لاہور آج ثابت کرے گا کہ وہ پنجاب ہی نہیں پاکستان کا دل ہے۔ نواز شریف اس ملک کے چوبیس کروڑ عوام کی امید ہیں۔آج کا دن ملک کی تاریخ میں ترقی و خوشحالی کے سفر کا آغاز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔اللہ کے فضل سے گراس روٹ لیول سے ورکر اور عوام اپنے قائد کا فقیدالمثال استقبال کریں گے۔
آج 19 اکتوبر بروز جمعرات ضلع لاہور میں جی پی او چوک پر امن ریلی میں 100 سے زائد میل فی میل اساتذہ کو گرفتار کر لیا گیا
ہم تمام اساتذہ کی گرفتاریوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کی تمام گرفتار لوگوں کو فوری رہا کریں اور تمام جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے
پنجاب میں اساتذہ پر پولیس تشدد اور انکی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہوں ۔
استاد قوم کے معمار حکومت کو چاہئے انکے مسائل سن کر انکا حل نکالا جائے ۔
میرا مطالبہ ہے گرفتار اساتذہ کو رہا کیا جائے ۔
وہ جو تم سے پہلے اک شخص یہاں تخت نشین تھا
اسے بھی خدا ہونے کا اتنا ہی یقین تھا
اساتذہ سلاخوں کے پیچھے۔۔ محسن نقوی پاکستان کے نیتن یاہو بن چکے۔۔۔ وزیر اعلی کے سفاک اقدامات قابل مذمت ہیں
*استاد کی گرفتاریاں نامنظور*
*اسکول کی نجکاریاں نا منظور*
*آٸی ایم ایف نال وفاداریاں نا منظور*
*پالیسیاں سرکاریاں نا منظور*
*محسن تیری ہوشیاریاں نا منظور*
*ملازم نال غداریاں منظور*
*کٹوتی دی بیماریاں نامنظور*
#ReleaseAGEGAleadership
محکمہ تعلیم کے تمام افسران سے میری دست بستہ گزارش ہے۔ براہ کرم اگر آپ ہمارے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے تو کم ازکم حکومت کے ساتھ بھی کھڑے مت ہوں۔ حکومت کا ہر وار ہم سہہ جائیں گے لیکن آپ اپنے لوگوں کے زخم ہماری روحوں کو چھلنی کریں گے۔ ہمیں ایسے گھاؤ نہ دیں جو کبھی مندمل نہ ہو پائیں۔
طلبہ کو شعوردیں کہ احتجاج کیوں کیا جا رہا ہے؟
اور پرائیویٹائزیشن سے طلبا کا کیا نقصان ہوگا مثلا" فیسیں ہزاروں میں
ادا کرنی پڑیں گی، کتابیں یونیفارم وغیرہ مہنگے داموں خریدنے پڑیں گے تاکہ سکول کمائی کر سکے، کوالیفائڈ سٹاف میسر نہیں ہوگا