ایک طرف پٹرول کی بلند قیمتیں
دوسری طرف پٹرول میں ہیرا پھیری نے عوام کو ذندہ درگور کر دیا ہے 🥲
ڈیرہ غازیخان میں تمام پیٹرول پمپ پر پیمانہ چیک نہیں کیا جاتا
جس کی وجہ سے
اکثر پمپس والے فراڈ کر رہے ہیں
ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور اقبال چوک کے مقام پر
یہ خاتون چلتے پھرتے لوگوں کو مار رہی
ہے،
کسی کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے
اور کسی کا اینٹ مار کر سر پھا/ڑ دیا ہے،
متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ اس خاتون کو پکڑ کر اس کا علاج کروایا جائے
تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے بچا جا سکے، یہ خاتون کم سن بچوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے
دو من لیچی،
10 کلو آم
اور پیرا فورس کے گرد گھومتے سوالات
ریاست کی طاقت کا اصل حُسن اس کے اختیار میں نہیں
بلکہ اس اختیار کے منصفانہ، شائستہ اور ذمہ دارانہ استعمال میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
قانون نافذ کرنے والا ہر ادارہ عوام کے تحفظ، سہولت اور انصاف کے لیے وجود میں آتا ہے، لیکن جب انہی اداروں کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھنے لگیں تو صرف افراد نہیں، پورا نظام عوامی اعتماد کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے۔
چند روز قبل شرقپورشریف میں ایک معذور بزرگ، بابا صدیق، کا معاملہ عوامی توجہ کا مرکزبنا رہا ہے
مقامی سطح پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ان کی ریڑھی اور لیچی ضبط کر لی گئی، جس سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد وہ مختلف سرکاری دفاتر اور متعلقہ اداروں کے چکر لگاتے رہے، مگر ان کے مطابق انہیں بروقت داد رسی نہ مل سکی۔ بالآخر مقامی صحافیوں، سماجی شخصیات اور شہریوں نے ان کی آواز بلند کی، جس کے نتیجے میں ایک مخیر شخص نے مالی مدد فراہم کی۔ یہ واقعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر کسی کمزور شہری کو انصاف کے لیے عوامی دباؤ کا سہارا لینا پڑے تو متعلقہ نظام کی افادیت پر سوال اُٹھنا فطری ہے۔
اب قصور سے بھی ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا ہے جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ ویڈیو میں ایک پھل فروش نہایت کرب کے عالم میں اپنی بے بسی بیان کرتا دکھائی دیتا ہے اور بعض سنگین الزامات عائد کرتا ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونا ضروری ہیں، کیونکہ کسی بھی فریق کو سُنے بغیر حتمی رائے قائم کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ تاہم اگر ایسے دعوے مسلسل مختلف علاقوں سے سامنے آ رہے ہوں تو متعلقہ حکام کے لیے انہیں سنجیدگی سے لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض مواقع پر چند افراد عوامی شکایات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لینے کے بجائے پہلے ہی ایک فریق کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ صحافت کا منصب کسی ادارے یا شخصیت کی وکالت نہیں بلکہ سچائی کی تلاش اور عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔ صحافی کا قلم اگر مظلوم کی آواز بننے کے بجائے طاقتور کا ترجمان بن جائے تو معاشرے میں انصاف کی امیدیں مزید کمزور ہو جاتی ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی ضلع کا اسسٹنٹ کمشنر یا انتظامی افسر اکثر عوامی تنقید کا ہدف بنتا ہے، حالانکہ ہر کارروائی کا ذمہ دار لازماً وہ نہیں ہوتا۔ اگر کسی فورس کے اہلکار اپنے اختیارات کے استعمال میں غیر مناسب رویہ اختیار کریں تو اس کا اثر پورے انتظامی ڈھانچے کی ساکھ پر پڑتا ہے۔
پنجاب حکومت کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر پیرا فورس واقعی عوامی خدمت اور قانون کی عملداری کے لیے تشکیل دی گئی ہے تو اس کی پیشہ ورانہ تربیت، اخلاقی رہنمائی، احتساب اور نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔ قانون کی عملداری سختی سے ضرور ہونی چاہیے، مگر سختی اور بدسلوکی ایک ہی چیز نہیں۔ ریاست کی طاقت کا اصل وقار اس وقت برقرار رہتا ہے جب شہری خود کو محفوظ، باعزت اور سنا ہوا محسوس کریں۔
عوام کو قانون کا احترام کرنا چاہیے، لیکن ریاست پر بھی لازم ہے کہ وہ عوام کے احترام کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ کیونکہ جب انصاف صرف کیا ہی نہ جائے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے، تبھی ریاست مضبوط اور عوام پُرامن ہوتے ہیں۔
ہم سب کا شرقپور
#پیرا_فورس
#قصور
#شرقپور_شریف
#عوامی_مسائل
#انصاف_سب_کے_لیے
#آواز_مظلوم_کی
آ
کمال کی مہارت دیکھیں زرا 🥲💔
اس بچے کی فنکاری چیک کریں
کیسے 35000 چوری کرکے بھاگ گیا۔
میزائل چوک ایبٹ آباد میں پرندہ بیچنے والی ایک دوکان میں
یہ لڑکا داخل ہوا
اور 35000 روپے کی رقم کمال مہارت سے چوری کرکے بھاگ گیا۔
اگر اس لڑکے کو کوئی جانتا ہو تو اس نمبر پر اطلاع دیں۔
تاکہ اس کے والدین کو اولاد کی بہترین تربیت پر تمغہ حسن تربیت بچگان دیا جا سکے۔
03040530910
ریسکیو 1122 کی بروقت پیشہ ورانہ خدمات،✅💗 ایمبولینس میں بچی کی محفوظ پیدائش
رحیم یارخان:
ریسکیو 1122 کو 30 سالہ خاتون خدیجہ بی بی کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے
شیخ زاید ہسپتال، رحیم یار خان منتقل کرنے کی ذمہ داری سونپی
گئی۔
خاتون کو ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال لے ��ایا جا رہا تھا کہ راستے میں اچانک انہیں شدید دردِ زچگی جاری تھا۔
ایمرجنسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے ریسکیو 1122 کے ای ایم ٹی ظفر اقبال نے انتہائی مہارت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور معیاری پری ہسپتال طبی طریقۂ کار (Pre-Hospital Protocols) کے مطابق ایمبولینس کے اندر ہی ورثا کی اجازت سے محفوظ انداز میں نارمل ڈلیوری کروائی۔
ریسکیو اہلکاروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں ایک صحت مند بچی کی کامیاب پیدائش
ہوئی۔
پیدائش کے فوراً بعد نومولود اور والدہ کو ابتدائی طبی نگہداشت فراہم کی گئی۔
خوش آئند بات یہ رہی کہ سفر کے دوران والدہ اور نومولود دونوں کی حالت تسلی بخش اور مستحکم رہی۔
بعد ازاں دونوں کو بحفاظت شیخ زاید ہسپتال، رحیم یار خان منتقل کر دیا گیا،
جہاں انہیں مزید طبی نگہداشت کے لیے ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا۔