قومی ترانے کے وقت خان صاحب کی رہائی کا سلوگن لیے جہاز نے اسٹیڈیم کا چکر لگایا لوگوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا،اب یہاں کونسا فائر وال لگاؤ گے،اپنے کرتوتوں پر ایک فائر وال لگالو تو سب مسئلے حل ہوجائیں گے
سہیل احمد بہت بڑا اداکار ہے۔ مزاحیہ کرداروں میں شاید عصر حاضر کا سب سے بڑا فنکار۔ سنجیدہ کردار بھی کمال خوبصورتی سے نبھائے۔ لیکن سہیل احمد بہت چھوٹا انسان نکلا ہے۔ اسے آفتاب اقبال کو چھوڑے دس سال ہو چلے۔ اگر اب آکر اس نے آفتاب اقبال پر ہرزہ سرائی کی ہے تو یہ اتنے بڑے فنکار نے بہت چھوٹی حرکت کی ہے۔
آفتاب اقبال نے پو��ے ملک کا ٹرینڈ سیٹ کیا ہے۔ آفتاب اقبال سے پہلے سٹیج کے اداکاروں کی زندگی کھایا پیا شراب پی مر گئے والی تھی۔ کسی کے پاس اپنا گھر نہیں تھا کسی کے پاس گاڑی نہیں تھی۔ ان کی غیر مہذب گفتگو کوئی بھی شخص فیملی میں بیٹھ کر نہیں سن سکتا تھا۔ آفتاب اقبال نے ان لوگوں کو مین سٹریم میڈیا کی زینت بنایا۔ حسب حال ہو ہوشیاریاں ہو خبرناک ہو یا سیاسی تھیٹر جتنے بھی پروگرام ہیں وہ سب آفتاب اقبال کی فوٹو کاپیاں ہیں۔
آفتاب اقبال کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اپنے پروگرام کو نمبر ون رکھا ہے۔ بنے بنائے سٹاروں کو بھی پلیٹ فارم دیا تو کئی لوگوں کو سکریچ سے خود تیار کیا۔ اگر سہیل احمد کو آفتاب اقبال سے اس قدر مسئلہ تھا تو جب چھوڑا تھا تب ہی اظہار کردیتا۔ اگر دس سال خاموش رہا تو آج بھی خاموش رہتا۔
آفتاب اقبال نے دسیوں سہیل احمد تیار کیے ہیں۔ ہزاروں سہیل احمد مل کر بھی ایک آفتاب اقبال نہیں بنا سکتے۔
یہاں ایک اور نقطہ بھی قابل ذکر ہے کہ جن لوگوں کے پیٹ کے اندر پٹواری بیٹھا ہے وہ جتنے بھی بڑے فنکار ہوں جتنے بھی بڑے دانشور ہوں جتنے بھی بڑے ادیب یا لکھاری ہوں ان کے اندر بیٹھا پٹواری ان کے اندر کا گند ضرور سامنے لاتا ہے۔ عرفان صدیقی ہو وجاہت مسعود ہو یا سہیل احمد اندر کا گند ضرور سامنے آجاتا ہے۔
عمر چیمہ ڈیتھ سیل میں کیوں ہے۔۔؟؟ خان سے وفا نبھانے کی اتنی سخت سزا کیوں۔۔؟؟ عمر چیمہ کے لئے بھرپور آواز اُٹھائیں۔۔۔ان کے لئے ویسے آواز نہیں اٹھائی جاتی جیسے ان کا حق بنتا ہے۔۔۔!!
آئندہ جو بھی حملہ کرے بیشک وہ آرمی سے ہو،CM ہو ،سرکاری افسر ہو یا پی ایم ہو اس کو فوری طور پر اپنے ذاتی اسلحے سیدھا ماتھے پر گولی ماردو.قانون اجازت دیتا ہے یہ پولیس والا باقیوں کو اکسارہا ہے. جناب اب تو آنکھیں کھول لیں اور کارروائی کریں اس کے خلاف
اب یہ سن لیں اب اگر ہر کوئی اپنا اپنا انصاف کرنا شروع کر دے گا تو پھر ملک اور معاشرے کا کیا ہوگا۔ ملٹری کیڈرشپ کو زمہ دار وان کے خالف کاروائی کرنی چاہئیے۔ ورنہ تو پھر یہاں جنگل کا قانون بن جائے گا۔
پولیس کی عام شہریوں پر تشدد کی ایک اور فوٹیج
کراچی پولیس کے اہلکار نے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا
فوٹیج چند روز پرانی ہے ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا
بچی پردیس سے آئے باپ کو دیکھ کر بھاگی تو اہلکار نے بالوں سے پکڑ کر دھکا دے کر گرا دیا۔۔۔یہ حرکتیں دیکھ کر دل کہتا ہے ٹھیک لتر پولا ہوا ہے۔۔۔عجیب بے حس ہیں یہ انسان نما جانور۔۔۔
جب تک یہ ،،، ک ،،، نہیں پکڑا جاتا ہے
خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے زیادہ سے زیادہ ریٹویٹ کریں
اس کلپ نے دل چیر کے رکھ دیا یار 💔
اس والد پر کیا گزری ہوگی جو 5 سال بعد وطن واپس پہنچا تو آگے سے اسے یہ ظلم دیکھنا پڑا
قاضی فائز عیسی صاحب کو کسی صورت اس بنچ میں نہیں بیٹھنا چاہیئے۔ وہ 1 سال سے حقائق سے آگاہ تھے اور خاموش رہے۔ باضابطہ شکایت موصول ہونے کے بعد بھی انہوں نے اس اہم مسئلے پر مٹی ڈالنے کے مترادف کام کیا۔ وہ اس معاملے کے بینیفشری شہباز شریف سے مل کر انہیں حکومت کے دیگر معاملات میں مدد کی یقین دہانی بھی کروا چکے ہیں۔ لہذا قاصی صاحب متنازعہ ہونے کے بعد اخلاقی طور پر اس بنچ میں نہ بیٹھیں۔