ایک کریکٹر ( مولانا ) وہ ہے جو صرف باتیں کرتا ہے صرف تقریروں سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات نہیں ہوتی عمل سے ہوتی ہے کسی کو KP سے سیٹ نہیں ملی تو وہ بلوچستان چلا گیا ان کی شکایت یہ ہے کہ ہمیں کیوں نہیں دو نمبر طریقے سے جتوایا اس کا غصہ اتر رہا ہے عمران خان کی حکومت گرانے کے جرم میں JUI پیپلزپارٹی اور ن سب شامل تھیں ان پارٹیوں نے عمران خان کی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر گرائی ! حافظ نعیم
واردات سے 30 منٹ پہلے۔۔۔۔۔
والدین کے اکلوتے بیٹے اور دو بہنوں کے اکلوتے پڑھے لکھے بھائی جنید کا اپنے محلے کے ایک نوجوان سے جھگڑا ہو گیا. ہاتھا پائی ہوئی اور کچھ گالیوں کا تبادلہ بھی ہوا.جنید گھر آیا اور اپنے کمرے میں بیٹھ گیا. اس نے اپنے دشمن کو مارنے کا فیصلہ کر لیا اور الماری سے پستول نکال لیا. اچانک اسے اپنے ایک دوست کی نصیحت یاد آ گئی. دوست نے اسے ایسا کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے 30 منٹ کے لئے واردات کے بعد کی صورتحال تصوراتی طور پر دیکھنے کا کہا تھا.
جنید نے تصور میں اپنے دشمن کے سر میں تین گولیاں فائر کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا. ایک گھنٹے بعد وہ گرفتار ہو گیا. گرفتاری کے وقت اس کے والدین اور دو بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں. اس کی ماں بے ہوش ہو گئی. مقدمہ شروع ہوا تو گھر خالی ہونا شروع ہو گیا. ایک کے بعد ایک چیز بکتی گئی. بہنوں کے پاس تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا اور ان کے ڈاکٹر بننے کے خواب مقدمے کی فائل میں خرچ ہو گئے.بہنوں کے رشتے آنا بند ہو گئے اور ان کے سروں میں چاندی اترنے لگی. جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہر ہفتے والدین اور بہنیں ملاقات کے لئے جاتے. بہنوں کا ایک ہی سوال ہوتا کہ بھیا اب ہمارا کیا ہو گا؟ ہم اپنے بھائی کے بستر پر کسے سلائیں گی؟ ہم بھائی کے ناز کیسے اٹھائیں گی؟ بھائی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا. فیصلے کا دن آیا اور جنید کو سزائے موت ہو گئی. سزائے موت کی تاریخ مقرر ہو گئی. 25 منٹ گزر چکے تھے اور جنید کے جسم پر لرزہ طاری ہو چکا تھا. جیل میں وہ اپنی موت کے قدم گن رہا تھا اور گھر میں والدین اور بہنیں اپنے کرب اور اذیت کی جہنم میں جھلس رہے تھے. جنید کی آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھ دی گئیں اور اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیا. 29 منٹ ہو چکے تھے. پھانسی گھاٹ پر پیر رکھتے ہی 30 منٹ پورے ہو گئے. جنید پسینہ پسینہ ہو چکا تھا. اس کے جسم میں کپکپی طاری تھی. اس نے پستول واپس الماری میں رکھ دیا. اس نے میز سے اپنی بہنوں کی دو کتابیں اٹھائیں اور بہنوں کے پاس گیا. بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری پیاری بہنو تمہارے پڑھنے کا وقت ہو گیا ہے. خوب دل لگا کر پڑھو کیونکہ تمہیں ڈاکٹر بننا ہے.
چند ماہ بعد جنید ایک بینک میں اچھی پوسٹ پر ملازم ہو گیا. جنید کی دونوں بہنیں ڈاکٹر بن گئیں. وہ ایک کامیاب اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں. ان 30 منٹ کی تصوراتی واردات اور 30 منٹ کے مقدمے کی کارروائی نے ایک پورے گھر کو اجڑنے سے بچا لیا. آپ اپنی زندگی میں یہ 30 منٹ اپنے لئے ضرور بچا کے رکھئیے گا، یہ 30 منٹ کی تصوراتی اذیت آپ کو زندگی بھر کی اذیت سے بچا لے گی ۔
منقول
ہم تباہ ہونے جا رہے ہیں بھوک اور افلاس ہمارے سر پر آ چکی۔ کیونکہ بھارت ہمارا پانی بند کر رہا ہے۔ وہ یہ اتنی تیزی سے کرنے جا رہے کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہی۔ سندھ اور جہلم تو چھوڑیں وہ عین فصل کے موقع پر چناب راوی اور ستلج۔ میں پانی روک لیں گیں۔ بھارت یہ کھیل شروع کر چکا۔ اب جہازوں سے زیادہ جنگ پانی کی ہو گی۔ کیا ہمارے ہاں اس پر سوچ بھی رہا ہے۔ بھارت کا سب سے بڑا منصوبہ چناب پر شروع ہو چکا۔ چار سال میں وہ ایک سو پچاس ملین کیوبک فیٹ پانی بیاس میں ڈال سکتے ہیں۔ اور اگلے دس سال میں سارا چناب بیاس ستلج میں چلا جائے گا۔ یہ پاکستان کی موت ہے۔ اور ہمیں اس کا نہ احساس ہے اور نہ ہم اس پر بحث کر رہے ہیں۔ ہم کشمیریوں اور جی بی والوں کو ٹھوکنے میں اتنے مصروف ہیں کہ ہمیں احساس ہی نہی کہ آگے آبی جنگ آ رہی ہے۔اس کا سدباب اب دیامر بھاشا ڈیم ہو سکتا ہے مگر وہاں ہم نے اس کی فنڈنگ اک چوتھائی کر دی ہے۔ کیونکہ حکومت کے الے تللے کم نہی ہو سکتے۔ ملک جاتا ہے بھاڑ میں۔ کیا کوئ سوچ رہا ہے کہ یہاں گریٹ گیم کیا چل رہی ہے۔ یا تب ہوش آئے گی جب سارا پاکستان پانی کے بغیر بھوکا مر جائے گا۔ لڑتے رہو اور مرتے رہو۔ قومیں ایسی ہی تباہ ہوتیں ہیں۔
Pakistan economic survey issued. Bottom line: it confirms that 4 years of shehbaz sharif as PM have produced the lowest 4 year growth in Pakistan history of 2.3% per annum. Lower than even population growth. #Budget#EconomicDisaster
وفاقی وزیر احسن اقبال نے "میرا دوست" کی طرح 2018 والا مضمون یاد کیا ہوا ہے، ان سے پوچھیں
آپ نے ایکسپورٹس کیوں نہیں بڑھائیں۔۔۔ جواب 2018
آپ نے اخراجات کم کیوں نہیں کیے۔۔۔۔۔ جواب 2018
آپ نے عوام کو ریلیف کیوں نہیں دی۔۔۔ جواب 2018
آپ نے اصلاحات کیوں نہیں کیں۔۔۔ جواب 2018
2022 سے حکومت میں واپس آئے، پیٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس میں بے تحاشا وصولیوں کے باوجود ہر شعبے میں ناکام ہوئے، عوام کے جو تھوڑے بہت بہتر حالات تھے، انہیں مزید بدتر کردیا۔۔
ہم کافی دنوں سے لکھ رہے ہیں کہ شہباز شریف سیاسی لاشہ بن چکا ہے اور تعفن پھیل رہا ہے اسٹیبلشمنٹ اس لاشے کا بوجھ زیادہ دیر نہیں اُٹھا سکے گی اسے اُٹھا پھینکے گی آج وزنی معدہ والے قلمکار سہیل وڑائچ نے بھی پورا کالم لکھ مارا کہ یہ لاشہ جولائی میں اُٹھا پھینکا جائے گا اس سے تعفن پھیل رہا ہے
ہم پاکستانیوں کو اپنے ملک کی فکر کرنی چاہیے۔
یہ قابض ٹولہ تو جیٹ طیاروں میں فرار ہو جائے گا۔ پہلے جو وہیل چیئرز پر آتے تھے پلیٹلیٹس گرے ہوتے تھے، آج ہشاش بشاش کھڑے ہیں۔ نہ کوئی لنگڑاتا ہے نہ کسی کی کمر میں درد ہوتا ہے۔
عمران خان نے ایسی کوئی شکایت نہیں کی، نہ کبھی کہا میری آنکھ کے لیے نکلو۔
علیمہ خان
مشرف دور میں نجی میڈیا کا انقلاب آیا تو بہت سے نئے صحافی و اینکرز سٹار بن کر ابھرے
حامد میر ، کامران خان ، انصار عباسی ، جاوید چوہدری ، طلعت حسین، ابصار عالم ، سہیل وڑائچ ، عاصمہ شیرازی ، غریدہ فاروقی ، کامران شاہد ، شاہزیب خانزادہ وغیرہ
رجیم چینج کے بعد مگر ان سب کے مکروہ کرداروں نے ثابت کیا کہ یہ سب کے سب کٹھ پتلیاں تھے
ان میں سے کوئی بھی حقیقی صحافی نہ تھا
ہم نے خیر انہیں دیکھا بھی ، سنا بھی،
اور اب پہچان بھی لیا ہے،
ہمارے بعد والی نسل تو مگر ان کے ناموں تک سے واقف نہیں ہے
خصوصاً پچھلے چار سالوں میں جس طرح عوام الیکٹرانک میڈیا سے متنفر ہوئے ہیں
اگلے چند سالوں بعد ان کی شکلیں بھی کسی کو یاد نہیں رہیں گی
#پاکستان
رجیم چینج سازش کے بعد آنے والی تبدیلیاں۔
1) لوگوں نے نیوز چینل دیکھنا چھوڑ دیا
2) کرکٹ دیکھنا ختم کر دی
3) اخبارات بند کروا دئیے
4) لوگوں نے ملی نغمے سننا چھوڑ دیے
5) فوج اور ایجنسیوں سے اعتبار اٹھ گیا
6) سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے باقاعدہ نفرت ہوگئی
7) کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں سے گھن آنے لگی
8) مذہبی جماعتوں کی منافقت مذید عیاں ہو گئی
9) فتویٰ ساز ملاں ننگے ہو گئے
10) عمران خان کی عزت و احترام دل میں اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔
جب آخری درخت بھی کٹ جاٸے گا، آخری مچھلی بھی پکڑ لی جاٸے گی، اور آخری دریا بھی آلودہ کر دیا جاٸے گا۔۔
جب تمام فضا زہر آلود ہو جاٸے گی۔ تو انسان کے ساتھ دیگر جاندار کیسے زندہ رہ پاٸیں گے؟؟؟
تب آپ کو احساس ہو گا اب بہت دیر ہو چکی۔
اور یہ احساس بھی ہو گا کہ بینکوں میں رکھے کرنسی نوٹ نہ تو آپ کھا سکتے ہیں ، اور نہ پی سکتے ہیں۔
اب بھی وقت ہے۔۔
درختوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھنے کی بے حد ضرورت ہے ہمیں ، نٸے درخت لگانے اور انہیں پروان چڑھانے کی ضرورت ہے ۔۔
اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہترین تحفہ جو آپ دے سکتے ہیں ، وہ درخت ہیں۔🌳
درخت لگاٸیے، 🌳 نسلیں بچاٸیے
درخت لگانا ہمارے نبي پاک رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے ۔۔
تحریک انصاف کیساتھ مذاکرات اور ملک میں سیاسی استحکام کی خبریں دم توڑ گئیں..!!
جی بی میں ہونے والے الیکشن میں سسٹم کا تحریک انصاف کیساتھ رویہ( انتخابی نشان لینا، الیکشن کمپین سے روکنا، مرکزی قیادت کی پکڑ دھکڑ، جی بی کے راستے بند کرنا) یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام لانے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی ایک سیاسی جماعت کو space دینی ہے،گزشتہ چند دنوں سے جو تحریک انصاف کیساتھ مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی تھیں وہ بھی بے معنی ظاہر ہوتی ہیں..!!
پٹرول کس دور میں سستا تھا؟
⬅️سال 2016 - نواز شریف:
پٹرول - 40 ڈالر فی بیرل
ڈالر ریٹ - 98 روپے
حکومت 27 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 65 روپے میں بیچ رہی تھی - ڈھائ گنا ٹیکس
⬅️سال 2022 - عمران خان
پٹرول - 115 ڈالر
ڈالر ریٹ - 180 روپے
حکومت 150 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 150 روپے میں دے رہا تھا - زیرو ٹیکس
⬅️سال 2026 - شہباز شریف
پٹرول - 95 ڈالر
ڈالر ریٹ - 280 روپے
حکومت 170 روپے کا پٹرول خرید کر 400 روپے میں فروخت کر رہی ہے، ڈھائ گنا ٹیکس
یعنی جب دو شریف بھائ حکومت میں ہوں تو عوام کو ڈھائ گنا ٹیکس لگا کر پٹرول بیچتے ہیں، اگر عمران خان کی حکومت ہو تو وہ بغیر ٹیکس کے پٹرول عوام کو دیتا تھا
یہ موازنہ اصل حقیقت ہے، آئندہ کوئ پٹواری 2016 کی مثال مت دے،
جب بھی پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کریں تو پٹرول کی ڈالر میں قیمت اور ڈالر ریٹ کو مدنظر رکھ کر کریں،تب آپ کو اصل حقیقت کا پتہ چلے گا
اعداد و شمار - بشکریہ ناصر عباس کی وال سے
Letter from Islamabad
THE OCCUPIED REPUBLIC OF FAUGISTAN
I no longer feel like commenting on any news.
Whether they raise the voting age from eighteen to fifty, or allocate trillions for jets in the budget. Whether petrol rises from 450 to 1000, or electricity costs 500 rupees per unit—the desire to react to anything has died within me.
I used to respond when I believed I was a citizen of a constitutional state with rights. Now I understand that I am not a citizen of a country, but a subject living under a mili-feudal order. My only relationship with those who control the state is that they extract my labor and spend it on their own priorities.
My only task now is to protect my lawful earnings from their reach, so that I can provide for myself, my wife, and my children.
If they reduce the voting age from eighteen to fifteen, what difference will it make? Since February 8, 2024, we have been watching a circus—its latest acts now unfolding in Gilgit and Kashmir. In this spectacle, does the voter’s age matter at all?
If someone replaces Zardari as president, what difference will it make? He is widely seen as lacking a genuine electoral mandate. If another individual occupies that office under similar circumstances, what truly changes?
Shehbaz Sharif is called an elected Prime Minister—so should we comment on what he says? When the legitimacy of leadership itself is questioned, why exhaust oneself over the appointment of a Director of Enforcement?
When nepotism places individuals in multiple positions, why pretend this is an exception rather than the pattern?
Do we really believe merit governs this system? If not, then why cry over one posting when the entire structure stands on disputed ground?
For me, Pakistan winning or losing any real or manufactured conflict now carries the same weight as a random sports result—detached, distant, almost irrelevant.
Living here feels like a constant struggle for survival, where predators wait to seize whatever little remains. I walk this path trying only to protect my family and what is left of my means.
So what should I comment on—and why? I am exhausted.
Today, I find myself envying those who still argue, who still fight, who still try to prove right from wrong. You still have hope, passion, and belief. I acknowledge your strength.
As for me, something inside has gone quiet. Even putting desire or anger into words feels impossible. Perhaps one day, everything—rage, grief, frustration—will erupt at once, and with it, some form of release.
Maybe after that, I will once again feel something simple—like sorrow when Pakistan loses, and joy when it wins.
I have seen in @ImranKhanPTI a man at peace under pressure—someone many consider deeply principled, even spiritual in his resolve. I cannot compare myself to that.
I am not built for that kind of endurance. I am only human.
But I acknowledge the courage he has shown, and the clarity it has given many of us—to see things as they are, stripped of illusion.
From a Wider View
Today, General Asim Munir travels across capitals, projecting presence. But presence is not permanence. Influence, once diminished, is not easily restored.
Globally, alignments are shifting.
The United States continues to deepen its partnership with India. India expands its reach into Europe and beyond. Pakistan, meanwhile, risks being left navigating without a clear anchor.
In such a moment, the state must ask itself hard questions.
There is still time to change course. But that requires confronting reality, not managing perception.
The military establishment must seriously consider dialogue with Imran Khan.
That may be the only path left to stabilize the country.
لا الہ الا اللہ
For the past seven months, Imran Khan has been unlawfully subjected to solitary confinement in prison, isolated from his family, denied basic rights, and deliberately cut off from the people of Pakistan. For the last eight months, he has also been denied proper medical treatment despite repeated concerns regarding his health. These actions are not only inhumane, but a blatant violation of constitutional, legal, and fundamental human rights.
Today I, being the Chief Executive of Khyber Pakhtunkhwa Province, along with my cabinet and parliamentarians, going to Adiala Jail situated in the province of Punjab to show solidarity with former Prime Minister of Pakistan Mr. Imran Khan.
The federal government has stopped us in Islamabad 26 number chowk. It’s not only an insult of the chief executive but of the 46 Million people of KP.
The federal government has also stopped the Gas of KP. Punjab government has stopped the wheat movement towards KP. All of these acts are against the spirit of federation and the constitution of Pakistan.
Mr. Imran Khan has lost 85% of his eyesight due to the negligence of Adiala Jail’s administration and their handlers. He is not being allowed to meet his legal counsel, family and even personal physician. The federal government is not obeying the court orders and Punjab government is violating the fundamental rights of a political prisoner. Mr. Imran Khan is being treated inhumanely and has been placed in complete solitary confinement since November 2025.
We strongly demand the immediate access of Imran Khan sahb’s family and personal physician to him without any further delay. The state of his health is a matter of serious national concern and any harm caused to him due to negligence or deliberate denial of medical care is the direct responsibility of the federal government, the Punjab police, the administration of Adiala Jail and their handlers. We warn that the nation is watching and history will not forgive those who remain silent or complicit. Justice must prevail and it will prevail!
اس ہائبرڈ رجیم نے اپنی عیاشیوں، نااہلی اور اقتدار بچانے کے کھیل کے لیے صرف چار سال میں پاکستانی قوم سے 50,000ارب روپے ٹیکس نچوڑ لیا، جبکہ مشرف دور سے لے کر عمران خان حکومت تک سترہ سال میں اتنا ٹیکس جمع ہوا تھا۔ یعنی جس رقم کو جمع کرنے میں سترہ سال لگے ، یہ نظام عوام کا خون چوس کر صرف چار سال میں ہضم کر گیا۔
At this moment, our primary demand is clear: Imran Khan must immediately be shifted to Shifa International Hospital for comprehensive medical examinations and proper treatment for his eye condition.
#ImranKhanUnjustlyJailed