حیات آباد میڈیکل کمپلکس کی نرس نے سنگین الزامات عائد کئے ہیں
ان الزامات کی تحقیقات سے آنکھیں چرانا گناہ ہوگا
وزیر صحت ، سیکرٹری صحت اور خصوصا نوشیروان برکی کو اس کی شفاف انکوائری کرانی چاہئے
وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی کے مشیر برائے زراعت میاں عمر کاکا خیل نو تعینات شدہ سیکرٹری صحت فیاض علی شاہ کے دفتر میں ان سے ملاقات کیلئے انتظار کررہے ہیں
راولپنڈی /جھگڑا
راولپنڈی سید پور روڈ پنڈوڑا بازار میں غیر ملکی خاتون اور ٹیکسی ڈرائیور کے درمیان کرایہ نہ دینے پر جھگڑا
خاتون نے مختلف علاقوں کے چکر لگوائے،متاثرہ ٹیکسی ڈرائیور متاثرہ ٹیکسی ڈرائیور کی شناخت عرفان اختر کے نام سے ہوئی
کرایہ مانگنے پر خاتون نے گالیاں دیں، تشدد کیا اور دھمکیاں دیں،عرفان اختر
خاتون کرایہ دینے سے انکار کرتی رہی،
متاثرہ ڈرائیور
پشاور میں پانی کھڑا ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دکاندار حضرات اپنی دکان کا کچرا نالوں میں پھینک دیتے ہیں، جس کی وجہ سے نالیاں بند ہو جاتی ہیں اور پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔
شاہ تراب نے عمران خان کی رہائی کیلئے خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی تنظیم کو آئینہ دکھا دیا
عمران خان تین سال سے جیل میں قید ہے
ہم اپنی مراعات کیلئے لگے ہوئے ہیں
کوئی کہتا ہے سڑک نہیں پانی نہیں ہے
ہم جس نظریے کیلئے منتخب ہوئے (عمران خان کی رہائی کیلئے) اس کا کوئی نام و نشان نہیں ہے
میں درخواست کرتا ہوں کہ کردار ادا کریں
آج اس کی بہنیں اٹھی ہیں کیونکہ مجبوری ہے پارٹی نے ہار مان لی ہے پارٹی میں ایسا کوئی نہیں ہے جو عمران خان کا نام لے
میں کسی پر تنقید نہیں کررہا الزام نہیں لگا رہا
کارکن یہ سوال کرتا ہے کہ پارٹی کمپرومائز ہے؟ ڈری ہوئی ہے؟ یا سٹبلشمنٹ کی دھمکیاں ہے؟ یا مراعات ملی ہوئی ہے؟
مراعات سب جانتے ہیں لیکن یاد رکھیں
بہت وقت گزر گیا رتھوڑا وقت رہ گیا ہے
عمران خان باہر نکلے گا
ان سب کیساتھ وہ عمل کریگا کہ یاد رکھیں گے
جو جو بھی اس میں ملوث ہے چھوڑے گا نہیں کسی کو
ممبران اسمبلی ملوث ہوں، وزرا ملوث ہوں یا وزیر اعلی ملوث ہوں چاہے کوئی بھی ہو
یاد رکھیں ایک شخص کو بھی زمین پر قدم رکھنے کی جگہ نہیں ملے گی
انہوں نے عمران خان کیساتھ کھلواڑ کیا ہے نہ کوئی اجلاس ہوتا ہے نہ کوئی ایجنڈا ہے
کیوں سٹبلشمنٹ خدا ہے؟ ان سے بات نہیں ہوسکتی؟
خیبر اورکزئی ہنگو ملاکنڈ جرگے میں ان سے بات نہیں ہوتی؟
لیکن
اس وقت کئی لوگ عمران خان کی رہائی نہیں چاہتے
عمران خان رہا ہوگیا تو ان سب کی لوٹ مار ، نوکریوں کی تقسیم سب ختم ہوجائیگی
میں حکومت کیخلاف نہیں ہوں میں حکومت کا حصہ ہوں
میری رائلٹی ہے ہنگو میں 15 ارب کا کام جاری ہے
لیکن میں پورے صوبے کی بات کروں گا
عمران خان نے تمہیں کچرے کے ڈھیر سے اٹھایا اور اس ایوان میں بٹھا کر عزت دی
پھر عمران خان کو بھولو نہیں
تین ماہ ہوگئے کوئی آواز نہیں اٹھا رہا نہ احتجاج نہ ریلی
خیبر پختونخوا میں احتجاج نہ کرو
یہاں دو تہائی اکثریت ہے
میں یہ بھی نہیں کہتا کہ اسلام آباد پر حملہ کرو اور 26نومبر دھرایا جائے
ببٹھو مزاکرات کرو
طریقہ نہیں آتا ہم سے پوچھ لو
فوجی کیساتھ بیٹھنا کوئی بری بات تو نہیں
سبب جانتے ہیں کہ ملک کون چلاتا ہے
زور نہیں ہے، ہمارا اختیار نہیں ہے ورکر کو بھی خراب کررہے ہو عوام کو بھی تکلیف دے رہے ہو
پھر منصب چھوڑ دو
استعفی دیدو
سائیڈ پر ہوجائو
دوسرے کو موقع دو
پی ٹی آئی رکن اسمبلی شاہ تراب نے خیبر پختونخوا حکومت کا پوسٹ مارٹم کردیا
ایک اعلی سطحی اجلاس تھا وزیر اعلی ہائوس میں جنوبی اضلاع سے متعلق
اس اجلاس میں افسران بالا نے کہا کہ صحت میں ہم نے 80 فیصد بہتری کرلی ہے
میں نے کہا کہ مجھے 10منٹ بات کرنے کا موقع دیں
میں نے افسران سے پوچھا کہ ڈیٹا کہاں سے ملا ہے؟ میں نے جو حالات دیکھے ہیں نہ ڈاکٹرز ہیں نہ ادویات ہیں ریفر ٹو پشاور 1947سے سنتے آرہے ہیں
پورے صوبے کی بات کروں گا ادویات کی جعلی بل بنتے ہیں دو لاکھ کی دوائی کے بدلے 10 لاکھ کا بل بنتا ہے
میرے ہسپتال سے 80لاکھ نکلے ہیں کوئی نہیں بتا رہا کہ یہ کہاں لگے ہیں
پورا مافیا ہے ایک چین بیٹھا ہے وزیر سیکرٹری تک سب ایک چین ہے ایک مافیا ہے
نوکری آتی ہے جس محکمہ میں بھی ہو ، میرٹ تو ہے ہی نہیں
یہ فضول بکواس ہے کہ میرٹ ہے
لوگ پوچھتے ہیں کہ ثبوت لائو
کہاں سے لائوں ثبوت
نواز شریف زرداری کے ثبوت کون لایا؟
میں پاگال ہوں کہ اپنے نام پر اثاثے بنائوں؟
ایسے لوگ ڈھونڈے جاتے ہیں جو پہلے سے اربوں کے مالک ہیں
تعلیم میں صفر کارکردگی ہے
ہنگو میں ایک ڈگری کالج ہے اس کی چاردیواری گر چکی ہے
محکمہ تعلیم ، سکولوں میں دراڑیں پڑچکی ہیں
جائو تو کہتے ہیں فنڈز نہیں ہے
کیوں بیٹھے ہوں پھر؟
گورنس صفر ہے
وزیر کی حیثیت نہیں ہے سیکرٹری ان کی بات نہیں مانتے
ممبران اسمبلی جاتے ہیں صرف ہاں ہاں کرتے ہیں
کیونکہ آج آپ کی اہمیت نہیں ہے
اوپر سے سب گندا آرہا ہے اس لئے یہ حال ہے
پی ٹی آئی رکن اسمبلی شاہ تراب نے خیبر پختونخوا حکومت کا پوسٹ مارٹم کردیا
ایک اعلی سطحی اجلاس تھا وزیر اعلی ہائوس میں جنوبی اضلاع سے متعلق
اس اجلاس میں افسران بالا نے کہا کہ صحت میں ہم نے 80 فیصد بہتری کرلی ہے
میں نے کہا کہ مجھے 10منٹ بات کرنے کا موقع دیں
میں نے افسران سے پوچھا کہ ڈیٹا کہاں سے ملا ہے؟ میں نے جو حالات دیکھے ہیں نہ ڈاکٹرز ہیں نہ ادویات ہیں ریفر ٹو پشاور 1947سے سنتے آرہے ہیں
پورے صوبے کی بات کروں گا ادویات کی جعلی بل بنتے ہیں دو لاکھ کی دوائی کے بدلے 10 لاکھ کا بل بنتا ہے
میرے ہسپتال سے 80لاکھ نکلے ہیں کوئی نہیں بتا رہا کہ یہ کہاں لگے ہیں
پورا مافیا ہے ایک چین بیٹھا ہے وزیر سیکرٹری تک سب ایک چین ہے ایک مافیا ہے
نوکری آتی ہے جس محکمہ میں بھی ہو ، میرٹ تو ہے ہی نہیں
یہ فضول بکواس ہے کہ میرٹ ہے
لوگ پوچھتے ہیں کہ ثبوت لائو
کہاں سے لائوں ثبوت
نواز شریف زرداری کے ثبوت کون لایا؟
میں پاگال ہوں کہ اپنے نام پر اثاثے بنائوں؟
ایسے لوگ ڈھونڈے جاتے ہیں جو پہلے سے اربوں کے مالک ہیں
تعلیم میں صفر کارکردگی ہے
ہنگو میں ایک ڈگری کالج ہے اس کی چاردیواری گر چکی ہے
محکمہ تعلیم ، سکولوں میں دراڑیں پڑچکی ہیں
جائو تو کہتے ہیں فنڈز نہیں ہے
کیوں بیٹھے ہوں پھر؟
گورنس صفر ہے
وزیر کی حیثیت نہیں ہے سیکرٹری ان کی بات نہیں مانتے
ممبران اسمبلی جاتے ہیں صرف ہاں ہاں کرتے ہیں
کیونکہ آج آپ کی اہمیت نہیں ہے
اوپر سے سب گندا آرہا ہے اس لئے یہ حال ہے
یہ ٹریفک اہلکاروں کو ہو کیا گیا ہے
ہاتھ میں پستول، گاڑی کا شیشہ توڑ ڈالا، شہری کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا، گالیاں دینا، گریبان پھاڑنا
قانون کے کس کتاب میں اس طرح کی تشدد کی اجازت دی گئی ہے
یا پھر کیا معاشرے میں عدم برداشت اور مایوسی اس بڑھتی چلی جارہی ہے کہ اپنے آپ پر قابو پانا مشکل ہوتا جارہا ہے
ہائے غریب پاکستانیوں کا پیسہ کہاں اڑایا جارہا ہے!!
جس ملک میں, 11 کروڑ لوگو کو دو وقت کا کھانا میسر نہیں اس ملک کے آفیسرز عوام کا پیسہ کس طرح اپنے ٹک ٹاک اور عیاشیوں میں اڑا رہے ہیں!!
اس بندے کو ائیڈنٹیفائی کے کھڑی سزا دینی چاہیے
اللہ نے دوبارہ سانس عطا کر دی!
ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنیشن کامران خان اپنے گاؤں جا رہے تھے کہ راستے میں نہر کے کنارے ایک دردناک منظر دیکھا۔ تین سالہ معصوم بچہ نہر میں ڈوب چکا تھا اور اہلِ خانہ اسے مردہ سمجھ کر غم سے نڈھال تھے۔
اسی لمحے کامران نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے بچے کو سی پی آر دینا شروع کر دی اور چند لمحوں کے بعد بچے کی سانس بحال ہو گئی