تم لعنتیوں نے کبھی اپنی تاریخ ہی نہیں ہڑھی بس جو گھٹی میں ملا لکیر کے فقیر بنے ھوئے ھو اسی محمد علی مرزا تم جیسے منکروں کو صحیح ٹھوکتا ھے جن حرامیوں کے پیروکار ھو کبھی ان بارے پڑھو تو سہی👇🖐️
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے خادم سے کہتا تھا کہ جب تم کسی تنگ دست کے پاس جاؤ تو اس سے درگزر کرنا، شاید اللہ ہم سے درگزر فرمائے۔‘‘
پھر جب وہ شخص اللہ سے ملا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرمایا۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر 3480
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*”اللہ سے (گناہوں سے) عفو و درگزر اور مصببتوں سے عافیت طلب کرو، کیونکہ ایمان و یقین کے بعد کسی بندے کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔”*
عافیت کا مطلب ہے *زندگی کا آسان ہو جانا۔*
یعنی نہ بیماری ستائے، نہ دشمن نقصان پہنچائے، نہ دل ٹوٹے، نہ خوف دل پر چھا جائے۔
*عافیت وہ کیفیت ہے جہاں اللہ کی حفاظت انسان کو ڈھانپے لیتی ہے۔*
دنیا کی دولت، شہرت اور کامیابی سب بیکار ہیں اگر صحت نہ ہو، دل بے سکون ہو یا ایمان خطرے میں ہو۔
عافیت مل جائے تو انسان خوشحال اور مطمئن رہتا ہے، چاہے اس کے پاس بہت زیادہ مال نہ ہو۔
*📌یہ دعا صبح شام ۳ مرتبہ پڑھیں۔*
اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدْنِي،اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي،اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَاللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ،اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
*اے اللہ! میرے جسم میں عافیت عطا فرما،اے اللہ! میرے کانوں میں عافیت عطا فرما،اے اللہ! میری آنکھوں میں عافیت عطا فرما، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔اے اللہ! میں کفر اور محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔یا اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔*
حضرت سہل بن سعدؓ فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ حضرت علیؑ حضرت فاطمہؑ کے پاس گئے، پھر وہاں سے نکل کر مسجد میں جا کر دیوار کے پاس لیٹ گئے۔ رسول اللہ ﷺ حضرت علیؑ کو تلاش کرتے ہوئے وہاں تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ حضرت علیؑ کی پشت پر مٹی لگی ہوئی ہے۔ آپ ﷺ اپنے دستِ مبارک سے ان کی پشت سے مٹی صاف کرتے ہوئے فرمایا:"اٹھو، اے ابو تراب!"حضرت سہلؓ کہتے ہیں کہ حضرت علیؑ کے نزدیک ابو تراب سے زیادہ محبوب کوئی نام نہیں تھا، کیونکہ یہ نام خود رسول اللہ ﷺ نے رکھا تھا۔
حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 3703۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے لیے اپنی مجلسوں میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تمہیں وہاں بیٹھنا ہی ہے تو راستے کا حق ادا کرو۔‘‘
صحابہؓ نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
- نگاہیں نیچی رکھنا۔
- لوگوں کو تکلیف دینے سے بچنا۔
- سلام کا جواب دینا۔
- نیکی کا حکم دینا۔
- برائی سے منع کرنا۔
📚 حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر 6229،
یہ سندھ کا کوئی اسکول ہے، جہاں پر لڑکوں کو سکھایا جا رہا ہے کہ کس قسم کی لڑکیوں کو آپ تاڑ سکتے ہیں، ہراساں کر سکتے ہیں، اور کن لڑکیوں کی آپ نے عزت کرنی ہے۔
یہ ویڈیو دیکھیں بچیاں آ رہی ہیں، لڑکے انہیں دیکھ رہے ہیں، ہنس رہے ہیں، تاڑ رہے ہیں، ان پر کمنٹس پاس کر رہے ہیں۔ اس کے بعد آتی ہیں حجابی لڑکیاں، لڑکوں نے منہ دوسری طرف کر لیا ہے اور دیکھ بھی نہیں رہے۔
ہم کیا سکھا رہے ہیں اپنے بچوں کو ؟ جس نے حجاب نہیں کیا، اس کے ساتھ جو مرضی کرو ؟ ان پر کمنٹس پاس کرو ، انہیں تاڑو ۔ وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں پر حجابی لڑکیوں کو بھی ہراساں کیا جاتا ہے ، چھوٹی بچیوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا ، وہاں پر ہم کس قسم کی تعلیم دے رہے ہیں۔
یہ ویڈیو اسکول نے اپنے آفیشل ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر لگائی ہے۔
الحاد کا مسئلہ خدا کا انکار اصل مقصد نہیں، بلکہ اصل مقصد اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنا ہے۔ کیونکہ اگر خدا کو مان لیا جائے تو پھر اُس کی طرف سے کچھ پابندیاں اور ذمہ داریاں بھی قبول کرنا پڑیں گی۔