بائیں طرف ڈھائی سال کے بچے کے ہاتھ کا ایکسرے ہے، اور دائیں طرف چھ سال کے بچے کا۔ صرف چند سالوں کا فرق ہے، مگر کلائی کی ہڈیوں کی نشوونما میں کتنا بڑا فرق صاف نظر آ رہا ہے۔
اب خود سے ایک سوال پوچھیے...
اگر ان دونوں بچوں کے ہاتھ میں ایک جیسی پنسل دے کر کہا جائے کہ "صاف لکھو، لائن کے اندر لکھو، شکل درست بناؤ"... تو کیا دونوں ایک جیسا لکھ سکیں گے؟
ہرگز نہیں۔
کیونکہ لکھنا صرف ذہانت کا نہیں، جسمانی نشوونما کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جب تک کلائی، انگلیوں کی باریک حرکتوں (Fine Motor Skills) اور پٹھوں کی مناسب نشوونما نہ ہو، بچہ چاہ کر بھی وہ گرفت پیدا نہیں کر سکتا جو خوبصورت لکھائی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
لیکن افسوس...
ہم میں سے بہت سے والدین روز یہی ظلم کرتے ہیں۔
دو، ڈھائی یا تین سال کے ننھے بچوں کے ہاتھ میں پنسل تھما دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں:
"سیدھا لکھو!"
"لائن سے باہر کیوں نکل گئے؟"
"شکل خراب کیوں بنائی؟"
"دوسرے بچے تو کتنا اچھا لکھ لیتے ہیں!"
اور جب بچہ نہ کر سکے تو اسے ڈانٹ، ڈپٹ، شرمندگی، بلکہ بعض اوقات مار تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ذرا سوچیے...
جس معصوم کی کلائی کی ہڈیاں ابھی مکمل بنی ہی نہیں، جس کے ہاتھ کے ننھے ننھے پٹھے ابھی مضبوط ہی نہیں ہوئے، اس سے آپ وہ کام کیوں چاہتے ہیں جس کے لیے اس کا جسم ابھی تیار ہی نہیں؟
دنیا کے کئی کامیاب تعلیمی نظام اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
مثلاً فن لینڈ میں بچے عام طور پر سات سال کی عمر سے پہلے باقاعدہ اسکول شروع نہیں کرتے، اور ابتدائی برسوں میں کھیل، تخلیقی سرگرمیوں اور جسمانی و ذہنی نشوونما پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ فن لینڈ کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے.
یاد رکھیے...
اگر آپ کا بچہ چھ یا سات سال کی عمر تک بھی لکھنے میں دوسروں سے پیچھے ہے، تو ضروری نہیں کہ اس میں کوئی خرابی ہو۔ انکے جِسم نے ابھی وہ مسل ہی نہیں بنائے ہوتے جو پنسل پکڑ سکیں ..
اگر آپ کا بچہ چھ سات سال تک صحیح نہیں لکھ پاتا تو وہ غلط نہیں آپ غلط ہو ...شیئر کرو تاکہ سب آنکھیں کھول کر پڑھ لیں
منقول
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فیفا ارجنٹینا کے خلاف مبینہ ناانصافی کی یہ ویڈیو بار بار ہٹا رہا ہے۔
اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مصر کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کو فراموش نہ کیا جائے۔
ویک اینڈ ٹور
گلیات
اگر آپ پنجاب کے کسی بھی ایریا میں رہتے ہیں تو، آخری ورکنگ ڈے کی ایوننگ کو نکلیں اور رات کا سفر کریں،
اسلام اباد / پنڈی والے فیض آباد یا پیر ودھائ سے لوکل وین لیں،
نھتیا گلی / ڈونگلہ گلی کی ۔۔ " مری والی نہی لینی "
یہ بس اڈے ہیں ۔۔ فیض آباد / پیر ودھائ
پنڈی سے نتھیا گلی کا راستہ تقریباً تین سے چار گھنٹے ہے
رہائش کدھر رکھیں
نتھیا گلی، مین بازار اتر کے آپ کسی بھی ہوٹل میں اسٹے کرلیں، چار سے پانچ ہزار پر ڈے پہ مناسب کمرہ مل جائے گا
کب اور کیسے نکلنا ہے
ایک بار نتھیا گلی پہنچ گئے تو، سب سے پہلے مبارک ہو آپ کو ۔۔ آپ پاکستان کی
شدید حسین جگہ پر ہیں
اس وقت آپ کے ایک طرف واکنگ پہ لالہ زار پارک، نتھیا گلی پارک، کالا چرچ اور قدرے فاصلے پہ نملی میرا آبشار اور میرن جانی ٹریک و ڈگری بنگلہ موجود ہے ۔۔ مزید آگے گاڑی کی مدد سے ڈونگا گلی، ایوبیہ، خانسپور، پائپ لائن ٹریک ،مشک پوری ہے جبکہ نتھیا گلی بازار کے دوسری
سمت سمندر کھٹہ،ہرنوئ پارک، ٹھنڈیانی پوڈ ہیں جو گاڑی یا لوکل ٹرانسپورٹ پہ جاسکتے ہیں۔۔۔۔
اب آپ کے پاس دو آپشن ہیں ۔۔
نھتیا گلی بازار ( رہائش) سے موڑ تک پیدل واک کریں یا کیری لوکل گاڑی لے کے ڈونگا گلی اتریں
اوپری روڈ پہ آپ کو ملےگا، کالا چرچ، نتھیا گلی بازار، لالہ زار پارک،
نملی میرا آبشار
نھتیا گلی پارک ۔۔
مزید آگے جائیں تو بہت دور جانے کے بعد ایک آفس آتا ہے جس کے عین پاس سے سیڑیاں اوپر کی جانب جاتی ہیں یہ، میرن جانی ٹریک ہے ۔۔ چار گھنٹے میں ہوجاتا ہے آسان مگر طویل ہے،اب پانی ملنے لگا یے پھر بھی احتیاط پانی کا اسٹاک ساتھ رکھیں۔ اور اگر آپ نے ڈگری
کرنا ہے تو ٹاپ سے واپس آتے الٹے ہاتھ کی جانب جانا ہے، یہ ذہن میں رہے پانی پورے راستے نہی اور ایک رات کا اسٹے لازمی ہے، تاکید ہے، گائیڈ لازمی ساتھ رکھیں راستہ بھول جانے کے نوے فیصد چانس ہوتے ہیں اور طویل اتنا ہے شام ہوجانا کوئی حیران کن بات نہی اور جنگل میں روشنی ناپید ہوتی یے۔
اب اگر آپ اوپر روڈ کو چھوڑ اگے ڈونگا جاتے ہو تو بہتر ہے لوکل کیری لی جائے، چار پانچ کلو میٹر کا فاصلہ ہے
ڈونگا گلی پہ آپ کو مشک پوری ٹریک اور پائپ لائن ٹریک ملتا ہے
پائپ لائن 4 کلومیڑ کا بےحد آسان ٹریک ہے یہ خانسپور نکلتا ہے، جہاں موٹو ٹنل ہے، ایوبیہ لفٹ چئر بھی اور بازار بھی
گلیات کے ٹریکس
مشک پوری ( ٹریک آسان)
پائپ لائن ( ٹریک آسان)
موٹو ٹنل ( وزٹ)
لالہ زار پارک ( ٹریک آسان)
چرچ ( وزٹ)
نھتیاگلی پارک ( وزٹ)
میرن جانی ( ٹریک قدرے مشکل، پانی کی عدم دستیابی)
ڈگری بنگلہ ( ٹریک قدرے مشکل، پانی کی عدم موجودگی پلس کیمپنگ لازمی)
نملی میرا آبشار
وقار یونس کو آج بھی اس بات کا افسوس ہے کہ وہ 1987 میں آسٹریلیا میں ہونے والے یوتھ ورلڈ کپ میں نہیں کھیل سکے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں وکٹیں لے رہا تھا اور انضمام الحق سنچری بنا رہے تھے، جس کے باعث ہم دونوں کو ساہیوال میں نوجوان ٹیم کے کیمپ میں بلایا گیا۔ جب ٹیم کا انتخاب ہوا تو یہ واضح تھا کہ میرا اور انضمام الحق کا انتخاب ہو گا۔‘
’لیکن انضمام کا انتخاب ہو گیا اور میرا نہیں۔ دراصل سفارش کام آ گئی اور فیصل آباد سے آئے ایک لڑکے کا انتخاب ہو گیا۔ وہ ایک کمشنر کا بیٹا تھا۔ وہ آسٹریلیا گیا، حالانکہ اُس نے وہاں کھیلنا نہیں تھا، صرف دورے پر گیا تھا۔‘
@waqyounis99
https://t.co/EPPtjCBIVZ
ملک بھر میں شام پانچ سے رات ایک بجے تک بجلی ڈھائی گھنٹے بند رہے گی سوچیں ابھی تو یہ دن کو سولر لگانے کی سزا فکسڈ ٹیکس کی صورت دے رہے ہیں 49 ہزار میگا واٹ بجلی کے پیسے عوام دیتی اور بیس ہزار میگاواٹ بجلی بھی مہیا نہی ہو سکتی ہے سو مہنگے بل کے ساتھ لوڈ شیڈنگ
فراڈ یا برانڈز کی ملی بھگت
یہ فراڈ گزشتہ روز لاہور کی ایک فیملی سے ہوا۔ فیملی نے بچوں کے معروف برانڈ Minnie Minors سے کچھ کپڑے آرڈر کیے جن کی کل قیمت 16,290 روپے بنتی تھی۔ اب جس روز برانڈ نے جس وقت آرڈر ڈلیور کرنا تھا اس سے تقریبا ایک گھنٹہ قبل اسی ایڈریس پر رائیڈر آرڈر لیکر پہنچتا ہے گھر کی بل دیتا ہے گھر والے آرڈر دیکھتے ہیں اس پر کسٹمر کی وہی ساری تفصیلات فون نمبر، نام، ایڈریس موجود ہوتی ہے جو انہوں نے منی مائنر پر آرڈر کرتے وقت درج کروائی تھیں گھر والے وہ تفصیل دیکھ کر رقم دیتے ہیں اور آرڈر وصول کرلیتے ہیں۔ وہ آرڈر ویسے ہی رکھ دیا جاتا ہے کہ کچھ دیر بعد کھولیں گے۔
کچھ دیر بعد ایک اور رائیڈر آرڈر لیکر پہنچ جاتا ہے۔ گھر والے بتاتے ہیں کہ وہ اپنا آرڈر لے چکے تو رائیڈر کہتا ہے کہ آرڈر تو اس کے پاس ہے جس پر گھر والے پہلا پیکج چیک کرتے ہیں تو اس میں ناکارہ کپڑے ہوتے ہیں تو انکو پتہ چلتا ہے انکے ساتھ فراڈ ہوچکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کسٹمر نے ڈیٹا منی مائنر کو فراہم کیا وہ فراڈیوں کے ہاتھ کیسے لگا؟ کیا منہ مائنر کا عملہ اس میں ملوث ہے؟ کیا اس برانڈ کا سسٹم محفوظ نہیں ہے کہ وہاں سے ڈیٹا لیک ہوا؟ عام شہری کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ وہ اب اسکے خلاف قانونی کارروائی کرے تو کیا کرے؟قانونی کارروائی پر خرچ، مشکلات الگ ہیں جس کے باعث یہ فراڈ روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
#MinnieMinors
آجکل امبانی خاندان کا بہت چرچا ہے لیکن ساتھ یہ بھی نوحہ گایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس امبانی ، برلا ،ٹاٹا جیسی کمپنیاں کیوں نہیں ہیں۔
لیکن کیا کیا جائے کہ نئی نسل کے لیئے جاننا ضروری ہے ۔۔۔۔۔کہ
1970 تک پاکستان میں تیس چالیس امبانی، ٹاٹا برلا سے بڑے جینیئس صنعتکار، بینکار، بزنس جینئس تھے۔ جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا۔
ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا، مڈل ایسٹ کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا۔
ان میں سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا، داوود گروپ ہیوی وہیکل اور زرعی مشنری کے بادشاہ تھے۔
داوود ہرکولیس کے پاس ٹریکٹر کی پروڈکٹ تھی، ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات، اصفہانی خاندان اور سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک تھے۔
ملک کی پہلی ائیرلائن قائم کی جو آج کی سب ائیر لائینوں سے بہتر تھی، حبیب گروپ بینکنگ کے کنگ تھے۔
ساٹھ کی دہائی ان کا حبیب پلازہ ایشیاء کی بلند ترین عمارت تھی۔
ایشیاء میں پہلا IBM بینکنگ سسٹم اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا۔
۔ فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس اور مختلف مصنوعات کے بانی تھے،
لاہور میں بیکو انڈسٹری یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل موٹرسائیکل اسمبل کرتے تھے۔
ان کی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلتی۔۔۔
میاں شریف کی اتفاق ٹیوب ویل اور تھریشر کے بانی تھے۔
سن چھیاسٹھ بیکو کے میاں لطیف اور اتفاق کے میاں شریف نے مغل پورہ ورکشاپ میں ٹینک سازی کی اجازت لی۔
لارنس پور وولن ملز کی سوٹنگ دنیا میں نمبر ون تھی جو کہ پوری صنعتی ریاست تھی۔
جن کے مالک مشینری بنگلہ دیش لے گئے۔
بھٹو صاحب نے ان 22 خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی کہ ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے ان کے پیٹ سے نکالوں گا۔
۔ہم عوام ان کے خون کے پیاسے ہوا کرتے تھے۔ ہم نے ان محسن خاندانوں کے خلاف خونی تحریک چلائی۔
بھٹو صاحب خود بھی فیوڈل تھے اور فیوڈلز یعنی بڑے زمین داروں نے پاور میں آکر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں۔ جس کو نیشنلائیزیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
سب جینئس خاندان تباہ و برباد ہوئے۔
بیکو کے میاں لطیف جرمنی چلے گئے، کسمپرسی کی حالت میں فوت ہوئے۔
اتفاق کے میاں شریف ملک چھوڑ کر گلف سٹیل ملز کے نام سے مڈل ایسٹ میں فیکٹری لگا کر بیٹھ گئے۔
اصفہانی کنگال ہوگئے ۔
ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے گیا۔
ائیرلائن پی آئی اے بن کر تباہ ہوئی،
حبیب گروپ سے حبیب بینک چھین لیا گیا،
سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائرز پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔
کوہ نور پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی تباہ ہوئی۔
رہے سہے جاگیرداروں کو اسمبلیوں میں لا کر بٹھا دیا ۔کاروبار بند کروا کر سیاست پہ لگا دیا
مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور کے میمن سنگھ اور نرائن گنج بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے،
کراچی سائیٹ انڈسٹریل ایسٹیٹ جہاں گندھارا والے ہینو ٹرک بناتے، شاہنواز لمیٹڈ، شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبلی کرتے تھے، سب کچھ قومیا (نیشنلائیز) کرکے تباہ کر دیا گیا۔
ان خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئی۔
عوام کو بے روزگار کیا فیوڈلز، وڈیرے چوہدری مخدوم لغاری جتوئی ٹوانے سب بڑے زمیندار اسمبلیوں میں پہنچ گئے اور ایلیکٹیبلز بن گئے۔
اور صنعتکاروں کو تباہ کرکے لوگوں کو ان وڈیروں کا اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیاگیا ۔
اہل شعور اور خواندہ لوگوں کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
آذربائیجان ورلڈ اربن فورم میں مریم نواز اپنی سہیلیوں سمیت نالائقوں کا پورا ٹولا لے کر گئی تاکہ سیکھا جاۓ کہ کیسے بلدیاتی اداروں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
وفد جو کچھ سیکھ کر آیا آپکے سامنے ہے!
*حج کا بہت ہی آسان طریقہ*
*میرے خیال میں اس سے زیادہ آسان طریقہ اور نہیں ہو سکتا آپ خود دیکھ کر اندازہ کریں ، اور جلدی سے یہ ویڈیو ان حضرات کے پاس شیئر کریں جو حج کے مبارک سفر پر روانہ ہونے والے ہیں
مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں 👇
@SohailLionKing