🚨 پاکستانی فوجی انٹیلی جنس کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق: سیاسی منظر نامے کو آگے بڑھانے کے لیے اسحاق ڈار کا استعفیٰ ناگزیر ہے — جو محسن نقوی کو وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم کے عہدوں پر فائز ہونے کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ اقدام اگلے مرحلے میں شہباز شریف کو رگڑنے کی پیشگی شرط ہے۔ سب کی نظریں 28ویں ترمیم پر ہیں جو اس تبدیلی کا محرک بننے والی ہے۔ حتمی مرحلے میں وردی میں ملبوس فیلڈ مارشل (عاصم منیر) صدارت سنبھالنے والے ہیں، اور وسیع پیمانے پر گرفتاریاں متوقع ہیں۔ یہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے واضح وارننگ ہے۔
Three Palestinians have been wounded by rubber-coated metal bullets shot by Israeli forces in a village northwest of Ramallah in the occupied West Bank, according to the Wafa news agency.
🔴 LIVE updates: https://t.co/f3UyeGC8SI
Israel CONTINUES to bomb civilian areas of Lebanon.
Since March 2nd, Lebanon reports that at least 4,303 Lebanese have been killed by Israeli forces.
ISRAEL = CONTINUES TO BREAK THE US-IRAN MOU.
https://t.co/qabMhd56sr
🚨🚨🚨 محترمہ چیف منسٹر صاحبہ! @MaryamNSharif گزشتہ تین دن سے آپ اور لاہور پولیس، بالخصوص ڈی آئی جی آپریشنز، پوری قوم سے مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان خواتین کو آپ کی پولیس نے بازیاب نہیں کرایا، لیکن اس کے باوجود آپ کے من پسند میڈیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ ان کی بازیابی اہلِ خانہ کی ون فائیو (15) کال پر لاہور پولیس کی انتھک محنت کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔
یاد رکھیں، جھوٹ زیادہ دیر تک نہیں چھپ سکتا۔
میں گزشتہ تین دن سے مسلسل یہ بتا رہا ہوں کہ ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن لاہور اپنے آئینی اور قانونی فرائض ادا کرنے کے بجائے یا تو آپ کے ذاتی ملازمین کی طرح کام کر رہے ہیں، یا پھر خوشامد حاصل کرنے کی خاطر اس معاملے کو دبا کر اصل مجرموں کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں، تو پھر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کہیں آپ خود بھی اس پورے معاملے میں ملوث تو نہیں؟
میرا مطالبہ ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے، کیونکہ ان کی موجودگی میں اس سنگین جرم کی شفاف، غیرجانبدار اور مؤثر تحقیقات ممکن نہیں۔
اگر آپ واقعی اس شرمناک اور گھناؤنے جرم کی پشت پناہی نہیں کر رہیں، تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے اس مشیر کو، جو ملزمان کا ماموں ہے، فوری طور پر عہدے سے برطرف کریں۔
اس مقدمے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے، جس میں صرف پولیس ہی نہیں بلکہ انٹیلیجنس بیورو (آئی بی)، فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کے نمائندے بھی شامل ہوں، تاکہ تحقیقات ہر قسم کے دباؤ اور اثر و رسوخ سے آزاد ہو سکیں۔
اگرچہ موجودہ حالات میں آپ سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں، لیکن شاید ایک آزاد اور بااختیار تحقیقاتی کمیٹی ہی ان متاثرہ خواتین کو انصاف دلانے کا ذریعہ بن سکے۔
کیا رضا ڈار کو کوئی اعلیٰ افسر پولیس پارٹی کی لوکیشن کے بارے میں مسلسل آگاہ رکھے ہوئے تھا؟ رضا ڈار اپنی لوکیشن کس کس کو بار بار بھیج رہا تھا اور کیوں؟
تفصیلی وی لاگ لنک پر
#MJtv LIVE EXCLUSIVE:Written & signed statements/documents of foreign lad... https://t.co/1cpmf28fWT via @YouTube
رضا ڈار کے معاملے پر انصار عباسی صاحب کے منہ سے اب تو چوں تک نہیں نکلی۔ آخر اس خاموشی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ عدیل حبیب
#pakistan@AdeelHabib_@AnsarAAbbasi
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
کیا ملزمان کے موبائل فونز سے ویڈیوز برآمد کر لی گئی ہیں؟ ابھی تک فرانزک کا بھی کچھ علم نہیں۔ لگتا ہے کہ جلد بااثر ملزمان جوڈیشل ہوں گے اور پھر خاموشی سے ضمانتیں ہو جائیں گی۔
ریڑھی چھینی تو چھینی...
غریب کا خون پیا تو پیا...
پنجاب کے غریبوں پر مسلط یہ خودنمائی کے مرض میں مبتلا مریم کا کٹھ پتلی راج عوام پر ایک عذاب ہے، جو طاقت کی ہوس میں اندھا ہو کر اب غریبوں کے چولہے بجھانے پر اتر آیا ہے۔ ریڑھی بانوں اور دیہاڑی داروں پر گرنے والی ہر لاٹھی اس فاشسٹ سوچ کا اشتہار ہے جو پورے صوبے کی معیشت کو نگلنے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہے۔
اس عمر میں اس لڑکے کو مستقبل کے سپنے سجائے کالج میں ہونا چاہیے تھا، مگر اس جبری مسلط شدہ نظام نے اسے سڑکوں پر رول دیا۔ اس قوم کا المیہ یہ ہے کہ جو لیڈر ان نوجوانوں کو کتاب اور شعور دینا چاہتا تھا، اسے انتقام کی آگ میں جھونک کر قیدِ تنہائی کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔
لیکن اقتدار کے نشے میں دھت یہ ٹولہ یاد رکھے؛ یہ ظلم اس مظلوم نسل کے اندر ایک لاوا پکا رہا ہے۔ جس دن اس نوجوان نسل کا سیاسی شعور مکمل ہوا، اسی دن تمہارے اس جبر کے بت پاش پاش ہو جائیں گے اور تمہارے اس اقتدار کی سانسیں اکھڑ جائیں گی!
اس مقدمہ میں اب تک #NCCIA اور #FIA کا تحقیقات نہ کرنا حیرت انگیز ہے، یہ پوچھا جانا چاہیے کہ 21 سالہ نوجوان کے پاس لاکھوں امریکی ڈالر کی انویسٹمنٹ کہاں سے آئی؟پیسہ باہر کیسے گیا؟منی ٹریل،ٹیکس ریٹرنز کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ شریف فیملی پر اس سے قبل بھی مقصود پٹواری اور مشتاق چینی جیسے کرداروں سے منی لانڈرنگ کے الزامات موجود ہیں۔
، “ہاں، جہاز لیا ہے۔”
مگر جب بچوں کی جانیں بچانے کے لیے ہسپتالوں میں آکسیجن، ڈاکٹرز اور بروقت طبی سہولیات پر سوال اٹھتے ہیں، تو اپنی نااہلی کا ملبہ صرف ایک غریب ٹیوشن سینٹر چلانے والی خاتون پر ڈال دیا جاتا ہے۔
سوال صرف ایک ہے: ترجیحات جہاز تھیں یا بچوں کی زندگیاں؟
These are the terrorists our media has been pretending are the victims our whole lives. These are the terrorists that our politicians have been forcing us to fund our whole lives. Long live the second American independence!