🟥2013 سے 2026 تک کا سفر یہی بتاتا ہے: کاتے جاؤ، کماتے جاؤ، اڑاتے جاؤ اور یہی سلسلہ جاری ہے۔
🟥 ماضی میں دعوے کیے گئے تھے کہ نوے دن میں کرپشن ختم کر دی جائے گی، لیکن تیرہ سال گزرنے کے باوجود کرپشن ختم نہیں ہوئی بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔
🟥 ایک ایسا ضلع جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جہاں منرلز کی مد میں رائلٹی کی صورت میں پیسہ آتا ہے، وہاں لوکل گورنمنٹ کے ذریعے 84 کروڑ روپے نکالے گئے۔
🟥 اگر اس میں وزیراعلیٰ اور لوکل گورنمنٹ کے وزیر مینا خان صاحب ملوث نہیں ہیں تو پھر یہ ٹرانسفر کون کرتا ہے؟
🟥 ایک گھنٹے کے اندر تین ٹرانسفر ہوئے۔ پہلے انہیں او ایس ڈی بنایا گیا، پھر شبقدر میں تعیناتی کی گئی، اور آج تک وہ تحصیل چارسدہ میں تعینات ہیں۔
🟥 17 مارچ کو انہیں دوبارہ ٹرانسفر کیا گیا۔ اسی دن انہیں او ایس ڈی بنایا گیا، اور ایک گھنٹے بعد تحصیل شبقدر میں ٹی ایم او لگا دیا گیا۔ یوں ایک گھنٹے کے اندر تین ٹرانسفر کیے گئے۔
🟥 تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ روپے اس ٹی ایم او کا حصہ بنتا ہے، جبکہ باقی رقم میں دیگر افراد کا حصہ شامل ہے، جن میں شاہد خٹک، سہیل آفریدی اور مینا خان شامل ہیں۔
🟥 فروری کے مہینے میں ساڑھے چھ ارب سے لے کر سات ارب روپے تک کے ٹینڈرز ہوئے، جن میں زیادہ تر رقم موبلائزیشن کی مد میں نکلوائی گئی۔
🟥 ویسے تو پورے صوبے میں کرپشن عام ہے، لیکن موجودہ حالات میں کرک اس حوالے سے سرفہرست ہے۔
🟥 اگر وزیراعلیٰ اور مینا خان اس میں ملوث نہیں تو پھر یہ سب کیسے ہو رہا ہے؟ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں۔
🟥 یہ تینوں افراد ایک گروپ کی شکل میں جانے جاتے ہیں، اور افسوس کی بات ہے کہ ایسے لوگ حکمران بن گئے ہیں جن کی واحد مہارت کرپشن سمجھی جاتی ہے۔
🟥 حال ہی میں ایک ڈاکٹر کو لاکھوں کی کرپشن پر گرفتار کیا گیا، لیکن کروڑوں کی کرپشن کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نظر نہیں آتی۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جائنٹ سیکرٹری حامد طوفان کی پختونخوا اور کرک میں مبینہ بدترین کرپشن کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو
#ANP | #ANPPakhtunKhwa
Pakistan has once again proved that if it puts its heart into something, the sky is the limit. Heartiest felicitations to PM @CMShehbaz, DPM @MIshaqDar50, and Field Marshal Asim Munir for their efforts in bringing about peace. I urge them to apply the same dedication and clarity of purpose toward achieving peace and economic prosperity for the country in general, and Pukhtunkhwa in particular. Only a peaceful, prosperous Pakistan can attain its rightful place on the world stage in the truest sense.
چالیس سال پہلے سچ بولنے پر ہمارے اکابرین کو “کافر” اور “غدار” کہا گیا، ان پر مذہبی اور سیاسی فتویٰ لگائے گئے۔عوامی نیشنل پارٹی
نے ہمیشہ انتہاپسندی کے خلاف، انصاف اور آئین کی حمایت کی۔
وقت نے ثابت کیا کہ یہی نظریہ حق پر تھا، یہی نظریہ آج بھی قوم کا مستقبل روشن کر سکتا ہے۔
آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو کشمکش جاری ہے، اس کا پس منظر پچاس برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ ان حالات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان ابواب کو پڑھنا ضروری ہے جنہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ چار نسلوں سے ہم چیخ چیخ کر اپنی ریاست کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، مگر ہماری آواز کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
باچا خان نے برملا کہا تھا کہ یہ روس اور امریکہ کی جنگ ہے، یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔ مگر نہ قوم نے اس بات پر توجہ دی اور نہ ہی مقتدر حلقوں نے۔ پھر ولی خان نے خبردار کیا کہ اگر آپ کسی کے گھر بارود بھیجیں گے تو بدلے میں آپ کو پھول نہیں ملیں گے، مگر انہیں "روسی ایجنٹ" قرار دے دیا گیا۔ اسفندیار ولی خان نے اسمبلی کے فلور پر ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میرے بچے کو کارتوس اور کلاشنکوف نہیں، قلم دیا جائے؛ اسے خودکش جیکٹ نہیں، اسکول بیگ دیا جائے۔ مگر انہیں "امریکی ایجنٹ" کہہ کر رد کر دیا گیا۔
لاکھوں خدائی خدمتگاروں، پختون قوم پرستوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے باشعور لوگوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر ریاست کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تشدد کا راستہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
آج جو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں، یہ کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں۔ ہم نے جو بویا تھا، آج وہی کاٹ رہے ہیں۔ انتہاپسندی کے بیج بوئے گئے، نفرت کو ہوا دی گئی، اور پوری ایک نسل کو ذہنی طور پر جنگ اور تشدد کے بیانیے کے سپرد کر دیا گیا۔ اگر خدانخواستہ یہ آگ آج دوبارہ بھڑک اٹھی تو پھر یہ کسی سرحد، کسی قومیت اور کسی ریاست کی تمیز نہیں کرے گی۔
ہم آج بھی یہ مؤقف دہراتے ہیں کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی امن پسند ہے۔ جو جنگ لڑی جا رہی ہے، وہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کی جنگ نہیں بلکہ عالمی قوتوں کی جنگ ہے، اور اس کے لیے اس خطے کو برسوں سے میدان بنایا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں قائم حکومت واقعی عوام کی مرضی کی نمائندہ ہے؟ کیا پاکستان اور خصوصاً پختونخوا میں بیٹھی حکومتیں حقیقی معنوں میں عوام کی رائے سے وجود میں آئی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان حکومتوں کے قیام میں عوامی منشا سے زیادہ دیگر قوتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔
میں آج بھی دونوں اطراف کے مقتدر حلقوں سے یہی گزارش کروں گا کہ جو بھی پالیسیاں بنائی جائیں، ان میں عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ سرحد کے دونوں جانب کے عوام جنگ نہیں چاہتے، وہ امن، روزگار، تعلیم اور باعزت زندگی چاہتے ہیں۔
اگر آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں تو اپنی مسلمانی کی خاطر امن کو ترجیح دیں۔ اگر آپ پختون ہیں تو پختونولی کی روایات کو یاد رکھیں، جن کی بنیاد عزت، رواداری اور جرگے کے ذریعے مسائل کے حل پر ہے۔ اگر آپ افغان ہیں تو افغانیت کا تقاضا بھی امن ہے، اور اگر آپ پاکستانی ہیں تو پاکستانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو جنگ کی آگ میں نہ جھونکا جائے۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں بنی۔
میں اپنی قوم سے بھی یہی کہوں گا کہ اس وقت میرے بس میں جو ہے، میں وہ کر رہا ہوں۔ اگر اس سے بڑھ کر کچھ کر سکتا تو ضرور کرتا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہوش، صبر اور شعور کا دامن نہ چھوڑیں اور نفرت کے بیانیے کا حصہ نہ بنیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔