لائبہ اور وسیم کےقاتل انجام کو پہنچے،ان درندوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیئے تھا مگر دکھ اور تکلیف یہ کہ کوئٹہ میں ایک سردار نے ٹریفک وارڈن کو گاڑی تلے کچل کر مار دیا،اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے جج کے بیٹے نے دو بچیاں مار دیں اور کراچی کی امیرزادی نے باپ،بیٹی مار دئیے مگر یہ سب رہا،آزاد اور یہاں کوئی پولیس مقابلہ نہ ہوا اور پھر لاہور میں دو غیرملکی خواتین سے جنسی زیادتی والے ایک بڑے کے بیٹے کے نیفے میں بھی پستول نہ چل سکا،یہ دوہرا معیار کیوں ؟
(اے پیغمبرﷺ!) ان سے کہو ذرا یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تم پر رات کو ہمیشہ کے لئے قیامت کے دن تک مسلط رکھے تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لے کر آئے؟ بھلا کیا تم سنتے نہیں ہو؟
﴿سورۃ القصص ،۷۱﴾
صدیق جان بیانیہ سٹور
Siddique Jaan Narrative Store
ہمارے یہاں ہر طرح کے نئے بیانیے دستیاب ہیں۔
پرانے اور گھسے پٹے بیانیوں کی مرمت کا کام بھی تسلی بخش کیا جاتا ہے۔
گونگے بہرے اور عقل سے پیدل نالائق گاہکوں کے لیے خصوصی رعایت ہے۔
خواتین کے لیے پردے کا بہترین انتظام ہے۔
نوٹ: خریدا ہوا بیانیہ واپس نہیں ہوگا۔
اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑدے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔
﴿سورۃ آل عمران ، ۱۶۰﴾
ادکارہ ماہرہ خان کے عمران خان کے لیے سونے کے پانی سے لکھے جانے والے الفاظ
29 دسمبر کو شوکت خانم کینسر ہسپتال کراچی کے افتتاح کے موقع عمران خان ہمارے ساتھ ہوں گے انشاء اللہ انشاء اللہ
شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی فنڈ ریزنگ ٹیویٹ کو ثواب دارین سمجھ کر ریٹویٹس کیا کریں
جو آگ 9 مئی کے بعد پنجاب میں لگی تھی آج اس آگ نے مکمل طور پر خیبرپختونخوا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے
پختون کلچر کی روایات کو اڑایا جا رہا ہے
گھروں کی دیواریں بغیر کچھ سوچے سمجھے پھیلانگی جا رہی ہیں
کاشف عباسی بھی کھل کر بول اُٹھا 🔥
جب آپ ایک چلتے ہوئے نظام کو خراب کر دینگے تو پھر اس خود ساختہ خراب کردہ نظام کو دوبارہ اچھا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں کوئی جمہوریت نہیں، یہاں مکمل اسٹبلیشمنٹ کا کنٹرول ہے۔ ARY اب کنٹرول ہوچکا ہے
کچھ ن لیگیوں نے باتیں کرنا شروع کیں کہ میاں صاحب گورنر راج اور ایمرجنسی کے حق میں نہیں ہیں، جیسے ہی یہ خبر ن لیگ کے سیاسی جسم میں روح پھونکنے والوں تک پہنچی تو بڑے میاں کو چھوٹا سا حکم بھیجا گیا اور میاں صاحب نے اس چھوٹے سے حکم پر ذرا بھی تاخیر کیے بغیر خود سامنے آ کر بیان دیا کہ کے پی میں ایمرجنسی بہت دیر سے لگی ، یہ ایمرجنسی بہت پہلے لگنی چاہیے تھی، اب کہیں ن لیگ والے یہ نہ کہہ دیں کہ میاں صاحب مولانا کے خلاف چلنے والی مہم کے حق میں نہیں ہیں، اگر یہ بات کی تو میاں صاحب کو مولانا فضل الرحمن صاحب کے خلاف بھی بیان دینا پڑ جانا ہے 😎
”آج ایک ہفتہ ہو گیا، پاکستان میں کسی کو نہیں معلوم خیبرپختونخوا اسمبلی کا اسپیکر کدھر ہے ؟ دو تہائی اکثریت رکھنے والا منتخب وزیرِاعلیٰ کدھر ہے ؟ ایسے حالات میں یہاں حکومتی شخصیات کس منہ سے جمہوریت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہیں ؟ گر جیل میں ویڈیو ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے، تو مطلب حکومت جب چاہے ملاقات کروا،سکتی ہے۔ ایسے حالات تو کبھی بدترین مارشل لاء کے ادوار میں بھی دیکھنے کو نہیں ملے تھے۔“ اطہر کاظمی
کیوں مری تلخ نوائی سے خفا ہوتے ہو
زہر ہی مجھ کو ملا زہر پیا ہے میں نے
کوئی اس دشت جنوں میں مری وحشت دیکھے
اپنے ہی چاک گریباں کو سیا ہے میں نے
دیر و کعبہ میں جلائے مری وحشت نے چراغ
میری محراب تمنا میں اندھیرا ہی رہا
رخ تاریخ پہ ہے میرے لہو کا غازہ
پھر بھی حالات کی آنکھوں میں کھٹکتا ہی رہا
میں نے کھینچی ہے یہ مے میں نے ہی ڈھالے ہیں یہ جام
پر ازل سے جو میں پیاسا تھا تو پیاسا ہی رہا
یہ حسیں اطلس و کم خواب بنے ہیں میں نے
میرے حصہ میں مگر دور کا جلوہ ہی رہا
مجھ پہ اب تک نہ پڑی میرے مسیحا کی نظر
میرے خوابوں کی یہ بے چین زلیخائیں ہیں
جن کو تعبیر کا وہ یوسف کنعاں نہ ملا
میں نے ہر لہجہ میں لوگوں سے کہی بات مگر
جو مری بات سمجھتا وہ سخنداں نہ ملا
کفر و اسلام کی خلوت میں بھی جلوت میں بھی
کوئی کافر نہ ملا کوئی مسلماں نہ ملا
میرے ماتھے کا عرق ڈھلتا ہے ٹکسالوں میں
پر مری جیب مرے ہاتھ سے شرمائی ہے
کبھی میں بڑھ کے تھپک دیتا ہوں رخسار حیات
زندگی بیٹھ کے مجھ کو کبھی سمجھاتی ہے
رات ڈھلتی ہے تو سناٹے کی پگڈنڈی پر
اپنے خوابوں کے تصور سے حیا آتی ہے
کیوں مری تلخ نوائی سے خفا ہوتے ہو
میری آواز کو یہ زہر دیا ہے کس نے
#متاعِ_دل