چیف سیکرٹری پنجاب کو گورننس ریفارمز پر مکالمہ کی دعوت!
> پاکستان میں گورننس کی بہتری کے لیے ایک سنجیدہ، علمی اور قومی بحث ناگزیر ہے۔ ریاست، سیاسی قیادت، بیوروکریسی، عدلیہ، جامعات، دانشوروں، میڈیا اور شہریوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو گورنمنٹ کےاس مکالمے میں شریک ہونا چاہیے.
ئینِ پاکستان ریاست کا ایک مقدس ڈاکومنٹ۔
پھر آئین کے آرٹیکل 240B کی مسلسل بے توقیری کیوں ؟
آئینِ پاکستان پہ عمل کریں اور صوبائی افسران کو اُن کا حق دیں۔
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
لاہور میں تھانے کے اندر ذہنی معذور بچی سے زیادتی
غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور بچی سے زیادتی کا اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے۔ عمران نامی اے ایس آئی نے بچی کو گھر کے باہر اٹھایا اور تھانے لے گیا جہاں تقریبا 8 گھنٹے بچی کو رکھا گیا اور بچی سے زیادتی کی گئی۔ ورثاء کے مطابق بچی کو تھانے کے کمرہ نمبر چار میں رکھا گیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا
ورثاء کے مطابق وہ ان 8 گھنٹوں میں چار بار تھانے گئے مگر انکی شنوائی نہ ہوئی۔ افسوسناک واقعہ کے بعد پورا تھانہ معطل کردیا گیا۔
کیا یہ کھُلا تضاد نہیں ؟
————————-
* ایک طرف کفایت شعاری اور سمارٹ گورننس کے دعوے دوسری طرف کروڑوں کے اخراجات؟
* عوام اور افسران کے درمیان ایک اور دیوار ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر؟
* ایک ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کے اخراجات کا تخمینہ ساڑھے چارکروڑ سے زائد؟
عوامی خزانے پر نئے تجربے کب تک ؟
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
گورننس ہے یا بچوں کا کھیل؟
———————————-
جب چاہا سیٹ اپ گریڈ کر لی
جب چاہا ڈاؤن گریڈ کر لی
جب چاہا سیکشن 9 کی غلط تشریح کر کے اپنے بچوں کو سینئر پوزیشنز کے کھلونے کھیلنے کیلئے دے دیے۔
جی میں آیا تو گریڈ 22 کے افسر کو گریڈ 21 کی سیٹ دے دی۔
من میں آیا تو کمشنر کو ڈپٹی کمشنر بنا دیا۔
پھر شکوہ کناں ہیں کہ آپ لوگ تلخ بولتے ہیں۔
بُرا نہ مان میری تُند و تیز باتوں کا
تُو میری فِکر میں جلتے ہوئے الاؤ تو دیکھ
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK@CS_Punjab
It's the bureaucracy which always usurp the powers of the Legislature in Pakistan.
Why don't Punjab Assembly take action against this naked encroachment on their power?
Provincial posts are Punjab Assembly's prerogative only under Article 240 b of the constitution of Pakistan.
پانچ سال میں بجلی پیدا کئے بغیر آئی پی پیز کو 7,275 ارب روپے کے ادائیگی۔ پرائیویٹ بجلی گھروں کو 13 ہزار 397 ارب روپے ادا کیے گئے جبکہ 6 ہزار 121 ارب روپے کی بجلی وصول کی گئی۔ 7 ہزار ارب سے زائد کی رقم صارفین سے وصول کر کے بجلی گھروں کو اس لیے ادا کی گئی کہ انہوں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی۔
روزنامہ دنیا میں ذیشان یوسفزئی @Zeeshan_usafzii کی خبر
یہ نوجوان لاہور کا محمد صائم ہے،تین بچوں کا باپ ہے، آج زندگی اور موت کی کشمکش میں ریاض کے جگر ٹرانسپلانٹ سینٹر میں بے یارومددگار پڑاہے ۔ڈاکٹرز کے مطابق اس کی زندگی بچانے کا واحد طریقہ جگر کا ٹرانسپلانٹ ہے ۔سعودی عرب کے ڈاکٹرز نے مشورہ دیا ہے کہ اسے ائیر ایمبولینس کے ذریعے فورا پاکستان لے جائیں جہاں اس کی فیملی اسے جگر کا عطیہ کرے تو اس کی جان بچ سکتی ہے
حکومت سے درخواست ہے کہ اپنے شہری کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے اور صائم کو سعودی عرب سے PKLI لاہور منتقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ ممکن ہے کہ تین معصوم بچوں کو ان کا باپ لوٹایا جا سکے
03044352009
@KlasraRauf میں کئی بار اس بات کو کہہ چکا ہوں کہ حکومت ہر سال کے آخر میں سرکاری افسران کے جمع کرائے جانے والے assets declarations کا فورنزک آڈٹ کرائے - میں بطور گریڈ 22 آفیسر ریٹائرڈ ہوا ہوں اور سب سے پہلے اپنے اثاثے آڈٹ کے لیے پیش کرتا ہوں- غلط ڈیکلریشنز کی سزا الگ ہو-
لاہور، بابو صابو انٹرچینج
گاڑی کو راستہ نہ دینے پر ٹی بی سی کنٹریکٹر کمپنی کے اہلکاروں کا شہری پر تشدد، اہلکاروں نے بزرگ شہری پر ڈنڈے برسا دئیے۔ سر پر ڈنڈا لگنے سے بزرگ شہری گرگیا۔
پی ایم ایس آفیسرز چاہتے کیا ہیں؟
————————————-
عوام الناس ، حکومت پنجاب اور صوبائی قانون ساز ادارے(Legislature) کی توجہ کیلئے۔
سوال اُٹھتا ہے! پی ایم ایس آفیسرز چاہتے کیا ہیں۔
تین فقروں میں جواب۔
* گڈ گورننس کا حصول
* عوام الناس کی بہتر اور حقیقی خدمت
* انصاف کی فراہمی سب کیلئے
یہ سب کیسے ممکن ہے ؟؟
1. نئے صوبوں کا قیام تاکہ انتظامی استعداد، عوامی نمائندگی اور خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے۔
2. مضبوط، بااختیار اور فعال بلدیاتی نظام قائم کیا جائے تاکہ اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوں اور عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکیں۔
3. سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری اور ذاتی استعمال کا خاتمہ کیا جائے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔
4. سرکاری رہائش گاہوں اور عمارتوں کی تزئین و آرائش پر غیر معمولی اخراجات کو محدود کیا جائے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا جائے۔
5. تمام عوامی اخراجات کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ مالی شفافیت، مؤثر آڈٹ اور عوامی احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
6. چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا عہدہ کسی منتخب رکنِ پنجاب اسمبلی کو دیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبہ بندی جمہوری نگرانی کے تحت ہو۔
7. سیکرٹری کابینہ کا آزاد اور خودمختار عہدہ قائم کیا جائے تاکہ کابینہ کے انتظامی امور مزید مؤثر انداز میں چلائے جا سکیں۔
8. ترقی (پروموشن) بورڈز کا انعقاد پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کیا جائے تاکہ ترقیوں کا نظام زیادہ شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی ہو۔
9. سرکاری اتھارٹیز کے سربراہ منتخب عوامی نمائندے ہوں تاکہ عوامی اداروں پر جمہوری نگرانی اور جوابدہی مضبوط ہو۔
10. تبادلوں اور تعیناتیوں کے لیے مکمل میرٹ پر مبنی پالیسی نافذ کی جائے، پی ایم ایس افسران کی منصفانہ نمائندگی یقینی بنائی جائے، اور کسی ایک افسر کے ذریعے صوابدیدی پوسٹنگ کے موجودہ نظام کا خاتمہ کیا جائے۔
11. سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ مکمل طور پر آن لائن اور میرٹ پر کی جائے تاکہ شفافیت کو فروغ ملے۔
12. سرکاری ریسٹ ہاؤسز کی آن لائن بکنگ کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ مساوی رسائی اور شفافیت یقینی ہو۔
13. حکومتی امور کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جائے تاکہ غیر ضروری انسانی صوابدید کم ہو، بدعنوانی کے امکانات گھٹیں اور خدمات کی فراہمی بہتر ہو۔
14. ضلعی اور ڈویژنل سطح کی اہم کمیٹیوں کی سربراہی منتخب عوامی نمائندوں کے سپرد کی جائے تاکہ جمہوری نگرانی اور عوامی مفاد کو ترجیح حاصل ہو۔
(پی ایم ایس آفیسرز ایسوسی ایشن پنجاب)
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
اللہ نے دوبارہ سانس عطا کر دی!
ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنیشن کامران خان اپنے گاؤں جا رہے تھے کہ راستے میں نہر کے کنارے ایک دردناک منظر دیکھا۔ تین سالہ معصوم بچہ نہر میں ڈوب چکا تھا اور اہلِ خانہ اسے مردہ سمجھ کر غم سے نڈھال تھے۔
اسی لمحے کامران نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے بچے کو سی پی آر دینا شروع کر دی اور چند لمحوں کے بعد بچے کی سانس بحال ہو گئی