ایسا دروازہ بنیں جس سے خیر آئے۔
اگر دروازہ نہ بن سکیں، تو ایسی کھڑکی بنیں جس سے روشنی اندر اترے۔
اور اگر وہ بھی ممکن نہ ہو، تو ایسی دیوار بن جائیں جو تھکے ہوئے وجود کو سہارا دے۔
منقول
ہر پل دھیان میں بسنے والے لوگ فسانے ہو جاتے ہیں
آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں خواب پرانے ہوجاتے ہیں
ساری بات تعلق والی جذبوں کی سچائی تک ہے
میل دلوں میں آ جائے تو گھر ویرانے ہو جاتے ہیں
امجد اسلام امجد
@MuradRaasMR And it is the money of those "outsiders" that has been irrationally spent on Lahore to make it how it is. The audacity of this Class, how aloof you guys pretend to be and yet be the first person to run away in difficult times on his own party.
بڑی عید کی قربانی تھی. گوشت وغیرہ بن گیا تھا. اب بس بوجھل سی شام چھا رہی تھی. اور قربانی کا تھوڑا بہت سامان ادھر ادھر بکھرا ہوا تھا. چٹائی، جس پر گوشت کی چکنائی لگی تھی. الگ الگ قسم کی چھریاں. مُڈی، بغدا.
ابو نے مجھے وہ سب سمیٹنے کا کہا تھا اور میں برے دل کے ساتھ ایک ایک کر کے سب کچھ اٹھا رہی تھی کہ ابو نے کہا: یہ مُڈی دھو کر رکھنا. اس پر پہلے ہی چکنائی اور گوشت جما ہوا ہے، مزید جم جائے گا.
اس کی شکل دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آیا تھا. اب یہ بھی صاف کرنی پڑے گی؟ ابو بھانپ گئے اور قریب آ کر مُڈی کی لکڑی پر چند ایک ضربیں لگائیں. چربی مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم ہو گئی. ابو نے بغدے سے ایسے ہی ضرب لگاتے ہوئے ساری چکنائی ایک ساتھ سمیٹ کر ایک طرف کر دی تھی. اور لکڑی کا سارا میل کچیل بھی اس کے ساتھ ہی اتر گیا تھا. مُڈی ایک دم سے صاف لگنے لگی تھی.
اب ابو نے اسے کپڑے سے صاف کیا اور ساتھ ساتھ کہنے لگے: یہ دیکھا ہے کیسے سارا میل کچیل ایک دم سے اتر گیا ہے؟؟ اس پہ جتنا مرضی کپڑا مارتے، یہ نہیں اترنا تھا. اس پر بغدے سے لگائی گئی ضربوں نے اس چکنائی اور چربی کو نرم کیا ہے. اور وہ ایک دم سے ایک ہی بار میں اتر گئی ہے.
جب اللہ نے انسانوں کے دل سے میل کچیل اور خواہشات کی چربی اتارنی ہوتی ہے تو دل پر ایسے ہی ضربیں لگاتا ہے. اس وقت پتا نہیں چلتا کہ ان ضربوں کا کیا مقصد ہے. پتا تب چلتا ہے جب میل ایک دم سے اترتا ہے اور اندر سے صاف ستھرا دل باہر نکل آتا ہے. سطح ایک دم چمکنے لگتی ہے.
انسانوں کے دل ضرب لگنے سے ٹوٹتے نہیں ہیں. خالی ہو جاتے ہیں. چند دراڑیں آتی ہیں اور ساری محبتیں نکل جاتی ہیں. دل میں کچھ نہیں رہتا. تم نے سورت نمل میں وہ آیت پڑھی ہے؟
"جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو برباد کر دیتے ہیں اور اس کے عزت داروں کو ذلیل کر دیتے ہیں؟"
جب اللہ جیسے بادشاہ نے دل جیسی بستی میں آنا ہو تو وہ اس میں داخل ہونے سے پہلے ہر اس چیز کو نکال دیتا ہے جس کی اس سے پہلے یہاں عبادت کی جاتی تھی. سارے انسان، سارے تعلقات، سارے رشتے، ساری خواہشات.
ہر چیز کی اہمیت دل سے نکل جاتی ہے. اس کے بعد جب ان خواہشات نفس کا میل کچیل دل سے الگ ہو جاتا ہے تو اللہ اس پاک صاف بستی میں قدم رکھتا ہے کیونکہ اس کے شایانِ شان جگہ ہی وہ ہے جہاں اس کے علاوہ اور کسی کے ہونے کا تصور بھی نہ ہو
وہ لوگ خوش قسمت ہیں جن کے دلوں پر ضرب لگتی ہے. ان کے دل ٹوٹتے ہیں. زندگی سے ساری محبتیں نکل جاتی ہیں. دل کی سطح پر جگہ جگہ گھاؤ اور شگاف نظر آتے ہیں. کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دل بہت جلد ایک مہربان خدا کی میزبانی کے لیے سجائے جائیں گے. جو آج بظاہر زحمت میں ہیں لیکن کل کو ان پر ہونے والی رحمت پر دنیا رشک کرے گی.
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے، نگاہِ آئینہ ساز میں!
منقول
@ImranRiazKhan Jo kaam Imran Khan nai karsaka ye kaise kar lenge. Apko soch samajh k sawaal Karna chhaye . Wo to ummat ka leader tha us se Kuch nai hua
@SdqJaan Apki pua ne CTD ko khareeda nai hua so who are you to tell k kiska Naam hona chhaye kiska nahi. And fyi pakistan is far better off without idiots and cult followers like you. Apni auqaat men Raho.
پیڑاں سہن دے عادی ہو گئے
تاں چُپ رہن دے عادی ہو گئے
پہلاں جِبھ نوں جندرے وجے
سر فر لہن دے عادی ہو گئے
جد وی اپنی ذات پچھانی
بُھنجے بہن دے عادی ہو گئے
ٹھنڈیاں مٹّھیاں نظراں اگّے
دیدے ڈھین دے عادی ہوگئے
توں کہہ دِتا طاؔہرہ کملی
لوکیں کہن دے عادی ہو گئے
طاہرہ سرا