کمیٹیوں کی جنگ میں پشتونخواہ کی روزمرہ حکومت کیسے چلے گی۔ گورنر کیسے مشیران سے صلاح لے گا۔ پھر فائل اسلام باد اس کمیٹی کے پاس جائے گی جن کو یا تو پشاور کا کچھ پتہ نہی یا امیر مقام اپنے روڑے اٹکائے گا۔ کسی کو کچھ سمجھ نہی آ رہی۔ فیصل کنڈی فل حال لکھے ہوے صفحوں سے اٹک اٹک کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے بول رہا ہے۔ یہ وہ پھولوں کی سیج والا تخت تو نہی لگ رہا جس کے اس معصوم نے خواب دیکھے تھے۔ وہ بھی الیکشن ہار کر پچھلے دروازے سے گھس کر۔
وہ راستہ مجھے آتاہے، اس میں آپ کو صرف ہاتھ جوڑنے پڑتے ہیں، جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں، اپنی عزت نفس قربان کرنے پڑتی ہے، وہ راستہ بہت آسان ہے مجھے بھی آتا ہے بہت اچھی طرح آتا ہے۔۔۔
مریم صفدر بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں، وہ راستہ انکا خاندانی راستہ ہے، پورا خاندان اسی راستے سے سیاست میں آیا اور اقتدار پر قابض ہوا۔
اعظم نذیر تارڑ خود پہلی بار سینیٹر بنا ہے اور وہ 2022 سے اب تک اس نے صرف سپریم کورٹ اور آئین کو تباہ و برباد کرنے کی محنت کی ہے
یہ سارا نون لیگی تارڑ خاندان ہی دونمبری اور بےشرمی کی زندہ مثال ہے
مارچ 2017 میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا آغاز ہوا۔ لاگت 10 ارب بتائی گئی جو 2019 تک 70 ارب تک جا پہنچی۔ مگر دہشتگرد رکے نہ سمگلنگ۔ کیا اس ناکامی کے ذمہ دار افراد اور اداروں کیساتھ بھی وہی سلوک کیا جاسکتا ہے جو خیبرپختونخوا حکومت اور اسمبلی کیساتھ کیا گیا؟
جناب بلاول بھٹو زرداری کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان تحریک انصاف صوبوں کے اس حساس معاملے پر سندھ کی تقسیم کے حق میں ووٹ دے بیٹھے۔ اور پھر پارلیمان کے اسی ایوان میں کھڑے ہو کر یہ دعویٰ کرے کہ 'یہ اقدام سندھ میں سیاسی و معاشی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ناگزیر تھا، اور یہ کوئی غیر آئینی عمل نہیں بلکہ آئینی ترمیم کے ذریعے کیا گیا ہے۔' اس کے بعد کیا آپ اپنے شہید نانا اور شہید والدہ کے مزار پر گڑھی خدا بخش جانے کے بھی قابل رہیں گے؟ اگر پی ٹی آئی نے یہ آئینی 'آئٹم بم' چلا دیا، تو پھر آپ سندھ کی عوام کو کیا منہ دکھائیں گے؟
چار کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعلی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ۔۔ یہ رہی میڈیا کو جاری ٹکرز میں کہانی 👇
سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لینے کی واقعے کی اندرونی کہانی
سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لینے کیلیے 11اکتوبر دن 12 بجےکارروائی شروع ہوئی۔۔ سہیل آفریدی کو پولیس کے اعلیٰ افسرسمیت(سی سی پی او پشاور) ٹیم نے حفاظتی تحویل میں لیا۔۔۔ سہیل آفریدی کمرے میں اکیلے تھے، کمرے کے دروازے کو توڑا گیا
سہیل آفریدی کو نہ ہتھکڑی لگائی گئی نہ ہی قیدیوں کی گاڑی میں بٹھایا گیا۔۔انکو احترام سے گاڑی میں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔۔ سہیل آفریدی افسران کےساتھ کمرےمیں 45 منٹ تک موجود رہے
پولیس افسر (مبینہ طور پرسی سی پی او)کا سہیل أفریدی سے مکالمہ
آپ لانگ مارچ کے لیے کہاں تک جانا چاہتے تھے؟
لانگ مارچ اسلام آباد لےکر نہیں جانا تھا،سہیل آفریدی کا جواب ۔۔رات کومولانا فضل الرحمان کی حکومت سےبات ہوگئی تھی۔۔وفاقی حکومت عمران خان سےملاقات اور اسپتال منتقل کرنےکےمطالبات مان گئی تھی۔۔پارٹی رہنماؤں سےبات ہوئی تھی، ہدایت ملتےہی لانگ مارچ ختم کرنےکا اعلان کرناتھا، سہیل آفریدی
پولیس ایکٹ میں ترمیم کرنے کا مقصد کیا تھا؟ پولیس افسر کا سہیل آفریدی سےسوال
پولیس ایکٹ میں ترمیم نہیں کرنا چاہتا تھا،دباو ڈالنےکیلئےایسا کیا گیا، سہیل آفریدی کا جواب
دروازہ کس کا ٹوٹا ہے قانونی اور آئینی حیثیت کا تعین بھی اسی حساب سے ہوگا
سہیل آفریدی کا دروازہ گھر کا نہیں بلکہ صوبے کے وزیراعلی کے گھر کا دروزہ وزیراعلی ہاؤس میں توڑا گیا ہے
آئین بڑا یا دروازہ ؟
ماضی قریب میں مختلف دروازے توڑے گئے
کپتان صفدر کے ہوٹل کا دروازہ
سابق وزیراعظم عمران خان کا گھر
سابق وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ کا گھر
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے کمرے کا دروازہ
ان میں سے 3 دروازے ٹوٹنا مکمل جمہوری، آئینی عمل تھا، بس ایک دروازہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی تھا
Interesting: This is a picture from Bara District Khyber. CCPO is accompanied by DPO Waqar. Ex-CM Sohail Afridi issued his suspension orders & an inquiry on September 29 for 2 custodial killings. IG Police did not budge and here we can see him back to the field. IG wasn't listening to his CM and federal Govt blames Afridi for being reticent on terrorism.
بلاول صاحب اگر اصل طاقتور کا نام لیتے ہوئے ڈرتے ہیں تو بھٹو کے نواسے کو اتنا بزدل بھی نہیں ہونا چاہیے تھا کہ وہ ظلم کا ذمہ دار ظالم کے بجائے مظلوم کو قرار دے دے، اگر گورنر راج کی ذمہ دار ریاست کے بجائے PTI ہے تو پھر 5 جولائی 1977 کے مارشل لا کا ذمہ دار بھی ضیا الحق نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو تھے، 1979 میں بھٹو کی پھانسی کا ذمہ دار بھی ضیا الحق نہیں بلکہ خود بھٹو تھا، بینظیر بھٹو کی جلاوطنی کی ذمہ دار بھی وہ خود تھیں نہ کہ انکے بدترین مخالف، محترمہ نصرت بھٹو پر ہونیوالے مظالم کی ذمہ داری بھی ضیاالحق پر نہیں بلکہ خود نصرت بھٹو پر عائد ہوتی ہے، محترمہ کی دو بار حکومت گرانے کے ذمہ دار بھی اُسوقت کے مہم جو نہیں بلکہ محترمہ خود تھیں، آصف زرداری کی گرفتاری اور قید بھی آصف زرداری کے اپنے اعمال کی وجہ سے تھی نہ کہ اُس دور کے حکمرانوں کی وجہ سے اور کیا راولپنڈی میں محترمہ کی شہادت کی ذمہ دار بھی محترمہ خود تھیں یا مشرف، بیت اللہ محسود اور کوئی اور؟ افسوس کہ جس سیاستدان کے ماضی میں خود اتنے صدمے ہوں اُسے بھی اقتدار کی چکا چوند بے رحم بنا دیتی ہے
چراغ سب کے بجھیں گیں ہوا کسی کی نہی۔ پشتونخواہ میں ٹیکنوکریٹ تجربے کے بعد کیا اس کا بقول ؤاڈا دوسرا تیسرا پارٹ باقی پاکستان میں چلے گا۔ خطر ناک بعد یہ ہے کہ جو ڈار کی سربراہی میں وفاقی کونسل اس کو چلائے گی اس میں کوئ پختون نہی سوائے واجبی سے امیر مقام کے۔ یہ صوبائیت کے پرانے مردے اکھاڑنے کا موجب بن سکتا ہے۔ اس سے کیا تاثر دینا چاہتے ہیں آپ پختون ووٹر کو ان کو آپنا صوبہ چلانے کا حق نہی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے نیب حراست میں بار بار دعوے اور فہد شہباز خان کے حقائق!
“عمران خان کے دور میں نیب حراست میں شہباز شریف، حمزہ شہباز، مریم نواز کے پاس سونے کے لئے بیڈ دستیاب تھے، شہباز شریف کی دو بیگمات ایک صبح اور ایک شام کو ان سے ملنے نیب حراست آتیں تھیں، نواز شریف، شہباز شریف ان کا کھانا گھر سے آتا تھا، جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کیساتھ انکی فیملی بائیس گھنٹے تک ساتھ رہی”۔
فہد شہباز خان کے مطابق خواجہ آصف تو ان سب لوگوں کے بعد گرفتار ہوکر آئے تھے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر تب ان تمام لوگوں کو نیب حراست میں یہ سہولیات تھیں تو خواجہ آصف کو کیوں نہ مل سکیں اگر انکا دعویٰ درست ہے تو۔
@fahdshehbazkhan@KhawajaMAsif
دو دن پہلے حذیفہ رحمن صاحب نے مجھے پروگرام میں چیلنج دیا کہ بتائیں خیبرپخونخوا میں 13 سال میں کونسی یونیورسٹی بنی،انہوں نے کہا کسی ایک یونیورسٹی کا نام بتائیں۔ انہیں تو میں نے فورا ڈیٹا بھیج دیا تھا، باقی لوگوں کے لیے بھی حاضر ہے:
خیبرپختونخوا میں 2013 سے 2026 تک 16 نئی یونیورسٹیز بنائی گئیں۔ جن کی تفصیل وڈیو میں بتائی گئی ہے۔
جبکہ پنجاب میں اسی عرصے میں 22 یونیورسٹیز بنائی گئیں، ان میں سے 10 یونیورسٹیز عثمان بزدار کے دور میں بنیں۔ جبکہ ن لیگ نے 2013 سے اب تک جو12 یونیوسٹیز بنائیں ان میں سے 7 ایسی ہیں جو ایک زمانے سے بطور کالج موجود تھے ن لیگ نے انہیں یونیورسٹی کا درجہ دیا۔
اہم بات یہ کہ پنجاب میں کل 46 یونیورسٹیاں ہیں یعنی ہر ایک 76 لاکھ افراد کے لیے ایک یونیورسٹی۔ جبکہ خیبرپختونخوا میں کل 34 یونیورسٹیاں ہیں یعنی ہر 12 لاکھ افراد کے لیے ایک یونیورسٹی۔ تو بتائیے خیبرپختونخوا میں زیادہ یونیورسٹیز ہیں یا پنجاب میں؟
سپین پر مسلمانوں نے 700 سالہ حکمرانی کی تھی، جب حکمرانی کا دور بدلا، عیسائی حکمران آئے تو انہوں نے بدلہ لینے کے لیے اسلامی اشعار پر پابندی لگائی، گھروں کے دروازے کھلے رکھنے پڑتے تھے تاکہ کوئی چھپ کر بھی نماز اور قرآن نہ پڑھ سکے، ہزاروں مسلمان شہید ہوئے مگر نہ اسلام ختم نہ ہوا نہ مسلمان ختم ہوئے۔
خیبرپختونخواہ میں حکمرانوں کا پاگل پن دیکھ کر یہ باتیں یاد آئی ہیں، جس پارٹی کو لوگوں نے نشان نہ ہونے کے باوجود دو تہائی اکثریت دی اس پارٹی کے لگے بل بورڈز، فلیکسز، افتتاحی تختیاں اکھاڑنے سے کیا ہوگا؟ دل محبتوں سے جیتے جاتے ہیں نفرت ہمیشہ تقسیم پیدا کرتی ہے۔ آپ لوگوں کو خوفزدہ کرسکتے ہیں کس سے محبت پر مجبور نہیں کرسکتے۔
ہم نے کہا تھا کہ گڈ اینڈ بیڈ طالبان نہ کرو آپ میٹنگ میں موجود تھے ذکر آیا تھا کہ نہیں ؟ آیا تھا اندر کی باتیں اندر ہی رہنے دیں تو اچھا ہے ! بیرسٹر گوہر ۔۔
پچھلے دنوں جنید اکبر نے کہا تھا کہ فوج نے فضل شکور کو گڈ طالبان کے ذریعے اٹھوایا گڈ اور بیڈ آج بھی ہیں ۔۔۔
خواجہ آصف تقریباً 21 دن نیب کی تحویل اور 31 دن جیل میں رہے، 29 دسمبر 2020 کو نیب نے گرفتار کیا، 22 دن جسمانی ریمانڈ کے بعد جوڈیشل، 16 فروری کو آنکھوں کے علاج کیلئے جیل سے میو اسپتال منتقل، 11 مارچ کو جناح اسپتال منتقل۔ 11 مارچ سے رہائی کے دن 24 جون تک جناح اسپتال علاج، ضمانت منظور ہونے کے بعد اسپتال سے ہی رہائی
عمران خان جہاں کئی اعتبار سے غیر معمولی خوش نصیب ہے وہیں ایک لحاظ سے بدنصیب بھی ہے کہ اسے انتہائی کم ظرف دشمن ملے ہیں، یہ لوگ عدت جیسی غلاظت سے شروع ہوئے اور اب منصوبوں کی تختیاں گرانے پر آ چکے ہیں، یہ کُھرچ کُھرچ کر عمران خان کو مٹا دینا چاہتے ہیں
بلاول زرداری نے قومی اسمبلی تقریر کی اور کہا کہ شہبازشریف سے درخواست کروں گا کہ وہ کے پی میں ایمرجنسی ہٹائیں تقریر ختم ہوئی ایمرجنسی کی توثیق کے لیے ووٹنگ ہوئی اور سب سے پہلا ہاتھ بلاول نے کھڑا کیا۔ اسے کہتے ہیں ابوالمنافقین بلاول زرداری
سینیٹر فیصل واؤڈا نے دعویٰ کیا کہ قوم سیاستدانوں سے نفرت کرتی ہے اور فوج سے محبت کرتی ہے میں نے انہیں دعوت دی کہ آئیں اسلام آباد کے آب پارہ چوک یا راولپنڈی کے کمیٹی چوک میں چلتے ہیں اور لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ آپ کس سیاستدان سے پیار کرتے ہیں ؟ وہ ایک نام لیں گے اور پھر واؤڈا صاحب کو مجھ سے اتفاق کرنا پڑ گیا 😆
🚨🚨
#KP Governor @fkkundi has said his advisory council will take its policies from Islamabad. Why not from the people of KP, who will be most affected by them? Perhaps unwittingly, the governor has sent the clearest possible signal that KP’s mandate is being held in abeyance. What the government in the centre and the governor’s new set-up in KP need to realise is that their words are not reaching only the leaders of a rival party, but also being heard by all those who helped elect those individuals to office. If winning the confidence of the people of KP is not a priority at this stage, it ought to be.
https://t.co/RAWku5Qkq8