بھارت کے ملحد شاعر جاوید اختر اور مفتی شمائل ندوی کے درمیان محض عقلی دلائل پر مکمل مناظرہ " کیا خدا ہے "
یہ ضرور دیکھیں اور شیئر کریں
مناظرہ قریبا ایک گھنٹے 50 منٹ کا ہے۔ مگر آپ کی توجہ ایک لمحہ کیلئے بھی ہٹنے نہیں دے گا
مفتی صاحب نے ہاتھ پیر باندھ کر رکھ دیئے
آئیں وسیم اکرم کے ساتھ مل کر صدقے کی سنچری بنائیں اور شوکت خانم ہسپتال میں کینسر کے زیرِ علاج مستحق مریضوں کی مدد کریں۔
روزانہ دن میں کسی بھی وقت ’100‘ لکھ کر 7770 پر SMS کریں اور 100 روپے (+ ٹیکس) کا صدقہ دیں۔
#SadqayKiCentury#SKMCH#SMSTo7770@wasimakramlive
🔴 ترک صدر کے چیف ایڈوائزر اوکتای سارال
"ہر محاذ پر تم جیتے، ابو عبیدہ۔
اپنے حوصلے سے خوف کو للکارا،
شہادت کی انگلی سے ظالم کو جواب دیا۔
امت کا فخر، مزاحمت کی سب سے بلند آواز تھے۔
اسرائیل ابو عبیدہ کو نہیں مار سکتا،
کیونکہ وہ محض ایک جسم نہیں،
بلکہ ایک اٹل ارادے کا نام ہے۔
اس کا نام مٹایا نہیں جا سکتا، آواز دبائی نہیں جا سکتی، نشان مٹائے نہیں جا سکتے!"
🔴 1.5 بلین مضبوط امت اسلامیہ ابو عبیدہ کے انجام کے بارے میں متجسس ہے، اس کی تقدیر کے گرد خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ لیکن حقیقی خاموشی، حقیقی خاموشی، امت کے دل میں جڑی گہری خاموشی ہے۔
ابو عبیدہ نے متعدد بار عالم اسلام سے اپیل کی لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اسلامی ممالک کے رہنما ذمہ داری قبول کرنے میں ناکام رہے ہیں اور صرف مذمتی الفاظ پیش کیے ہیں۔
اب ہر کوئی اپنی قسمت کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ میڈیا ان سوالوں سے بیزار ہے۔ تاہم، واقعی امت کے اپنے ضمیر سے کیا پوچھنے کی ضرورت ہے: ہم اس کی پکار پر کان دھرنے میں ناکام رہے، تو اب ہم اس کے بارے میں اتنے فکر مند کیسے ہو سکتے ہیں؟
برسوں سے غزہ کی مزاحمت نے لاتعداد کمانڈروں اور مجاہدین کو شہید کیا ہے۔ ہر شہید اپنے پیچھے ایک پرعزم جدوجہد چھوڑ جاتا ہے۔ غزہ کے لوگوں کے لیے سب کچھ واضح ہے: ابو عبیدہ کے ساتھ یا اس کے بغیر، یہ مزاحمت جاری رہے گی۔ کیونکہ یہ جدوجہد کسی ایک شخص پر منحصر نہیں ہے۔ یہ ایمان، قرآن پر مبنی ہے، یہ خدا کے وعدے پر قائم ہے۔
لیکن ڈیڑھ ارب کی امت ایک چھوٹے سے علاقے، چند کلومیٹر کے محاصرے کی زنجیریں نہیں توڑ سکتی۔ غزہ سے ابو عبیدہ کی آواز بلند ہوئی تو لوگ خاموش ہو گئے۔ اب ہم حیران ہیں کہ کیا اس آواز کو خاموش کر دیا گیا ہے۔
اپنی شہادت میں، غزہ کے مجاہدین پیچھے رہ جانے والوں کے لیے یہ پیغام چھوڑتے ہیں: ظلم کے خلاف مزاحمت، آسمانوں پر چڑھنا، اور بالآخر، فتح کا خدا کا وعدہ۔
امت کو اب محض تجسس سے مطمئن نہیں رہنا چاہیے۔ کیا غزہ، بیت المقدس اور امت کی عزت کے دفاع کے لیے حقیقی بغاوت کا وقت نہیں آیا؟
ٹیکنالوجی کا سب سے خطرناک شخص ایلون مسک یا سیم آلٹمین نہیں بلکہ 77 سالہ پروفیسر ہیں جنہیں "گاڈ فادر آف اے آئی" کہا جاتا ہے۔ ایک وائرل انٹرویو میں انہوں نے اے آئی کے مستقبل کے بارے میں خوفناک سچائی بیان کی۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت انسان سے زیادہ ہوشیار ہو سکتی ہے، عالمی معیشت کو بدل سکتی ہے، اور ہماری زندگیوں پر بے مثال کنٹرول حاصل کر سکتی ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو یہ ٹیکنالوجی ہماری بقا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کی سات وارننگز انسانیت کو بچا بھی سکتی ہیں یا برباد بھی۔
@NaeemPanjuthaa "جو شخص جاہل قوم کے لیے کھڑا ہوتا ہے وہ اس شخص کی مانند ہے جو اندھوں کے لیے راستہ روشن کرنے کے لیے اپنے جسم کو آگ لگادیتا ہے۔"
(COPIED)
قرآن کبھی نہیں کہتا کہ اولاد سے محبت کرو، کیونکہ یہ ایک فطری عمل ہے جو تمام والدین میں موجود ہوتا ہے۔ قرآن نے ہمیشہ والدین کی عزت اور ان سے محبت کی تلقین کی ہے۔
دنیا میں صرف دو ایسی چیزیں ہیں جنکو محبت سے دیکھنا بھی عبادت ہے ایک خانۂ کعبہ اور دوسرے تمہارے والدین۔
@balochi5252@pakistanwalli پردے کے پیچھے بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے جس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ اس لسٹ میں کچھ نام ایسے ہیں جن پر بالکل بھی شک نہیں کیا جا سکتا۔ سر فہرست زلفی علی بخاری، قاسم خان سوری اور صاحب زادہ حامد رضا صاحب
امریکہ نے حال ہیں میں ایک قرارداد کو 8 ویں مرتبہ ویٹو کیا ہے جو غزہ میں مکمل جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی تھی پاکستان میں جو لوگ ٹرمپ کو Man of peace کہتے نہیں تھکتے انہیں تو کم ازکم اپنے الفاظ واپس لینے چاہیے . ملیحہ لودھی
اگر میں کہوں کہ
ٹرمپ نے تیسری جنگ عظیم کو وقتی طور پر روک دیا ہے ٹرمپ واقعی امن کے نوبل انعام کا حقدار ہے اور اب دنیا کا امن ایران کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔
ایران کو نو دن دیے گئے کہ ان تین نیوکلیئر سائٹس کو خالی کر سکے اگر نہیں کر پائے تو ان سا احمق کوئ نہیں۔ ایران نے سائٹس خالی کر لی