@weatherwalay There is an ongoing severe thunderstorm ⛈️ with very hi speed winds and heavy rain starting from around kot momon and still continuing as we approach Bhera on M2.
گرامین بنک کے بانی اور چھوٹے قرضوں کے ذریعے غربت کے خاتمہ کی تحریک کو ایک نئی جہت دینے والے ڈاکٹر محمد یونس کو سیاسی بنیادوں پہ چھ ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ۔ یہ سزا اس امر کا اعلان ہے کہ ہم ایک کم ظرف عہد میں جی رہے ہیں ۔ 83 برس کی عمر میں یہ شخص سوچتا تو ہوگا کہ اس نے نیکی کا قدم کیوں اٹھایا اور لاکھوں لوگوں کے چہروں پہ مسکراہٹ کے پھول کیوں سجائے ۔۔۔۔ لیکن نہیں بڑے لوگ نیکی کا صلہ دنیا سے نہیں اپنے خدا سے مانگتے ہیں اور ڈاکٹر محمد یونس بلا شبہ ایک بڑے انسان ہیں ۔
’عمران ریاض کو کس نے اغوا کیا یہ سب سے بڑا سوال باقی ہے؟ کیا کوئی پوچھے گا کہ وہ کہاں تھے اور کیسے باہر آئے اور انھیں اتنی دیر تک کس نے قید رکھا‘ سوشل میڈیا پر ردعمل۔۔۔
مزید تفصیلات: https://t.co/mfh6ndwvW9
A year ago, the climate crisis hit my country, #Pakistan. Here are my reflections published in @Telegraph on the lessons for health and why vaccination is critical to future climate mitigation. https://t.co/rZdJIYEj4j
ساری پوسٹ کو غور سے پڑھ لیں مہربانی کریں آپ سب کے لیے اسانی ہو جائے گی ۔
ٹویٹر x سے پاکستان میں پیسے کمانے کا مکمل طریقہ اسٹیپ بائی اسٹیپ
اسٹیپ نمبر ایک
500 فالورز پورے کریں
تین ماہ میں پچاس لاکھ ریچ پوری کریں
بلو ٹک سبسکرپشن لیں
اسٹیپ نمبر 2
پاکستان میں پیمنٹ لینے کیلئے نیشنل بینک آف پاکستان کا اکاؤنٹ بنوالیں
یا پھر Payoneer کا اکاؤنٹ بنالیں اس میں رسیونگ اکاؤنٹ ہانگ کانگ کا رکھیں
اسٹیپ نمبر 3
ہانگ کانگ کا وی پی این لگائیں تاکہ آپ کی لوکیشن ہانگ کانگ شو ہو
ہانگ کانگ اسٹرائپ ٹیکس فری ہے اس لئے زیادہ ڈاکومینٹس نہیں مانگتے
پھر ٹویٹر x کی سیٹنگ میں جائیں Monetisation پر کلک کریں
اگر آپ Ads Revenue Share کے لئے eligible ہیں تو اپلائی کردیں
اسٹیپ نمبر 4
ٹویٹر Stripe کے زریعے پیسے دیتا ہے جو کہ پیمنٹ گیٹ وے ہے یعنی اس کے زریعے پیسے بھیجے اور منگوائے جاتے ہیں
اپلائی کے بعد ٹویٹر آپ کو پیمنٹ سیٹنگ کیلئے Stripe پر بھیج دے گا
ملک ہانگ کانگ سلیکٹ کریں
موبائل نمبر پاکستان کا دیں
ای میل اپنی دیں
پھر بینک اکاؤنٹ میں نیشنل بینک آف پاکستان سلیکٹ کرکے بینک اکاؤنٹ دیں
ٹیکس فارم میں بھی تفصیلات پاکستان کی ہی دیں
ٹیکس نمبر کی جگہ شناختی کارڈ نمبر دیں
اب آپ کے جیسے ہی پیسے بنیں گے وہ اسٹرائپ میں آئیں گے وہاں سے آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوجائیں گے اس میں پانچ سے سات دن لگ سکتے ہیں
اے آئی سے آپ سالانہ 1 لاکھ ڈالرز سے 2 لاکھ ڈالرز کماسکتے ہیں
گوگل نے 9 فری اے آئی کورس لانچ کردئے ہیں
کورسز میں
فری سرٹیفکیٹس ملیں گے
نو مختلف اے آئی ٹولز سیکھنے کو ملیں گے
لاکھوں مالیت کے کورس فری ہیں
کورسز لینے کیلئے
مجھے فالو کریں (تاکہ آپ کو میسج کرسکوں)
لائک کریں
ریٹویٹ کریں
اور رپلائی میں Google لکھیں
خان صاحب کا عدالت کو دیا گیا مکمل بیان ایک ایک بات پڑھنے والی ہے۔۔
میری غیر موجودگی میں گواہان کا بیان ریکارڈ کرنے کا قانون اجازت نہیں دیتا۔۔
میری غیر موجودگی میں قلمبند کیاگیا گواہان کا بیان میرے سامنے نہیں پڑھا جاسکتا۔۔
گواہان کے بیانات قلمبند کرتے وقت فیصلہ جاری نہیں کیاگیا۔۔
سیشن عدالت کے فیصلے کے مطابق میرے مقرر نمایندہ کا موقف ٹھیک طرح نہیں لکھا گیا۔۔
سیشن عدالت خود سے میرا نمایندہ مقرر نہیں کرسکتی۔۔
عاشورہ کی چھٹیوں کے دوران گواہان کے بیانات مجھے مہیہ کیے گئے۔۔
17 جولائی کو مجھے گواہان کے بیانات کی کاپی فراہم کی گئی۔۔
31 جولائی کو مکمل دن میں عدالت رہا اور گواہان کے بیانات پڑھے۔۔
الیکشن کمیشن نے شکایت دائر کرنے کے لیے کسی کو نامزد نہیں کیا۔۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر شکایت 120 دنوں کے بعد دائر کی گئی۔۔
میں نے 2018-17 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔۔
میں نے 2018-19 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔۔
میں نے 2019-20 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔۔
میں نے 2020-21 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا جو بدنیتی پر مبنی تھا۔۔
اسپیکر قومی اسمبلی کے بھیجے گئے ریفرنس میں قانون کو غلط طریقہ کار سے سمجھا گیاتھا۔۔
مجھ پر ریفرنس میں 2017-18 اور 2018-19 کے اثاثہ جات کا زکر کیاگیا۔۔
الیکشن کمیشن نے اگلے سالوں کے بھی اثاثہ جات تک رسائی حاصل کی جو پی ڈی ایم کی بدنیتی ظاہر کرتی۔۔
2018-19 میں دائر جواب میں نہیں کہا کہ 58 ملین روپے نجی بینک میں جمع کروائے۔۔
قانون میں نہیں لکھا کہ تحائف کے نام جمع کروائیں جائیں۔۔
الیکشن کمیشن کے فارم بی میں تحائف کے نام لکھنے کا کالم موجود ہی نہیں۔۔
لسٹ بناتے وقت تحائف کی تفصیلات نہیں بنائی گئیں۔۔
لسٹ بناتے وقت کسی نے تحائف کی مالیت کی تفصیلات بھی کہ بنائیں۔۔
گواہان نے تحائف کی مالیت کا چالان بھی عدالت میں جمع نہیں کروایا۔۔
مجھ سے تحائف کے حوالے سے دستاویزات بناتے وقت رابطہ نہیں کیاگیا۔۔
صرف اتنا کہوں گا کہ تحائف کے حوالے سے دستاویزات کو سوالنامے میں نہیں لکھا جاسکتا۔۔
تحائف کے حوالے سے دستاویزات مہیہ کرنے والا بطور گواہ عدالت پیش نہیں ہوا۔۔
تحائف کے حوالے سے دستاویزات کو نہ تصدیق کیاگیا نہ اس کی شہادت لی گئی۔۔
کسی فرد نے تحائف کے حوالے سے دستاویزات کا بطور گواہ اقرار نہیں کیا۔۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے میں درج تحائف کے حوالے سے دستاویزات کا کبھی مجھ سے پوچھا ہی نہیں گیا۔۔
کیبینٹ ڈویژن کی جانب سے کوئی گواہ شکائت کنندہ عدالت میں نہیں لایا۔۔
دستاویزات 160 صفحات پر مشتمل ہیں لیکن شکائت کنندہ اس حوالے سےکوئی گواہ سامنے نہیں لایا۔۔
شکائت کنندہ نہ کوئی ایسا گواہ سامنے لایا جس کے سامنے تحائف کے حوالے سے دستاویزات تشکیل دیے گئے ہوں۔۔
تحائف کے حوالے سے دستاویزات کو بطور ثبوت عدالت میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔۔
الیکشن کمیشن نے فیصلہ جاری کرنے کے بعد نجی بینک کا ریکارڈ طلب کیا۔۔
الیکشن کمیشن نے فیصلہ جاری کرنے سے قبل مجھ سے کبھی نجی بینک کا ریکارڈ طلب کیاہی نہیں۔۔
مجھے سے الیکشن کمیشن نے کبھی نجی بینک کے حوالے سے تفصیلات پوچھی ہی نہیں۔۔
نجی بینک کا ریکارڈ قانون کے مطابق نہیں مانگا جا سکتا۔۔
نجی بینک کے حوالے سے ریکارڈ بنانے والا فرد بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کیاگیا۔۔
گواہ نے کہا کہ نجی بینک کا ریکارڈ کمپیوٹر سے نکالا گیا اور بعد میں گواہ نے کہا مجھے معلوم نہیں۔۔
بینک اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ میری غیر موجودگی میں الیکشن کمیشن نے طلب کی۔۔
الیکشن کمیشن نے فیصلہ جاری کرنے کے بعد بینک اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ مانگا۔۔
بینک اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ لینے اور جمع کروانے والا فرد بطور گواہ پیش نہیں ہوا۔۔
مجھ سے 2018-19 میں چار تحائف کا پوچھنا درست نہیں کیونکہ میرے پاس اسی سال یہ تحائف موجود نہیں تھے۔۔
شکائت کنندہ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ 2018-19 میں چار تحائف میرے پاس ہی تھے یا نہیں۔۔
میں نے 2018-19 میں غلط اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائے۔۔
2019-20 میں تین تحائف کا پوچھنا درست نہیں کیونکہ میرے پاس تحائف موجود نہیں تھے۔۔
شکائت کنندہ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیاکہ 2019-20 میں تینوں تحائف میرے پاس تھے یا نہیں۔۔
میں نے 2019-20 میں غلط اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائے۔۔
میں نے 2020-21 میں اپنے ظاہر اثاثہ جات میں قیمتی تحائف کا زکر کیا جس کے لیے 11 ملین روپے ادا کیے۔۔
میرے ٹیکس کنسلٹنٹ نے قیمتی تحائف کا زکر الیکشن کمیشن میں دائر اثاثہ جات میں کیا۔۔
توشہ خانہ تحائف زاتی استعمال کے لیے تھے جن کا زکر میرے ۔
1/2
@RealMariaButt Well done, prominent people must come froward and speak about this disaster. Anyone who happens to have experienced western culture living over there definitely knows what harm this devilish ideology has caused to their youth. They are disillusioned and confused about their ID