@Markhor_101 تو کب مٹایا جائے گا؟؟ جب سارا ملک ختم ہو جائے گا تب؟ بلوچستان میں ایک ہی دفعہ سارے فتنوں کا خاتمہ کیوں نہی کر دیتے؟؟
آئے روز وہ ہماری لوگوں کو شہید کر رہے ہیں۔
ایک شخص نے ایک مرتبہ بہاولپور سے گوجرانوالا رات کے
وقت ایک مسافر بس پر سفر کیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب موٹر وے نہیں بنی تھی اور عام بسیں جگہ جگہ رکتی ہوئی سفر طے کرتی تھیں کیونکہ ان کا کرایہ نسبتاً کم ہوتا تھا۔ اس نے ہمت کر کے ڈرائیور کے پیچھے والی سیٹ لے لی تاکہ سفر نسبتاً محفوظ اور آرام دہ رہے۔
جب بس بہاولپور سے روانہ ہو کر لودھراں کے قریب پہنچی تو ایک شخص نے سڑک کنارے کھڑے ہو کر اشارہ کیا۔ اس کے ساتھ ایک گدھا بھی تھا۔ اس نے کنڈکٹر سے کہا ک گدھا بھی ساتھ لے جانا ہے۔ کنڈکٹر نے بلا تامل اجازت دے دی۔ گدھے کی ٹانگیں باندھی گئیں، اسے اٹھا کر بس کی چھت پر رکھا گیا اور مضبوطی سے رسیوں سے باندھ دیا گیا۔ مالک بس کے اندر آ کر پچھلی نشستوں پر جا کر سو گیا۔
رات کے تقریباً تین بجے چیچاوطنی کے قریب بس رکی۔ کچھ مسافر اترے اور ان کا سامان چھت سے نیچے اتارا گیا۔ اسی دوران کنڈیکٹر کو معلوم ہوا کہ جو گدھا چھت پر باندھا گیا تھا وہ غائب ہے، غالباً سفر کے دوران کہیں گر گیا تھا۔ اس نے گھبرا کر ڈرائیور کو اطلاع دی۔ ڈرائیور نے اطمینان سے پوچھا کہ کیا مالک کو معلوم ہے؟ جواب ملا کہ وہ تو پچھلی نشست پر سکون سے سو رہا ہے۔ ڈرائیور نے کہا فکر کی بات نہیں، اس کا بھی حل نکال لیتے ہیں۔
چند میل آگے سڑک کنارے ایک اور گدھا کھڑا نظر آیا۔ ڈرائیور نے فوراً کنڈیکٹرکو اشارہ کیا کہ اسے پکڑ کر چھت پر باندھ دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور نیا گدھا بس کی چھت پر باندھ دیا گیا۔ جو شخص ڈرائیور کے پیچھے بیٹھا تھا، اس نے یہ ساری گفتگو سنی اور منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
صبح پانچ ساڑھے پانچ بجے جب بس گوجرانولہ پہنچی تو روشنی پھیل چکی تھی۔ وہ شخص تجسس کے مارے نیچے اترا کہ دیکھے مالک اپنے گدھے کو پہچانتا ہے یا نہیں۔ اس نے دیکھا کہ مالک گدھے کے سامنے کھڑا حیرت سے اسے دیکھ رہا ہے۔ اس شخص نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ گدھے کے مالک نے جواب دیا: “میں گدھے کو دیکھ کر حیران نہیں ہو رہا، میں اس بات پر حیران ہوں کہ لودھراں سے میں نے جو کھوتا بس کی چھت پر چڑھایا تھا، گوجرانولہ پہنچ کر وہ کھوتی کیسے بن گئی؟”