ہیں. مریم نواز کو اس بلند مقام تک پہنچنےمیں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا، اسکا اندازہ اب ہوتا پے.
محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں وزیراعلی سہیل آفریدی کے بھائی نوید آفریدی اور کزن عبدالہادی عرف پتنگ کی اربوں روپے کے ٹھیکوں میں بے جا مداخلت کی فائلیں کو چھپایا جانے لگا
ابتدائی مرحلہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اربوں روپے کے ٹھیکے غیرقانونی اور منظور ٹھیکیداوں کو دینے پر محکمہ کے افسران نے مخالفت کی تھی
گریڈ 20 کے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے آفیسر کے مطابق جب بھی وہ مخالفت کرتے یا فائل پر اعتراضات لگا کر روکتے تو انہیں دھمکی دی جاتی کہ وزیراعلی کی ہدایات ہیں اس پر عملدرآمد کرو
اس آفیسر کے مطابق دونوں کی مداخلت سے گزشتہ 10 ماہ کے دوران دیئے جانے والے ٹھیکوں اور سرکاری دستاویزات کو اپنی تحویل میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کوئی ثبوت نہ رہے
🚨"پہلے گورنر اور پھر گورنر ہاؤس کا محاصرہ کیا جائے گا ان کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔" سیاسی جماعت یا انتشاری ٹولہ! پی ٹی آئی پھر 9 مئی کے موڈ میں؟
سہیل آپریدی نے پولیس کو اس طرح تباہ کیا 👇
طالبان دہشتگرد خیبرپختونخوا پولیس پر کواڈ کاپٹر سے حملے کرتے ہیں، لیکن پولیس کے پاس اینٹی کواڈ کاپٹر گن تک نہیں۔ جوانوں کے پاس جدید اسلحہ نہیں۔ PTI کی حکومت 13 سال سے ہے، لیکن پولیس کیلئے ان کے پاس پیسے نہیں، اور پشاور کے انڈرپاسز، فلائی اوورز کیلئے 250 ارب روپے رکھ دیے
خیبرپختونخوا میں خوارج سی ٹی ڈی سپیشل برانچ والوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔پنجاب میں ہر ضلع میں سیف سٹی کے کیمرے ہیں کیا خیبرپختونخوا میں ایسا ہے؟ نہیں۔دسمبر 2025 کی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی میں 19 فیصد آسامیاں خالی چھوڑ دی گئی ہیں۔سی ٹی ڈی کو جو حفاظتی گاڑیاں دینی تھیں وہ صرف 17 ہیں۔یہ لوگ پولیس کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رہے ہیں تو پھر ایمرجنسی نا لگائیں تو اور کیا کِیا جائے۔
🚨🚨🚨You know who has spent years (rightly) highlighting how PTI is TTP's B-team?...........Benazir Shah.
Here are just some of Benazir's tweets that have pointed to the fact that Imran and PTI have maintained a close and enabling approach towards the TTP.
Unsure why Benazir is now criticizing the current govt for stating a well-known and documented fact that she herself has rightly reported on for years.
اِن کو وزیراعظم نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر دعوت دی کہ آؤ مذاکرات کرتے ہیں،بیٹھ کر بات کرتے ہیں یہ مذاق اڑاتے رہے،اس وقت جو حالات ہیں،خطہ جنگ کا شکار ہے،معاشی مسائل ہیں،صوبہ دہشتگردی کا شکار ہے کیا یہ انتشار چھوڑ کر ٹیبل پر نہیں بیٹھ سکتے تھے؟ کیا سڑکوں پر نکل کر یہ ریلیف حاصل کرسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں!
Very important! Top sources claim the countdown for the KP provincial government has begun, with the federal government actively considering imposing Article 232 to declare a state of emergency within the next 24 hours. Severe security lapses and massive financial corruption have brought matters to a head.
Investigations revealed that 7 billion rupees intended for the Counter Terrorism Department never reached the agency, completely crippling local security infrastructure. Arrests and laptop evidence from a C&W project manager have directly linked senior officials and their close associates to the embezzlement. Given these developments, a final decision on the governor's rule or emergency declaration in Khyber Pakhtunkhwa is expected by midnight tomorrow.
🚨🚨🚨
آئی جی KP نے سہیل آپریدی سے 50 ارب روپے مانگے تھے، پولیس کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے، پولیس ایسی عمارتوں میں بیٹھی ہے جن سے اگر عام گاڑی بھی ٹکرائے تو عمارت گرجائے، اب بارود سے بھری گاڑی ٹکرائے تو کیا حال ہوگا۔ لیکن CM نے صرف 17 ارب روپے دیے، اس میں سے بھی 10 ارب روپے اسلحے، انفرا اسٹرکچر، گاڑیاں اور جیمرز خریدنےت کیلئے تھے اور 7 ارب روپے CTD کیلئے رکھے۔ وفاق نے بلٹ پروف گاڑیاں دیں، لیکن سہیل آپریدی نے واپس بھیج دی تھیں۔
بیورو کریسی بہت سمجھدار ہوتی ہے جب جی کا جانا ٹھہر گیا ہو تو بیوروکریسی بھی جانے والے سے چیزیں چھپا رہی ہوتی ہے۔ عملی طور پر تو سہیل آفریدی کے ہاتھ سے وزارت اعلی جا چکی ہے۔اب آپ کو کسی نے لفٹ نہیں کرانی۔ میرے پاس یہ خبر بھی ہے کہ کئی لوگ بھاگنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں مگر ان کو بھاگنے نہیں دیا جائے گا اب کاروائیوں کا آغاز ہو گا۔
سہیل آفریدی کی حکومت کی نااہلی،نالائقی پر وائٹ پیپر
1. خیبر پختونخوا میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 122 پولیس اہلکار شہید؛ 2025 کی اسی مدت میں 63 شہادتیں ہوئی تھیں، اضافہ 93.7 فیصد رہا۔
2. 2026 کی پہلی ششماہی میں 175 پولیس اہلکار زخمی ہوئے؛ 2025 کی اسی مدت میں تعداد 84 تھی، اضافہ 108.3 فیصد رہا۔
3. جنوری تا ستمبر 2026 دہشت گرد حملوں کی تعداد 680 درج؛ 2025 کی تقابلی مدت میں 508 حملے ہوئے، اضافہ 33.9 فیصد رہا۔
4. بڑھتے حملوں اور پولیس کے جانی نقصان نے صوبائی حکومت کی حفاظتی حکمتِ عملی اور ادارہ جاتی تیاری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
5. ستمبر 2026 میں کوہاٹ کے سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے دفاتر پر حملہ؛ انسدادِ دہشت گردی کے اہم مرکز کا تحفظ بھی سوال بن گیا۔
6. سی ٹی ڈی کے آلات کے لیے 7 ارب 77 کروڑ روپے منظور؛ جون 2026 تک 7 ارب 5 کروڑ روپے جاری، 72 کروڑ روپے کا فرق برقرار رہا۔
7. فنڈز کا اجرا اپنی جگہ، آلات کی فراہمی اور عملی استعمال کی تفصیلات کہاں ہیں؟ سی ٹی ڈی کی تیاری پر جواب طلب سوال۔
8. دسمبر 2025 کی رپورٹ میں سی ٹی ڈی کی 3,844 منظور شدہ آسامیوں پر 3,113 اہلکار تعینات،تقریباً 19 فیصد آسامیاں خالی تھیں۔
9. جون 2026 تک بھی سی ٹی ڈی کے 638 فیلڈ آپریٹرز کی خالی آسامیوں پر بھرتی مکمل نہ ہو سکی، خصوصی نفری کی کمی دور کرنے میں تاخیر برقرار رہی۔
10. سی ٹی ڈی کی حفاظتی گاڑیوں کا تقابل، خیبر پختونخوا میں 17، پنجاب میں 76 اور بلوچستان میں 42 بلٹ پروف گاڑیاں رپورٹ ہوئیں۔
11. دسمبر 2025 تک خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کے پاس 200 مطلوبہ ایم فور رائفلوں کے مقابلے میں صرف 9 دستیاب تھیں، ضرورت کا محض 4.5 فیصد۔
12. دسمبر 2025 تک خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کے لیے درکار 35 نائٹ ویژن آلات کے مقابلے میں صرف 11 دستیاب تھے،ضرورت کا تقریباً 31.4 فیصد۔
13. جولائی 2026 میں زخمی پولیس افسر کی بہتر ہتھیاروں کی اپیل،فرنٹ لائن نفری تک موزوں سازوسامان کی بروقت فراہمی پر سوال اٹھا۔
14. وزیراعلیٰ نے عہدہ سنبھالنے کے 112 دن بعد صوبائی ایپکس کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔
15. خیبر پختونخوا میں جنوری تا مارچ 2026 پولیس کارروائیوں کے دوران 5,695 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔
16. صوبے میں 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 847 کلوگرام آئس، 210 کلوگرام ہیروئن اور 275 کلوگرام افیون بھی پکڑی گئی۔
17. پشاور میں ستمبر 2026 کے دوران 960 کلوگرام منشیات کی کھیپ پکڑی گئی؛ صوبائی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر منشیات کی ترسیل سامنے آئی۔
18. ستمبر 2026 میں پشاور کے دو مبینہ مصنوعی منشیات ساز مراکز پر چھاپے؛ مقامی سپلائرز اور مالی سرپرستوں کی تحقیقات کی ضرورت نمایاں ہوئی۔
19. جون 2026 کے بجٹ ریکارڈ کے مطابق منشیات کی فصل کے خاتمے کا سالانہ ہدف 250 کنال؛ اپریل تک 130 کنال پر کارروائی ہوئی۔
20. مالی سال کے دس ماہ میں منشیات کی فصل کے خاتمے کا صرف 52 فیصد ہدف حاصل؛ مقررہ ہدف کی تکمیل باقی رہی۔
21. جولائی 2026 کی کسٹمز رپورٹ میں دو ہفتوں کے دوران ایک ارب 16 کروڑ 30 لاکھ روپے کا اسمگل شدہ سامان اور گاڑیاں ضبط ہونے کا انکشاف۔
22. منشیات اور اسمگلنگ کی بڑی کھیپوں کی برآمدگی کے ساتھ منتظمین، مالی سرپرستوں اور تقسیم کے نیٹ ورکس تک پہنچنا بھی ضروری۔
23. ستمبر 2026 میں صوبائی کابینہ نے پولیس کمان پر سیاسی اختیارات بڑھانے کے نئے مسودے کی منظوری دی، پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری پر سوالات اٹھے۔
24. بڑھتا جانی نقصان، نامکمل بھرتیاں اور مسلسل حملے، صوبائی حکومت سے اخراجات، حفاظتی اقدامات اور عملی نتائج کا واضح حساب درکار۔
سہیل آفریدی کے پلے اب کچھ نہیں ہے لوگ اب ان سے سائیڈ مار رہے ہیں لوگوں کو معلوم ہے آپ جانے والے ہیں حکومت میں ہوتے ہوئے بھی سہیل آفریدی تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔آپ کی چھٹی ہو گئی ہے اب ان کا چہرہ بتا رہا ہے، رونے پر آ گئے ہیں۔امیر مقام نے تو کہہ دیا کہ لانگ مارچ تو ہونا نہیں بلکہ آپ پر مقدمات ہونے اور آپ نے جیل جانا ہے۔
غلام مصطفی کھر پی پی کا لیڈر تھا اس نے دھمکی دی تھی کہ انڈیا کے ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان آوں گا آج تحریک انصاف کا سوشل میڈیا انڈیا سفارتکار کی تقریر پاکستان کے خلاف شئیر کر رہے ہیں
پی ٹی آئئ کو بطور جماعت بین نا کرنے والے بھی پاکستان سے غداری ہی کر رہے ہیں یہ سہولت کاری ہے
آج وائٹ پیپر سامنے آتے ہی سہیل آفریدی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں اور جھوٹ پر جھوٹ بول کر حقائق سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ HIT (ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا) پر سازوسامان نہ دینے کا الزام سفید جھوٹ کا پلندہ ہے۔
کے پی پولیس اور سی ٹی ڈی کے سازوسامان سے متعلق دستاویزی حقائق:
🔹 73 گاڑیاں و APCs: 59 بلٹ پروف اور 14 جدید ترین B7 اے پی سیز (بشمول 6 جدید ترین 'ڈریگن' جو صرف KP کو ملیں؛ 4 وصولی کے لیے تیار، 13 نومبر تک ڈیلیور ہوں گی)۔ اسلام آباد پولیس کی روایتی 'محافظ' اے پی سیز کے برعکس KP کو ان کی مانگ پر اعلیٰ ترین B7 تحفظ فراہم کیا گیا۔
🔹 81 جیمرز: 25 ڈیلیور/آفر ہو چکے، جبکہ باقی 56 شیڈول کے مطابق تیاری کے مراحل میں ہیں۔
🔹 23 اینٹی ڈرون گنز: سی ٹی ڈی اور سی پی او کے لیے 2 معاہدے مکمل، جن کی باقاعدہ ڈیلیوری اکتوبر اور دسمبر میں شیڈول ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر جوان صفِ اول میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں، مگر صوبائی حکومت نے ان کی استعداد بڑھانے کے بجائے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ سی ٹی ڈی کی کارکردگی کے ریکارڈ میں کے پی سب سے نیچے اور پنجاب نمایاں ہے—صوبائی حکومت اپنی نااہلی کے پیچھے بہادر پولیس کی قربانیوں کو چھپانا بند کرے!