محترمہ مریم نواز صاحبہ، جمعیت علماءاسلام اور ھمارے قائد مولانا فضل الرحمن صاحب نے واضح اور دو ٹوک انداز میں خیبر پختونخواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو سیاست اور جمھوریت کے لیے زھرقاتل سمجھتے ھوئے مخالفت کی ھے اور اسے مسترد کیا ھے لیکن اگر دھشت گردی کے خلاف جنگ ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا کرائیٹریا تھا تو پھر بلوچستان میں تو بدترین حالات ھیں وھاں کیوں نہیں لگایا گیا؟؟؟
جنرل ضیاءالق مرحوم نے خود کو صدر منتخب کرنے کے لیے ریفرنڈم میں سوال پوچھا تھا کہ اگر آپ اسلام کا نفاذ چاھتے ھیں اور اگر جواب ھاں ھے تو میں صدر ھوں، لگتا ھے رائیونڈ کے محلات ابھی بھی انکی بھٹکتی روح آپ کی ٹویٹ میں آگئی ھے اور آپ نے بھی دھشت گردی کی حمایت ومخالفت کو اسی طرح گورنر راج اور ایمرجنسی سے مشروط کردیا ھے جس طرح جنرل ضیاء نے اسلام کو اپنی صدارت سے مشروط کردیا تھا
جمعیت علماء اسلام کی دی جانے والی شہادتوں اور قربانیوں کا اعتراف تو آپ خود کررھی ھیں اور ھماری لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کے بعد سب سے زیادہ قربانیں تو جمعیت کی قیادت کا کارکنوں نے دی ھیں تو پھر شہادتوں اور شہیدوں کی عظمت کا سبق ھمیں کوئی اور کیسے پڑھا سکتا ھے
محترمہ مریم نواز صاحبہ ھم جمعیت والے تو اس وقت بھی شہادتیں دے رھے تھے اور افواج کے جوان اس وقت بھی سینوں پر گولیاں کھا رھے تھے جب آپ کے جلسوں میں “یہ جو دھشت گردی ھے “ والے مخصوص نعرے لگتے تھے جب آپ کے والد میاں نواز شریف سرعام فوج کے کردار کو نہ ماننے کی تقرریں کیا کرتے تھے جب آج کے وزیر دفاع خواجہ آصف فوج کا فنڈ بند کرنے کے مطالبے کیا کرتے تھے۔
افواج پاکستان کے سربراہ کے کردار کو ھندوستان کے خلاف جنگ میں اور حرمین الشریفین کے تحفظ کے حوالے سے سب سے پہلے میرے قائد مولانا فضل الرحمن صاحب نے سراھا تھا اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ھونے کا اعلان کیا، لیکن آپ نے ان کے کردار کے کیا کیا کہ یہ تک کہہ دیا کہ مجھے ھندوستان سے اتنا خطرہ نہیں جتنا دوسرے صوبوں کے پاکستانی بھائیوں سے ھے اور پھر بھی آپ خیرخواہ اور ھم بدخواہ؟؟
جہاں تک آپ نے KP میں کزشتہ تیرہ سالہ دور اقتدار اور ناکامیوں کی بات کی ھے تو محترمہ یہ سوال تو آپ کو اپنے والد محترم سے پوچھنا چاھئیے کہ انہوں نے مولانا صاحب کی مخالفت کے باجود اس کی بنیاد رکھنے کا سبب کیوں بنے تھے۔
محترمہ آپ لوگوں کو پاکستانی قوم کے سامنے واضح کرنا ھوگا کہ کس بین الاقوامی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جمھوریت پر شب خون مارا گیا اب آپ لوگ دھشت گردی کے پیچھے نہیں چھپ سکتے جواب تو دینا ھوگا
#دہشتگرد_بہانہ_ذخائر_نشانہ
#نعرےنہیں_امن_دو
#مولانا_کا_بیانیہ_جیت_گیا
#معدنیات_حساب_دو
#ایمرجنسی_یاوسائل_پرقبضہ
حال ہی میں @MoulanaOfficial کی اچانک اور شدید"بمباری" نے سب کچھ اس حد تک درہم برہم کر کے رکھ دیا کہ نہ صرف کابینہ میں تبدیلی موخر ہو گئی بلکہ عائشہ گلالئ بھی مدتوں بعد اہمیت اختیار کر گئی
جمعیت علماء اسلام اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب نے اول دن سے ھی ھائبرڈ نظام، ملکی امن وامان اور معیشت کی زبوں حالی پرجو تحریک شروع کی تھی اور جو قصور میں اپنے معراج پر پہنچی اس مین اصلی اور نقلی #نا_اہل_حکمران کو کھل کر للکارا گیا اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ #مہنگائی_کا_حساب_دو ۔ ان سے کھل کر کہا گیا کہ آپ نے ھمیں امن اور تحفظ دینا تھا اور آپ اس کے آئینی و قانونی زمہ دار ھیں آپ کیسے ھم سے لشکر بنا کے لڑنے کا کہہ سکتے ھیں یہ آئینی اور قانونی بات ان کو بہت ناگوار گزری انہوں نے باقاعدہ منظم منصوبے کے تحت پاکستان کے قومی خزانے اور عوام کے ٹیلس کے پیسے سے تنخواہ دار اور غلام سیاستدانوں، صحافیوں درباری صاحبان جبہ ودستاراور اور پیڈ چینلز کو مولانا صاحب کے خلاف میدان میں اتارا، کردار کشی کی گئی گالیاں دی گئیں دشنام طرازی کی گئی لیکن جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں بالخصؤص ڈیجیٹل میڈیا کے ابابیل میدان میں آئے #لبیک_مولانا کا نعرہ لگایا میدان میں ڈٹ گئے اور دنیا کو بتادیا کہ ھم #مولانا_کے_سنگ کھڑے ھیں اور کھڑے رہیں گے انشاءاللہ، اور اپنے جذبہ ایمانی جرات اور ھمت سے ان تنخواہ داروں کو سر کے بل کھڑا کردیا۔
آپ کی اس ھمت جرات شجاعت کو دونوں ھاتھوں سے سلیوٹ اور خراج تحسین۔ ❤️♥️👏🫡🫡
#ابابیلوں_کا_شکریہ
ہمارے وسائل پر کسی کو قبضہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے
جب ہم اپنے وسائل کواپنے استعمال میں لانے کی بات کرتے ہیں ۔ ؟
جب ہم اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے ہیں؟
تو پھر ہمیں غدار کہا جاتاہے
سیاسی بادشاہ
#لبیک_مولانا#مہنگائی_کا_حساب_دو#نا_اہل_حکمران#مولانا_کے_سنگ