اصول کی بجائے شخصیات کے ساتھ کھڑے ہوں تو یہی ہوتا ہے جو اس ملک میں ہو رہا ہے اور اصول یہ ہے کہ اگر شیخ رشید صاحب کی گرفتاری غلط ہے تو ہیروئین کے جھوٹے مقدمے میں رانا ثناء اللہ کی گرفتاری بھی غلط تھی۔ اگر آج عمران ریاض کی گرفتاری غلط ہے تو مطیع اللہ جان کا اُٹھایا جانا بھی غلط تھا
تحریکِ انصاف کے دور میں رانا ثناء اللہ پر ہیروئین کا مقدمہ، وزیر داخلہ شہریار آفریدی کا اللہ کی قسم کھا کر مقدمہ سچا ہونےکا دعوی۔ پھر حکومت جانے کے بعد فوادچوہدری کا رانا ثناء اللہ کےخلاف مقدمہ جھوٹا ہونےکا اعتراف۔ کیا یہ سیاسی انتقام نہیں تھا؟ پی ٹی آئی نےاس پر کبھی معافی مانگی؟
“ہمارے دور میں جو جھوٹا مقدمہ بنا وہ میجر ��نرل نے بنایا۔ اب جو مقدمے بن رہے ہیں وہ پی ڈی ایم بنوا رہی ہے۔ ہمارے دور میں جو صحافی اُٹھائے جاتے تھے وہ نامعلوم افراد اُٹھاتے تھے، آج صحافیوں کو پی ڈی ایم پابند سلاسل کر رہی ہے”
۔
واہ !! صدقے تہاڈی منافقت توں!!
پرسوں تک قوم “جمہوریت بہترین انتقام” کے بیانئیے کے پیچھے تھے، کل قوم “ووٹ کو عزت دو” کی بتی کے پیچھے لگی رہی اور آج تک قوم “امریکی سازش” اور “حقیقی آزادی” کے نعرے لگا رہی تھی لیکن یہ سب نعرے، یہ سب بیانئیے ہوسِ اقتدار کی خاطر گھٹنے ٹیکنے پر اختتام پذیر ہوئے۔ رہے نام اللہ کا۔
ننانوے کا مارشل لاء۔۔۔2018 میں ایک سیاسی جماعت کے حکومت میں آنے کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا۔۔۔ اور پھر 2022 میں اُسی سیاسی جماعت کو حکومت سے نکالنے کے سازگار ماحول پیدا کرنا۔۔۔ سب کو مان لینا چاہئیے کہ یہ سب ��لط تھا اور یہی مداخلتِ بے جا پاکستان کی بدحالی کی اصل وجہ ہے۔