آج میں کیچ کو دیکھتا ہوں تو یقین آجاتا ہے کہ بلوچ اپنا رستہ بدل چکا۔ بلاشبہ یہ مزاحمت ریاستی نسل کش پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
2010 سے پہلے کی سیاست ہم نے سنی ہے جبکہ 2023 کے مزاحمت کی ہم چشمِ دید گواہ ہیں۔۔
#StopBalochGenocide
آنسو تو کبھی قید ہوئے ہی نہیں، فکر، حوصلے، مستقل مزاجی اور مزاحمتی ورثے اگر قید ہو پاتے تو شاید آغا کریم سب کچھ اپنے ساتھ سمیٹ لے جاتے، چئیرمین گلام مھمد کی میت اس نا ختم شدہ جہد کا اختتام ہوتا، زاہد کی جبری گمشدگی اس معمے کی اختتام کا آخری کیل ہوتا،لیکن۔۔۔!
#ReleaseBYCLeaders
The first thing the colonizer does is to attack the intellectual independence of the colonized, to destroy the language in which their imagination can flourish.
Ngūgī
#MartyrGhamkuwarHayat
میرے سیاسی آواز کا بدلہ میرے خاندان سے لیا جا رہا ہے۔ میرے بھائی داد شاہ کو پہلے بھی جبری طور پر گمشدہ کیا جا چکا ہے، اور آج ایک بار پھر انہیں لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ اگر میرے بھائی کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری ان قوتوں پر ہوگی جو قانون سے بالاتر ہو کر شہریوں کو غائب کر رہی ہیں۔
Fehmida Baloch, medical student from Mirphur Khas has reportedly committed su$ide after being harassed & blackmailed by her teachers. These incidents witness the worst educational system and corrupt mindset of the society.
The harassment in any sense must be stopped.
سندھ کے علاقے کشمور میں بلوچ ثقافتی پروگرام کے انعقاد پر مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ذمہ داران کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کا عمل انتہائی تشویشناک ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
چند روز قبل کشمور میں مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام بلوچ کلچر کے عنوان سے ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس پروگرام میں موسیقی سمیت مختلف ثقافتی رنگ شامل تھے۔ تقریب نہایت خوشگوار اور پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کر کے اسے کامیاب بنایا۔ بلوچ قوم، بلوچستان سمیت سندھ اور پنجاب میں اپنی ثقافت، روایات اور زبان کی ترویج کے لیے مستقل بنیادوں پر پروگرامز منعقد کرتی رہتی ہے، جن میں بالخصوص 2 مارچ 'بلوچ کلچر ڈے' اور 'عالمی مادری زبان کے دن' پر منعقد ہونے والی تقریبات نمایاں ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دنیا کی ہر زندہ قوم اپنی مادری زبان کی ترقی اور اپنی تہذیب و تمدن کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ بلوچ بھی بحیثیت ایک زندہ قوم اپنی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، جس کے لیے اس نوعیت کے پروگرام ناگزیر ہیں۔ اسی تسلسل میں سندھ کے مختلف شہروں میں آباد بلوچ قوم وقتاً فوقتاً مختلف تقریبات کا انعقاد کرتی ہے۔ کشمور میں مزاری اسٹوڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی یہ کاوش بھی اسی کڑی کا حصہ تھی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسے مثبت پروگراموں کی حوصلہ افزائی کے بجائے کچھ گروہ، جو طاقت کے نشے میں بدمست ہیں، ان سرگرمیوں کو منفی رنگ دے کر فتویٰ بازی کر رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف افسوسناک بلکہ قابلِ مذمت ہے، جس کی ہماری تنظیم بھرپور مذمت کرتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی قوم، زبان اور ثقافت سے لگاؤ ایک فطری امر ہے، جس پر ہر قوم فخر کرتی ہے۔ ایک تعلیمی و ثقافتی پروگرام پر کسی گروہ کی جانب سے بے بنیاد فتویٰ جاری کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومتِ وقت ایسے عناصر کا محاسبہ کرے اور ان کو اتنی چھوٹ نہ دی جائے کہ وہ جب چاہیں فتویٰ جاری کر دیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف معاشرتی انتشار کا باعث ہے بلکہ مذہب کو بطور کارڈ استعمال کرنے کے مترادف ہے، جس کی دین میں قطعاً گنجائش نہیں ہے۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
کماش زاہد ءُ اھوالکار نسیم زہرہ ءِ نیام ءَ بحث ءِ ٹکّرے
نسیم زہرہ ؛ بلوچستان کے لوگ کراچی میں رہ رہے ہیں۔۔۔
زاہد؛ جی ہاں انگولا کے لوگ پرتگال میں رہتے تھے۔
۔۔۔
زاھد گوستگیں دوازدہ سال ءَ چہ زورانسری بیگواہ اِنت
#SaveZahidAndAsadBaloch
Nasir Dagarzai was abducted by Pakistani forces in 2011, shot & dumped but survived. This photo shows him during treatment holding his son, Zameer. In July 2011, Nasir was abducted again and killed.
Today, his son Zameer, has also been killed after being abducted on 3 March.
We are gravely concerned over the rapidly worsening health of the prominent human rights defender Dr. Mahrang Baloch, who has now been unjustly detained for nearly a year on politically motivated and fabricated charges.
Despite her critical condition being confirmed during a recent hospital evaluation at Sheikh Zayed Hospital, adequate and timely medical care continues to be denied. This constitutes a serious violation of her fundamental human rights and Pakistan's international obligations regarding the humane treatment of detainees.
We demand urgent provision of comprehensive medical treatment without any further delay and the immediate and unconditional release of Dr. Mahrang Baloch along with other detained BYC leaders. The world is watching, end this injustice now!
#ReleaseDrMahrangBaloch
Professor Hamid Ali Baloch, Taaj Baloch and Manzoor Bismil Baloch have shared their views regarding Language, linguistic and literature on the event of February 21 “International Mother Language Day.” They also shared their thoughts regarding the digitalization of language including Brahui and Balochi.
For listening to them; please visit our YouTube channel
Baloch Students Action Committee
https://t.co/bamJAZIXqo
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں تیزی ایک سنگین صورتحال اختیار کرچکی ہے۔ طلبہ کو درپیش عدم تحفظ کی یہ فضا حد درجہ لمحہ فکریہ ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان میں کئی دہائیوں سے جاری جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تھمنے کے بجائے وقت کے ساتھ ساتھ مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت کے نزدیک جبری گمشدگیاں کوئی سنجیدہ مسئلہ ہی نہیں ہیں۔ ایک جانب عالمی سطح پر اسکالرشپس اور تعلیم کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، تو دوسری جانب بلوچ طلبہ کو اس سنگین صورتحال کا سامنا ہے کہ وہ آئے روز جبری گمشدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
بلوچستان کے طلبہ کثیر الطبقی چیلنجز اور مسائل کی زد میں ہیں۔ جہاں انہیں جامعات میں اکیڈمک کریک ڈاؤن، ہراساں کیے جانے اور تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہیں ہاسٹلز اور نجی رہائش گاہوں پر بلاجواز چھاپے مار کر انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات بلوچستان میں غیر یقینی اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ان واقعات میں تشویشناک حد تک تیزی آئی ہے، جو تاحال کسی روک ٹوک کے بغیر جاری ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ بلوچ طلبہ کو ان کے سیاسی و سماجی شعور اور علم دوستی کی پاداش میں جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے اسلام آباد اور پنجاب کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی پروفائلنگ میں مزید تیزی آئی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں مارے جانے والے چھاپے طلبہ میں عدم تحفظ کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ گزشتہ چار پانچ دنوں میں درجنوں افراد جبری طور پر لاپتہ کر دیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد ان طلبہ کی ہے جو پنجاب اور اسلام آباد سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں یا اب بھی زیرِ تعلیم ہیں۔
اسی طرح لسبیلہ یونیورسٹی (لوامز)، اوتھل میں بھی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کو ہراسانی اور پروفائلنگ کا سامنا ہے۔ یہاں طلبہ کو آئے روز نت نئے بہانوں سے نام نہاد ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہی انتظامیہ یونیورسٹی میں ہر دوسرے روز کلاسز معطل کر کے اپنے سیشنز اور پروگراموں کا انعقاد کرتی ہے، لیکن جب طلبہ اپنی مدد آپ کے تحت کوئی علمی یا ثقافتی سرگرمی کرنا چاہیں، تو وہ انتظامیہ کو ناگوار گزرتی ہے۔
بحیثیت ایک طلبہ تنظیم، ہم جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے کیسز، تعلمی اداروں میں تعصب اور ہراسانی کے نہ رکنے والے اعمال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ مقتدر حلقے بلوچ شعور سے خوفزدہ ہیں۔ ہم ان تعلیمی دشمن پالیسیوں کی نہ صرف بھرپور مذمت کرتے ہیں بلکہ میڈیا کے توسط سے حکومتِ وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کارروائیوں کو فوری طور پر روک کر ایک پُرامن تعلیمی ماحول کو یقینی بنایا جائے، تاکہ بلوچ طلبہ بلا خوف و خطر اپنا تعلیمی اور شعوری سفر جاری رکھ سکیں۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی