"بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے." القرآن
بعض اوقات زندگی کی مشکلات و پریشانیوں میں اتنا کھو جاتے ہیں کہ سمجھتے ہیں اس کا کوئی حل ہی موجود نہیں۔
تب ہمیں اللہ پاک کا فرمان یاد رکھنا چاہیے۔
نقوی صاحب اپنے غیر ضروری ٹویٹ کے بعد مشکل میں پھنس گئے ہیں
پاکستان کے سینئر ترین پارلیمینٹیرین جاوید ہاشمی صاحب کا محسن نقوی صاحب کو جواب
A sitting parliamentarian can be arrested only once the Speaker grants approval with reasons (read Rule 103). You cannot arrest a parliamentarian otherwise. If you had read the Constitution, you would know that even a residence provided by the Government to a parliamentarian constitutes part of the precincts of Parliament, and a parliamentarian cannot be arrested from those premises.
محترم وفاقی وزیر داخلہ
تو آپ کو یہ معلوم ہوتا کہ ممبران اسمبلی کو دیے گئے تحفظات کوئی نئی ایجاد نہیں، ہمیشہ سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ رہے ہیں۔اگر آپ کسی منتخب اور عوام کے نمائندہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے
پارلیمانی استحقاق، بشمول صوبائی اسمبلی کے ممبر کو کسی فوجداری الزام پر گرفتار کرنے سے پہلے اسپیکر کی پیشگی اجازت، خیبر پختونخوا کی کوئی نئی ایجاد نہیں۔ یہ استحقاق مقننہ کی آزادی کے تحفظ، ایگزیکٹو کو پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے سے روکنے، اور اسمبلی کو بغیر خوف و خطر کام کرنے کے لیے ہیں۔
یہ تحفظات طویل عرصے سے چلی آ رہی پارلیمانی روایات اور پہلے صوبائی قوانین پر مبنی ہیں۔ یہ کسی ایم پی اے کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے۔ الزام زدہ ممبر تحقیقات، مقدمہ اور عدالتی عمل سے مشروط رہتا ہے۔ اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی گرفتاری سیاسی انتقام یا ایوان میں خلل ڈالنے کی نیت سے نہ ہو۔
جب آپ رات کی تاریکی میں استثنیٰ (immunity) کا قانون پاس کروا لیں تو وہ آپ کے نزدیک بالکل درست ہے۔ جب آپ پارلیمنٹیرینز کو اغوا کریں، رشوت دیں اور فلور کراسنگ کروا کر صرف اپنے لیے قانون پاس کروا لیں تو وہ قانون بن جاتا ہے۔
لیکن جب تمام حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اتفاقِ رائے سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس کریں تو وہ قانون نہیں رہتا؟ ہاں نا کمال ہے؟ ذرا سوچیں کہ آپ کیا موازنہ کر رہے ہیں اور کیا ٹویٹ کر رہے ہیں۔
آج ہم جمہوریت پر اس سے کہیں زیادہ سنگین حملہ دیکھ رہے ہیں: بغیر وارنٹ، چہرے ڈھکے ہوئے افراد منتخب ایم این ایز، ایم پی ایز اور پی ٹی آئی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر اغوا کر رہے ہیں تاکہ پرامن احتجاج روکا جا سکے۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟ جب 24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کو گولیاں چلائیں گئیں اور قتل عام ہوئے تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ چند افراد کی چلائی ہوئی ریاست ہے، جہاں آئین محض کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔
آپ دنیا کو پاکستان کے بارے میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ امید دم توڑ رہی ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔ دریں اثنا اقتدار والے ہر قسم کے استحقاق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم یہاں رہیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ جیسے لوگ حقیقی جمہوریت آنے پر اس ملک سے چلے جاتے ہیں۔ اب پاکستان کے لوگ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے فیصلہ کریں گے کہ جمہوریت کیا ہے: عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔
آپ جن استحقاقات پر تنقید کر رہے ہیں، وہی آپ اور آپ کے ساتھی بھی مزے لے رہے ہیں۔ آپ میں سے کچھ نے پارلیمنٹ کے ذریعے خود کو استثنیٰ دلا رکھا ہے تاکہ کوئی ان سے سوال نہ کر سکے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا قانون ریاستِ مدینہ میں قابلِ قبول ہے؟ اگر یہ واقعی اسلامی ریاست ہے اور اس کا آئین اسلامی قانون کے تحت بنا ہے تو اسلامی تاریخ سے صرف ایک مثال بتائیں جہاں کسی فرد کو قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہو۔ بس ایک مثال دے دیں۔
آپ اور آپ والے اکثر سوچتے ہیں کہ آپ کے الفاظ ہی قانون ہیں۔ نہیں میرے عزیز! صرف وہی قانون غالب آئے گا جو اسلامی شریعت کے مطابق ہو۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو ریکارڈ قانون سازی پر ایک بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا — ایسی قانون سازی جو عوام کی حقیقی نمائندگی اور جمہوریت کا عکس ہے۔ اس اسمبلی کے قیام کے بعد کسی پچھلی اسمبلی نے اس قسم کی ترقی پسند قانون سازی نہیں کی۔ یہ اعزاز نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔ اس بڑی کامیابی اور پاکستان کے عالمی سطح پر اچھے نام کی تعریف کرنے اور خوشی منانے کے بجائے آپ نے میرا پاسپورٹ بلاک کر دیا اور کئی ایم این ایز و ایم پی ایز کو اس کانفرنس میں شرکت سے روک دیا۔ وہ کانفرنس 56 ممالک، 186 اسمبلیوں اور تقریباً 80 ہزار پارلیمنٹیرینز کی نمائندگی کرتی تھی۔ مگر آپ کی واحد ترجیح یہ ہے کہ اپنے غیر قانونی فارم 47 کی نام نہاد حکومت کو انسانی حقوق اور اخلاقیات کو پامال کر کے کیسے طول دیا جائے۔
میں نے پاکستان کی ہر اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے منظور شدہ قانون کے مطابق آئی جی پی اور اضافی چیف سیکرٹری (ہوم) کو خط لکھا کہ کسی بھی گرفتاری سے پہلے میرے دفتر کو مطلع کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔ یہ میرا آئینی فرض ہے۔ ایوان کے محافظ ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے لوگ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں ان کے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کروں۔
Honourable Federal Interior Minister, If you had been part of an elected and people’s representative parliamentary system, you would have known that the protections given to Members of the Assembly are not a new invention; they have always been part of parliamentary traditions and national as well as provincial laws.
Parliamentary privileges, including the requirement of the Speaker’s prior permission before the arrest of a Member of the Provincial Assembly on a criminal charge, are not a novel invention of Khyber Pakhtunkhwa. They exist to protect the independence of the legislature, prevent the executive from using police powers to intimidate or silence elected representatives, and ensure that the Assembly can function without fear or obstruction.
These safeguards are rooted in long-standing parliamentary practice and earlier provincial legislation. They do not place any MPA above the law. An accused member remains subject to investigation, prosecution, and the full process of the courts. The Speaker’s role is limited to ensuring that any proposed arrest is not motivated by political vendetta or designed to disrupt the House.
When you pass an immunity law in the darkness of the night, that seems perfectly fine to you. When you kidnap parliamentarians, bribe them, and force them into floor-crossing just to pass a law solely for yourselves, that is considered law.
But when all government and opposition parties, by consensus, pass a law in the Khyber Pakhtunkhwa Assembly, that is suddenly not a law? Amazing, isn’t it? Just think about what you are comparing and tweeting.
Today we are witnessing a far graver assault on democracy: face-covered individuals, without warrants, raiding homes and abducting elected MNAs, MPAs, and PTI leadership solely to prevent peaceful protest. Is this democracy? When bullets were fired and massacres took place on 24 November, 9 May, and 25 May, it became clear that this is not democracy but a state run by a handful of people, where the Constitution has been reduced to a mere formality.
What message are you sending to the world about Pakistan? People are leaving the country. Hope is diminishing. Investors are afraid. Meanwhile, those in power continue to enjoy every privilege. We will remain here. History teaches us that people like you leave this country when true democracy arrives. The people of Pakistan will now decide, once and for all, what democracy truly means: government of the people, by the people, and for the people.
The very perks and privileges you criticise are the ones you and your colleagues are also enjoying. Some among you have even secured immunity through Parliament so that no one can question them. Do you consider such legislation acceptable in a Riyasat-e-Madina? If this is truly an Islamic state whose Constitution is framed under Islamic law, then kindly cite a single example from Islamic history where any individual was granted personal immunity from the law. Please quote even one.
You and those with you often act as if your words are the law. No, my dear! The only law that shall prevail is the one that is in accordance with Islamic Shariah.
A few days ago, the Speaker of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly was conferred a prestigious international award for record legislation — legislation that truly reflects the will of the people and the essence of democracy. Since the formation of this Assembly, no previous house has enacted such progressive laws. This recognition is a matter of pride not only for Khyber Pakhtunkhwa but for Pakistan as a whole. Instead of celebrating this achievement and the good name Pakistan earned on the global stage, you blocked my passport and prevented several MNAs and MPAs from attending the conference. That conference brought together representatives from 56 countries, 186 assemblies, and nearly 80,000 parliamentarians. Yet your only priority remains how to prolong your illegal Form-47 so-called government by trampling every principle of human rights
بلوچستان میں اب تک پانچ فوجی اپریشن ہو چکے ہیں سب سے پہلا فوجی اپریشن لیاقت علی خان کے دور میں ہوا۔ سب سے بڑا فوجی اپریشن بھٹو نے کیا۔
1970ء کے عام انتخابات کے بعد بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کی مخلوط صوبائی حکومت قائم ہوئی جس کے وزیراعلیٰ عطاء اللہ مینگل تھے فروری 1973ء میں اسلام آباد میں عراقی سفارت خانے سے بڑی مقدار میں مبینہ طور پر بلوچ باغیوں کے لیے لایا جانے والا اسلحہ برآمد ہوا اس واقعے کو جواز بنا کر بھٹو حکومت نے بلوچستان کی منتخب صوبائی حکومت کو برطرف کر کے وہاں گورنر راج نافذ کر دیا اس سیاسی برطرفی کے جواب میں نواب خیر بخش مری اور عطاء اللہ مینگل کی قیادت میں مری اور مینگل قبائل نے پہاڑوں کا رخ کیا اور مری پیپلز لبریشن فرنٹ (BPLF) کے بینر تلے فوج کے خلاف ایک بڑی گوریلا جنگ چھیڑ دی یہ آپریشن مری اور جھالاوان کے علاقوں سے شروع ہو کر ڈیرہ غازی خان (پنجاب)، سبی، دادو (سندھ) اور نوشکی تک پھیل گیا حکومتِ پاکستان نے اس شورش کو کچلنے کے لیے جنرل ٹکا خان کی قیادت میں تقریباً 80,000 سے زائد فوجی جوان تعینات کیے۔ یہ آپریشن اس لحاظ سے بھی سب سے بڑا تھا کہ اس میں پہلی بار باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستان ایئر فورس کے جیٹ طیاروں اور لڑاکا ہیلی کاپٹروں (بشمول ایران کی طرف سے فراہم کردہ کوبرا ہیلی کاپٹروں) کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا۔
ایران کے شاہ نے بھی مکران سرحد پر بلوچ قوم پرستوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاکستان کی بھرپور مالی اور عسکری معاونت کی۔ چار سال تک جاری رہنے والے اس معرکے میں ہزاروں مری اور مینگل قبائل کے جنگجو اور عام شہری مارے گئے، جب کہ سیکڑوں فوجی جوانوں کی جانیں بھی گئیں۔ یہ آپریشن ستمبر 1977ء میں اس وقت ختم ہوا جب جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا، آپریشن روکنے کا حکم دیا اور حیدرآباد ٹریبیونل جیل میں قید تمام بلوچ رہنماؤں کو عام معافی دے کر رہا کیا
اگرچہ 1973ء کا آپریشن روایتی جنگ کے لحاظ سے سب سے بڑا تھا، لیکن 2004ء اور 2006ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں شروع ہونے والا پانچواں آپریشن ملکی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑ گیا۔ اس آپریشن کے دوران اگست 2006ء میں نامور بلوچ رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی ایک فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہلاکت ہوئی، جس نے بلوچستان کی شورش کو ایک نئے اور زیادہ متشدد مرحلے میں داخل کر دیا جس کی بازگشت آج بھی جاری ہے۔ بلوچستان میں فوجی آپریشنز کی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ جب بھی سیاسی اور آئینی مذاکرات کا راستہ بند ہوا، وہاں بندوق نے جگہ لے لی۔1948ء کا پہلا آپریشن ملکی حدود کے تعین اور رٹ قائم کرنے کی کڑی تھا، جب کہ 1973ء کا سب سے بڑا آپریشن وفاق اور صوبے کے مابین شدید سیاسی عدم اعتماد کاشاخسانہ تھا، جس کے زخم آج بھی بلوچستان کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ سوال اُٹھتا ہے کہ فوجی اپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتے اگر مسئلے کا حل ہوتے تو اج بلوچستان امن کا گہوارہ ہوتا۔ حال ہی میں کوئٹہ جانے والے پترکاروں نے رپورٹ کیا کہ ہم کوئٹہ کینٹ سے رات کو باہر نہیں نکلے۔ اور نہ ہمیں جانے دیا گیا۔ مسائل کا حل صرف مکالمے میں ہے سیاست دان ہی مسائل کا حل نکالتے ہیں اور وہ دیرپاء ہوتا ہے تاریخ تو یہی بتاتی ہے باقی آپ کی مرضی ہے
آئیے ایک عہد کریں، جو ہماری بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے!
اکثر ہم یہ گلہ کرتے ہیں کہ ہم تو اس ملک اور معاشرے کو سنوارنا چاہتے ہیں، مگر طاقت کے مراکز نہ آئین کو مانتے ہیں، نہ قانون کو، نہ جمہوریت کو اور نہ ہی اخلاقیات کی کوئی پرواہ کرتے ہیں، اسی لیے یہ نظام سدھرنے کا نام نہیں لے رہا، یہ تو جہد مسلسل ہے، وقت لگتا ہے۔ لیکن جو کچھ ہم فوراً اپنے اختیار میں کر سکتے ہیں، اس کے لیے کسی بڑی تبدیلی کا انتظار کیوں کریں؟ چلیے، جو ہمارے بس میں ہے، شروعات وہیں سے کرتے ہیں۔ خود سے ایک واضح اور غیر لچکدار اخلاقی ریڈ لائن مقرر کرتے ہیں۔
سیاسی وابستگی، پسند و ناپسند اور جماعتوں کی حمایت ہر شہری کا مسلمہ آئینی و جمہوری حق ہے، اور ملک کے فکری ارتقا کے لیے اس کا کھل کر اظہار بھی ضروری ہے۔ سیاستدانوں، طاقتور حلقوں یا مفاد پرستوں کی اپنی مجبوریاں، صحافیوں کی ذاتی دوستیاں، لالچ یا خوف ہو سکتے ہیں، اس لیے شاید وہ کبھی اپنے لیے یہ اخلاقی حد مقرر نہ کریں لیکن بطور شہری اور معاشرے کے باضمیر فرد کے، یہ لکیر ہمیں خود کھینچنی ہوگی۔
کل عمران خان اور ان کی فیملی پر گھٹیا کیچڑ اچھالا گیا، جس کی مہم طاقت کے مراکز سے شروع ہو کر سرکاری ٹی وی تک چلی، اور اس میں سیاستدان، صحافی اور دیگر گھٹیا عناصر بھی برابر کے شریک رہے۔ آج اسی مکروہ کھیل کا نشانہ محترمہ مریم نواز شریف اور ان کے خاندانی رشتے بن رہے ہیں۔ یہ سلسلہ اب ہر صورت رکنا چاہیے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، سخت سے سخت تنقید کیجیے، دوٹوک سوال اٹھائیے، سیاسی فیصلوں اور پالیسیوں پر کڑی گرفت کیجیے، لیکن جب بات مقدس رشتوں، خواتین اور ذاتی و خاندانی معاملات پر آئے، تو ہر دور کے میاں داؤد کی ایسی سطحی اور غلیظ گفتگو کی، تمام تر سیاسی و گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر، ایک آواز میں مذمت کی جانی چاہیے۔ ہمیں ایسے کرداروں کو مسترد کرکے یہ باور کرانا ہوگا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر اخلاقیات سے عاری اس گند کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
سنہ 71 ہوتا ہے فوج بھاڑے کے ٹٹو کو جہازوں میں بٹھا کر مشرقی پاکستان لے جاتی واپسی پر وہ اخبارات میں شہ سرخیاں چھاپتے کہ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان والوں کے لیے محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے حقائق قوم کے سامنے نہ رکھتے جب مشرقی پاکستان الگ ہوا تو ٹٹو اپنا تھوکا ہوا چاٹنے پر مجبور ہوئے کہیوں نے تو کھلے عام کہا کہ غلطی ہماری تھی اسی قبیل سے تعلق رکھنے والے ٹٹو دو دن سے بوٹ کے تسموں کے ساتھ لٹک کر ایک گردان کر رہے ہیں کہKP میں سہیل آفریدی گیا۔ یہ بے شرم ٹٹو کل کو تھوکا ہوا چاٹیں گے۔
نوٹ! ان ٹٹو میں چھوٹے قد کے بونے، زنانہ مردانہ آواز والے بھی شامل ہیں۔
اگر کوئی فوجی اہلکار یا افسر کسی عام شہری کو قتل کر دے تو کیا اسے فوراً گرفتار کرنے کی اجازت ہوتی ہے یا فوجی حکام سے اجازت لینا ضروری ہوتی ہے؟ کیا جب مشرف دور میں بلوچستان میں ایک کپتان پر خاتون ڈاکٹر کے ریپ کا الزام لگا تھا تو اسے فوراً پولیس کے حوالے کیا گیا تھا؟ پورا صوبہ آگ میں جھونک دیا لیکن اپنے کپتان کو بچا لیا گیا تھا
گزشتہ ڈھائی سال میں تحریک انصاف کے پاس صوبائی حکومت آئی جس کی وجہ سے جماعت سہل پسندی کا شکار ہو گئی۔ بہت سارے سیاسی رہنما ایک حکومت مل جانے کی وجہ سے خیبر پختونخواہ کو محفوظ جنت سمجھنے لگے۔ اگر یہ حکومت چھین لی جاتی ہے تو پی ٹی آئی قیادت ایک بار پھر یہ فیصلہ لینے پر مجبور ہوگی کہ ہمیں دوبارہ اپنے حق کے لیے لڑنا ہے جس کی وجہ سے عوام کو پھر سے متحرک کیا جائے گا، یوں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے مسائل بڑھنا شروع ہوں گے۔ یہ آئین قانون کو اپنی مرضی سے موڑنے کا انتظام آہنی عدالت کی صورت پہلے ہی کر چکے ہیں تو جو قیامت انہوں نے کل نازل کرنی ہے وہ آج کر لیں
سہیل آفریدی دہشت گردوں کا سہولت کار ہے یا نہیں اس کا تعین ہونا باقی ہے لیکن گزشتہ سال وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے الزام لگایا تھا کہ جب خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردوں کو پکڑتی ہے تو پاکستان کی دو خفیہ بڑی ایجنسیاں دہشت گردوں کو چھڑانے آ جاتی ہیں کہ یہ ہمارے لوگ ہیں، اس الزام پر آج تک وضاحت نہیں دی گئی، سہیل آفریدی پر الزام لگانے کے ساتھ اگر اس پر بھی کچھ وضاحت جاری کر دیں تو معتبر ذرائع کی بہت نوازش ہوگی
عمران خان جیل میں ہیں، لڑ رہے ہیں، نہیں جھک رہے، ڈیل نہیں کر رہے، اس پر تو بہت بات ہوتی ہے! لیکن ان باقی رہنماؤں پر بہت کم بات ہوتی ہے جو عمران خان سے بھی زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں اور وہ بھی کسی قسم کی ڈیل کرنے کو تیار نہیں۔
مکمل پوڈکاسٹ کا لنک کمنٹس میں موجود
ہم اپنے بڑوں سے انسپائر ہوتے ہیں اور جس طرح انہوں نے پالا اور فیملی کے اکٹھے رہنے اور ساتھ کھڑے ہونے کی امپورٹنس دی۔ چھوٹے سے ہی یہ سیکھا تھا، خاص طور پر زمان پارک میں جہاں سارے کزنز اکٹھے پلے بڑھے۔
زمان پارک کے بعد اپر مال آئے تو پڑوسی بھی تھے؛ بہنیں، ان کا بھائی اور ہم کزنز بہت کلوزلی نٹ ہیں۔
ماموں کے بچے بھی ہوں تو ہم ویری کلوزلی نٹ ہیں، نو میٹر واٹ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے، اسٹینڈ لیتے اور ساتھ نہیں چھوڑتے۔
شیر شاہ خان
@KhanShershah
عمران خان کی رہائی آدھے گھنٹے میں ہو جائے گی اگر عدالتیں انصاف کرنا شروع کر دیں۔
جب اڈیالہ جیل کا سپریڈنٹ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے ردی کی ٹوکری میں پھینک دے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل نا کیا جائے تو آئین پاکستان پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے اور وہ احتجاج ہم کریں گے۔
وزیر اعلی سہیل آفریدی
جن کے بدن پر وردی ہو گی، ہم اُن کی عزت کرینگے، وہ غیر قانونی و غیر آئینی کام کرینگے تو ہم اُنہیں زبان سے بھی روکیں گے، بول کر بھی روکیں گے، گلے لگا کر بھی روکیں گے، ہم اُن کیخلاف نہ ڈنڈا اُٹھائیں گے، نہ پتھر نہ ڈنڈا، ہم اُنہیں اُن کی ڈیوٹی کی یاد دلائیں گے، سُہیل آفریدی
دباؤ اپنی جگہ ، کچھ غلطیاں کمزوریاں اپنی جگہ ، سہیل آفریدی نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ باڈی لینگوئج بھی قابل دید ہے۔ گزشتہ روز پشاور اور آج چارسدہ موبلائزیشن کو بھی بریک نہیں لگائی اور ساٹھ ہزار اہلکار اسلام آباد و گرد و نواح بلوا کر فوج کو بند گلی میں بھی پھنسا دیا ہے۔
عمران خان کی تحریک کا نچوڑ ہی یہ ہے کہ ایک ایسا شخص وزیراعلی ہے جو عمران خان کے خاندان سے نہیں۔ جو روایتی سیاستدان نہیں۔ جو کوئی جاگیردار یا نو دولتیا نہیں۔ مڈل کلاس ہے اور نوجوان ہے۔ سہیل آفریدی کی کامیابی ہمارے خوابوں کی تعبیر ہے۔
مجھے سمجھ نہیں آتی PTI کا کونسا مطالبہ ناجائز ہے
عمران خان کا علاج کروایا جاۓ، عدالتوں میں مقدمے لگیں اور بہنوں کی ملاقات ہو، اس میں ناجائز مطالبہ کیا ہے
مظہر عباس