@Lokrajparty PSA–SPSA: 55 years of student struggle across both segments—evolving from a movement into a political party on Nov 15, 2025.
PLRP (پنجاب لوک راج پارٹی) rises to safeguard Punjab’s rights, strengthen Pakistan, & build a future founded on justice, democracy, & the people power❗️
بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوےسابق ہندو پنڈت رام لال نیا نام محمد عبداللہ کو عمرے کرنے کی اجازت دیدی
مسلم میڈیا بھارت کے مطابق چند ہفتے پہلے مسلمان ہونے والے سابق ہندو پنڈت موجودہ نام عبداللہ نے مسلمان ہونے کے بعد اپنے پاسپورٹ میں اپنانام اور مذہب تبدیل کرنے کیلئے جمع کیا اور ساتھ میں مسلمان ہونے کا سرٹیفکٹ بھی جمع کرایا تو مودی سرکار نے اسکے پاسپورٹ پر نام اور مذہب تبدیل کرنے سے انکار کیا جس پر رام لال سابق بھارتی کپتان محمد اظہر الدین کیساتھ سپریم کورٹ پہنچ گئے ایک ہفتہ کیس چلنے کے بعد سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ سنادیا جس میں کہا کہ رام لال نے اپنے مرضی سے اسلام قبول کیا ہے بھارت کے آئین میں یہ واضح لکھا ہے کہ کو ئی ہندو اگر کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرئے اپنی مرضی سے تو اس پر کوئی پابندی نہیں لہٰذا رام لال کا نام اور مذہب تبدیل کرنے کی درخواست کو فوراً منظور کرکے پاسپورٹ میں ترمیم کیا جائے یہ کام تین کے اندر ہونا چاہئے فیصلہ سنتے ہی سابق رام لال آبدیدہ ہوگئے اور کہا اب ایک ہی تمنا باقی ہے کہ مکہ المکرمہ جاوں رپورٹ کے مطابق محمد اظہر الدین بھی اس کے ساتھ عمرہ پر جائیں گے
یہ وہ بابرکت کنواں ھے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر جاتے ہوئے قیام فرمایا اور اس کنویں کا پانی پیا تھا۔ اس کنویں کا پانی 70 انبیاء کرام بھی پی چکے ہیں۔۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰه ﷺ
آسٹریلیا کے دارلحکومت سڈنی میں فلسطین کی حمایت میں نکلنے والے جلوس نے دنیا کی تاریخ ہی بدل دی ہے. یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاجی مجمع ہے
*یہ ہوتا ہے احتجاج*
*مسلمانوں تم کیا منہ دکھاو گے کل قیامت کے دن اللہ کو؟*
😡🤲🏻😡
جن خواتین و حضرات کو کمر درد کا ایشو رہتا ہے یا ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں پرابلم ہے، یا موٹاپا بڑھ رہا ہے تو وہ یہ کلپ ضرور دیکھیں. مفاد عامہ کیلئے دوسروں کو بھی شئیر کردیں.
راولپنڈی جیسے شہر میں اتنی بے حسی
میں ایک سفید پوش لڑکی ہوں میں روزانہ 3 نمبر گیٹ روالپنڈی کے راستے نوکری پر جاتی ہوں
جہاں اس کے خالو نے اسے روکا اور پیسے کا لالچ دے کر غلط و ناجائز تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی میں نے انکار کردیا کہ آپ میرے خالو ہیں رشتے میں باپ لگتے ہیں
میں بری لڑکی نہیں ہوں آئندہ اگر دوبارہ آپ نے ایسا کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔
خالو کو تضحیک محسوس ہوئی اس نے موبائل وٹس ایپ پہ میسجز کرنا شروع کردیئے
آخر کار تنگ آکر میں نے اس بات کا ذکر اپنی خالہ سے کیا اور وائس ریکارڈنگ کا ثبوت بھی دکھایا
تو خالہ نے بھی اپنے شوہر کی حمایت کی اور بات ماننے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ شاہ فیصل چوک پولیس چوکی گئی اور وہاں درخواست دی
مگر پولیس نے ملزم کے نہ آنے پر کارروائی کرنے کے بجائے انہیں سائبر کرائم بھیج دیا۔
پولیس بک گئی اب میں اپنی عزت بچاتی ہوئی دھکے کھارہی ہوں
سائبر کرائم کے چکر لگانے اور درخواست جمع کروانے کے باوجود وہاں سے بھی کوئی مدد نہ ملی اور معاملے کو ٹالا جاتا رہا ہے
میں حالات سے تنگ آچکی ہوں یہاں
افسوس مرد عورت کو بس لوٹا ہوا مال سمجھتے ہیں
میں ایک یتیم بچی ہوں
میں مریم نواز سے انصاف کی اپیل کرتی ہوں اور مطالبہ کرتی ہوں کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے تاکہ دیگر لڑکیوں کی عزت محفوظ رہ سکے۔
کیا کوئی اس بچی کی مدد کرسکتا ہے ؟
😥😥😥😥😪
یہ امریکی ڈاکٹر تانیہ حاج حسن ہیں جو بچوں کی ICU سپیشلسٹ ہیں. انہوں نے غزہ میں والنٹیر ڈاکٹر کے طور پر وقت گزارا اور اقوام متحدہ میں بریفنگ دے رپی پیں. سن کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں. آپ سب سے درخواست ہے کہ یہ کلپ غور سے سنیں اور سب کو فارورڈ کریں.
#GazaGenocide#GazaCrisis
مسلمان حکمرانوں سے تو اٹلی کی خاتون وزیراعظم جورجیا میلونی بہادر ہے جو فلسطینیوں سے اظیار یکجہتی کرتے ہوئے قاتل اعظم نتن یاہو کے سامنے فلسطینی پرچم پہن کر گھوم رہی ہے۔
ملک کا قانون صرف کمزور کو کچلنے کے لیے رہ گیا ہے۔
ایک طرف اربوں کھربوں لوٹنے والے صدر، وزیر اعظم اور گورنر بن کر پروٹوکول لیتے ہیں، اور دوسری طرف میرپورخاص کے 80 سالہ بزرگ عارف نُھڑیو کو محض 3 لاکھ کے زرعی قرضے پر ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کر دیا جاتا ہے۔
یہ انصاف کا جنازہ ہے۔پاکستان کا بینکنگ نظام ایک دلدل بن چکا ہے جہاں عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔ بینک آف پنجاب (BOP) سمیت دیگر بینک اس فراڈ میں ملوث ہیں، جو زمینوں کے قرضوں میں غلط انٹریز کرتے ہیں۔ چند کوڑیوں کے عوض شہریوں کی کروڑوں کی جائیدادیں رہین رکھ لی جاتی ہیں اور شکایت پر ٹال مٹول کی جاتی ہے۔ اس ظالمانہ اور کرپٹ بینکنگ مافیا کے خلاف اب آواز اٹھانا ناگزیر ہے!
@thebankofpunjab@StateBank_Pak@CMComplaintCell@zafar_masud@ZeshanMalick@MaryamNSharif
لاھور کے تھانہ قلعہ گوجر سنگھ میں ایس ایچ او کی سیٹ پر کینیڈا سے آئی ایک بزرگ خاتون بیٹھی ہے ۔ اس ہندو خاتون کے والد 1947 میں اسی تھانہ میں ایس ایچ او تھے ۔ والد کی جائے تعیناتی پر حاضری دینے یہ بھارتی خاتون جب تھانے پہنچی اور ایس ایچ او کو اپنا تعارف کروایا تو ایس ایچ او صاحب نے کرسی چھوڑ دی اور خاتون کو اس کرسی پر بیٹھنے کی دعوت دی ۔جذبات سے مغلوب خاتون کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔ وقت گزر جاتا ہے لوگ چلے جاتے ہیں مگر یادیں اور محبتیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں ۔۔۔۔
منقول ف ب پ
#punjab
خواجہ فرید یونیورسٹی کی ایک طالبہ کے کچھ دنوں سے سکرین شاٹ وائرل ہیں جس میں ایک استاد اُسے ناجائز تعلقات بنانے کے لیے ہراساں کر رہا ہے اب اسی یونیورسٹی کی ایک اور طالبہ سامنے آ گئی ہے جسے اس یونیورسٹی کے کمرے میں بند کیا گیا تھا اور پولیس نے آ کر بازیاب کروایا یہ یونیورسٹی ہے یا جہنم ؟
یہ جو باحجاب بہن ہے یہ خواجہ فرید یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ ہے ہوا یوں کہ
خواجہ فرید BS فزکس (4th سمسٹر) کی طالبہ علیزہ علی کو یونیورسٹی کے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ایک کمرے میں 3 سے 4 گھنٹے کے لیے غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا۔
علیزہ کے مطابق اس کی بڑی بہن اسی یونیورسٹی سے فزکس میں PhD کر رہی تھی اور اسے HEC کی طرف سے 13 لاکھ روپے کا اسکالرشپ ملا تھا۔
یونیورسٹی کے VC (سلیمان طاہر) اور HOD (بلال طاہر) نے اس اسکالرشپ میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے اس کی بہن پر دستبردار ہونے کا دباؤ ڈالا اور انکار کرنے پر شدید ذہنی اذیت دی اور رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکیاں دیں
18 مئی کو جب علیزہ یونیورسٹی کی ایک نمائش میں موجود تھی، تو سیکیورٹی انچارچ خرم شہزاد مسلح اہلکاروں اور لیڈیز سیکیورٹی کے ساتھ وہاں آیا
اور علیزہ سے اپنی بہن کو بلا کر اسکالرشپ سرنڈر کرنے والے کاغذات پر دستخط کروانے کا کہا۔
علیزہ کے انکار پر اسے زبردستی گھسیٹتے ہوئے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ لے جایا گیا، اس کا موبائل اور پرس چھین کر ایک کمرے میں بند کر کے باہر سے لاک لگا دیا گیا
اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔ بعد میں زبردستی لاؤڈ اسپیکر پر اس سے گھر والوں کو فون کروا کر بلانے پر مجبور کیا گیا۔
اطلاع ملنے پر علیزہ کی بہن اسماء علی نے عدالت سے رجوع کیا، جس کے نوٹس پر پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے علیزہ کو بند کمرے سے بازیاب کروایا۔
کیس اس وقت عدالت میں زیرِ التوا ہے،
تاہم علیزہ اور اس کے والد شوکت علی کا الزام ہے کہ انتظامیہ ان پر کیس واپس لینے اور صلح نامہ کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے اور تعلیمی مستقبل تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔
کیا کوئی ہے کو اس بہن کو انصاف دے سکے؟؟؟