اسلام آبادمیں25کروڑسے2.5ارب کے بنگلے30کروڑکی دکانیں پہلےنمبرپر بلوچ سرداروں پٹھانوں کی دوسرےنمبرپرسندھ جنوبی پنجاب کےمزارات کےگدی نشینوں تیسرے نمبرپررافضی ملاؤں کی چوتھے نمبرپرہری پگڑی والےطوطوں کی یہی اپنےعلاقوں میں پنجابیوں کیخلاف لوگوں کوبھڑکاتاھےفوج کیخلاف غلیظ زبان بولتےھیں
شہید اعظم شہید بھگت سنگھ نہ کہا تھا آئیڈیالوجی اچھی اور صیح ہونی چاہیے ورنہ اسکے بدلے جو ازادی ملے گی وہ غلامی سے بھی بدتر ہوگی
پاکستان کو دیکھ کیا ایسا نہیں لگتا کہ ہم بدتر غلامی میں ہیں
1900 کا پنجاب ۔
اس وقت کے پنجاب میں دہلی پنجاب کا ایک ضلع تھا ، موجودہ ہریانہ صوبہ دہلی کہلاتا تھا ۔ 1911 میں جب برٹش نے دارالحکومت کلکتہ سے دہلی منتقل کیاتو دہلی شہر کو پنجاب سے الگ کردیا۔
اسی طرح پشاور ، کوہاٹ اور ہزارہ بھی پنجاب کے اضلاع تھے۔پنجاب ایک ملک کی طرح تھا۔
شہزادناصر
تربیلہ منگلا راول ڈیم کے تمام متاثرین کو پنجاب کی زرخیز زمینیں دی گئی لیکن بجلی پھر بھی سرحد کی ہے پنجاب کے تین دریا بیچ کر ڈیم بنائے گئے اج ہم چوریاں بھی بھررہے ہیں اور بھاری بل بھی لیکن پھر بھی پنجاب کھا رہا ہے کیسے؟
یاد رہے ؟
پاکستان میں دو صوبے کی نسل پرستی کے نام پر وجود میں آئے ایک بلوچستان دوسرا پختونخوا ۔
پنجاب اور سندھ علاقائی نام ہیں نہ کہ نسلی ۔۔
اور یہ دونوں علاقے ہزاروں سال سے ہیں ۔
جبکہ بلوچستان پختونخوا نسل کی بنیاد پر رکھے گئے صوبے ہیں اور ان کے حالات آج قابو سے باہر ہیں
لہزا۔؟
یہ فہیم مروت افغانی پشتونگڑہ ہے ۔ اچکزئی کا فالور ہے اس کے ہر ٹویٹ میں ۔پاکستان۔پاکستانی فوج ۔ پنجاب پنجابیوں کے خلاف ڈھونڈ ڈھونڈ کر غلاظت ملنے کی کوشش میں مصروف ہے
کمی ہر ملک قوم ہوتی ہے
ہر پشتونگڑہ مادر چود مزہبی یا سیاسی جماعت سے ہو یا عام افگانڈہ
نفرت تعصب قبضہ اس کا ایجینڈہ