یونیورسٹیز بھی پرائیوٹائز ہونگی۔
پنجاب حکومت نے سرکاری یونیورسٹیز کی کمرشلائزیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے اعلیٰ سطحی 13 رکنی کمیٹی قائم کر دی۔
کمیٹی جامعات کے اثاثوں اور زمینوں کی کمرشلائزیشن کی رپورٹ بنا کر حکومت کو پیش کرے گی۔
ماشاءاللہ۔ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے نام پر پرائمری ہیلتھ سنٹرز اور سکول بیچنے کے بعد حکمران یونیورسٹیز سے بھی جان چھڑانے نکل پڑے ہیں۔ سکول ٹیچر کی پندرہ ہزار تنخواہ کے بعد اب جامعات کے پروفیسرز کو پچیس ہزار پرکھا جائیگا۔ صوبے کو سی سی ڈی کے علاوہ کسی اور ادارے کی ضرورت ہی نہیں، سب بیچ دیں۔واقعی پنجاب یورپ سے بہت اگے نکل گیا ہے۔
#punjab
بجٹ میں عوام کے لئے کتنا رکیف ہے وہ ان بزرگ صحافی کے وزیر خزانہ سے درخواست سے اندازہ لگا لیجئے ایک ہفتے میں دوائی کی قیمت دگنی ہو گی بات کرتے بزرگ رو پڑے
پاکستان میں بہت سے غریب ایسے جو بیمار ہوں تو انکے پاس دوائی کے پیسے نہی ہوتے ہیں ادویات مفت کریں
یہ پوسٹ لگا کر راتب خور بھنگڑے ڈال رہے اور جس نے بنائی اس نے ان جاہلوں کے ساتھ اچھا نہی کیا ہے یہ منفی گروتھ والا دور بھی شہباز شریف صاحب کا اپنا تھا جس وقت ان کو اقتدار ملا اس وقت یہ گروتھ منفی نہی تھی اور 2.5فیصد آبادی کے بڑھنے کی شرح نکال دیں تو 1.15گروتھ بچتی جو بدترین ہے اسی لیے غربت بے روزگاری مہنگائی بڑھ رہی ہے
جو لوگ کشمیر میں بیرون ملک بیٹھے اشتعال دلانے والوں کی وجہ سے اس طرح کے نعرے لگا رہے وہ کشمیریوں کے ساتھ نیکی نہی کر رہے ہیں
ریاست اس پر ایکشن لیتی ہے ہر دوسرا کشمیری پاکستان نوکری کرتا ان سب کے رشتے داروں کی سختی آئے گی یو اے ای کی دفعہ بھی ہم روک رہے تھے اب سب رو رہے ہیں
بیس ہزار تنخواہ کے خلاف شہباز شریف کا شدید ترین احتجاج سپیکر سے پوچھ لیا بیس ہزار میں غریب روٹی کیسے پوری کرے گا ؟
پندرہ ہزار والے ٹیچرز کا کیا کرنا ہے ؟
پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 77 لاکھ ہے اور اس کا ترقیاتی بجٹ آج کے فیصلے کے بعد 749 ارب ہے۔ سندھ کی آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ ہے اور اس کا ترقیاتی بجٹ 706 ارب ہے۔
پنجاب کا فی کس ترقیاتی بجٹ 749,000 ÷ 127.7 ≈ 5,865 روپے فی فرد ہے جبکہ سندھ کا فی کس ترقیاتی بجٹ 706,000 ÷ 55.6 ≈ 12,698 روپے فی فرد ہے
اسی طرح خیبرپختونخوا کی آبادی چار کروڑ 8 لاکھ ہے اور ترقیاتی بجٹ 455 ارب ہے، کے پی کا ترقیاتی بجٹ بنا 455,000 ÷ 40.8 ≈ 11,152 روپے فی فرد، یعنی ان دونوں صوبوں کا فی کس پنجاب سے دوگنے سے بھی زیادہ۔
کیا بصد احترام یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ کیوں؟ پنجاب کا جرم کیا ہے؟ صرف یہ کہ وہ متعصب نہیں ہے؟ کسی کو گالی نہیں دیتا؟ اس سے پہلے بھی وہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی اور بلوچستان کو پسماندگی کے نام پر اپنی روٹی کے نوالے دے رہا ہے۔
محبت، اخلاص اور حب الوطنی کو کمزوری، جُرم اور گناہ نہ بنائیں۔ پنجاب کو کشمیر نہ سمجھیں مگر کم از کم پاکستان تو سمجھیں اور یکساں وسائل اس کا بھی حق ۔۔۔
مریم نواز صاحبہ پنجاب کا حق سرنڈر کر آئی ہیں۔
آپ سے عرض ہے کہ نون لیگ پنجاب دشمن جماعت ہے۔ اب یہ تازہ مثال دیکھ لیجیے۔ خبر ہے کہ این ای سی نے صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 920 ارب روپے کی کمی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو پنجاب کا ترقیاتی بجٹ آدھا کاٹ لیا گیا ہے۔
920 ارب میں سے پنجاب کا 702 ارب روپے جبکہ باقی سب صوبوں کا ملا کر 219 ارب کاٹا ہے۔ تیرہ کروڑ آبادی والے پنجاب اور پانچ کروڑ والے سندھ کا ترقیاتی بجٹ ایک برابر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پنجاب میں سرکاری ملازمین، ترقیاتی کام اور تعلیم صحت دیگر ترقیاتی منصوبے سب شدید متاثر ہوں گے۔نون لیگ نے کبھی پنجاب کے حق کے لیے سٹینڈ نہی لیا ہے
مسلم لیگ(ن) کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی کو نہ بین الاقوامی سیاست سے دلچسپی ہے، نہ پیچیدہ معاشی اصطلاحات سے، اور نہ ہی تشہیری مہمات سے۔ اس کے مسائل سادہ ہیں؛ مہنگائی، بجلی و گیس کے بل، روزگار، تعلیم، صحت اور امن و امان۔
حکومت آسمان سے تارے بھی توڑ لائے، مگر اگر یہ بنیادی مسائل حل نہ کئے تو عوامی پذیرائی حاصل نہی ہو گی۔
نوازشریف کا ماڈل ترقی ، خوشحالی اور عوام کے لیے سہولت تھا وہ اسی پر حکومت کرتا اسی پر ووٹ مانگتا تھا مگر شہباز شریف کا ماڈل الیٹ کو نوازنا طاقت ور کے آگے جھکنا اور غریب کو لوٹنا اور بے رحمی سے غریب کی کمر توڑنا ہے
نواز شریف نے تو اپنے ماڈل کے مطابق کمپین کی مگر لوگوں کے سامنے شئباز شریف کے چار سال تھے
مریم نواز بھی یہ جان لیں پنجاب میں وہ جتنی مرضی کارکردگی دیکھا لیں اگلا الیکشن ان کو مرکز میں شہباز حکومت کی اس وقت سات سال کے مسلسل اقتدار کی کارکردگی سے ساتھ لڑنا ہے مہنگے پیٹرول اور چھڑ پھاڑ بجلی گیس کے بل سے ستائی عوام کا سامنا کرنا ہے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے
@khanhassankhan@RShahzaddk Results konsa 3rd person ne ja k lenay hein waha... 8wi tk k schools me Results k naam pay aap kuch bi show kr dein government ko .
Yaha hr 2 numbri possible hay
پنجاب میں تعلیم کی بربادی پر 27 منٹ کی یہ گفتگو ہے ہر پہلو سے مسلہ ڈسکس ہوا ہے صرف استدلال اور دلیل سے بات ہوئی ہے اس پروگرام کے کمنٹ پڑھیں ایک صاحب نے لکھا ہے اس گفتگو کو سننے سے پہلے ان کو لگتا تھا پنجاب میں تعلیم پر یہ حکومت شاندار کام کر رہی مگر اس کو سن کا آنکھیں کھل گئیں اور صورتحال انتہائی شرمناک ہے
بچوں کی تعلیم ایک حساس معاملہ ہے امید حکومت اپنا راستہ درست کرے گی
پنجاب کے وزیر تعلیم کے سکول کے نظام تعلیم کے نظام کو ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ بالکل ویسا ہی تباہ کن ہے جیسا IPPsکے معاہدے تھے وہ بھی نون لیگ نے کیے اس وقت بھی لوگ کہتے رہے یہ گلے پڑیں گے مگر آوازیں دبا دی گئی آج تعلیم کی جو تباہی کی بنیاد پنجاب میں رکھ رہے اس کے اثرارت بھی نجی بجلی گھروں کی طرح بہت بعد میں نکلیں گے جیسے آج سارا نظام ان بجلی گھروں کی وجہ سے یرغمال ہے تعلیم کی تباہی سے تو اور زیادہ تباہی آئے گی اس لیے یہ وقت ہے آواز اٹھائیں اسے روکیں
آزاد کشمیر راولا کورٹ میں سی ایم ایچ ہسپتال پر حملہ ہوا ہےطجس سے تین پولیس اہلکار ایک ایف سی اہلکار شہید ہو گیا ہے
جتھوں سے حملوں کی حمایت نہی کی جا سکتی ہے اور آزاد کشمیر میں ہر طرح کا بہتا خون انتہائی افسوسناک ہے
ایک طرف عام لوگ ہیں ان بارے روز سوچتے کیسے ان کی جیب کو مزید کترنا ہے دوسری طرف یہ الیٹ اسمبلی ممبران ان کی مزید رہاشگاہوں کے لیے ساڑھے سات ارب بجٹ میں رکھ دیے ہیں
بجلی کے بل اور بڑھیں گے پیٹرولیم لیوی اور بڑھ جائے گی اور عوام اور پریشان حال ہوں گے