اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کو ایک ہفتہ قید تنہائی میں رکھنے کے بعد اہل خانہ سے کروائی گئی ملاقات میں گفتگو
“عالمی حالات کی وجہ سے میں نے اپنی پارٹی کو تحریک دو ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کی ہدایت کی ہے- موجودہ عالمی حالات کے اثرات پاکستان پر بھی آئیں گے بلکہ آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا کا بجٹ تو پیش کرنا ہی تھا- بجٹ پاس کرنے سے پہلے مشاورت کے لیے علی امین، عمر ایوب، مزمل اسلم، تیمور جھگڑا اور شبلی فراز مجھے بریفنگ دیں گے تب ہی بجٹ پاس ہو گا-
وفاقی بجٹ مکمل طور پر اشرافیہ کا بجٹ ہے- جن کے اثاثے باہر ہیں ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا- اس بجٹ کا سارا بوجھ عام عوام، تنخواہ دار طبقے اور کسان پر پڑے گا۔ صرف نواز شریف اور زرداری کے اثاثے باہر نہیں بلکہ انکے وزراء کے بھی اثاثے باہر ہیں-
وفاقی بجٹ میں ان لوگوں پر مزید ٹیکس لگا دیا گیا ہے جو ایمانداری سے ٹیکس دے رہے ہیں اور جو ٹیکس چوری کر رہے ہیں ان کو مزید چھوٹ دے دی ہے۔
خبروں کے مطابق 33 لاکھ لوگ پچھلے چند سالوں میں ملک چھوڑ کر گئے ہیں، ان میں سے بیشتر اپنی کوئی مالیت اور اثاثے ساتھ لے کر گئے ہوں گے، یہ صرف برین ڈرین نہیں ہے بلکہ ملکی پیسہ بھی باہر جا رہا ہے کیونکہ یہاں کسی کو تحفظ فراہم نہیں ہے۔
جس کے پاس تین سال پہلے 50 ہزار روپے تھے آج اس کی حیثیت بمشکل 20 ہزار ہے، یہ 60 فیصد مہنگائی ہے۔
کورونا جیسی عالمی وبا اور عالمی معاشی بحران میں ہمارے معاشی اعداد و شمار دیکھیں اور آج دیکھیں- زمین آسمان کا فرق ہے کیونکہ ہماری ساری پالیسز پاکستان کی بہتری اور ترقی کے لیے تھیں-
جب “رول آف لاء” نہ رہے تو جمہوریت ختم ہو جاتی ہے، ناانصافی مزید بڑھتی ہے جس کے باعث دہشت گردی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اس سے معیشت مزید نیچے جاتی ہے اور لوگوں میں مایوسی مزید پھیلتی ہے-“
لاہور کنونشن: عوامی تحریک کا پرزور مظاہرہ
علیمہ خان کے داخل ہوتے ہی حال وزیراعظم عمران خان کے نعروں سے گونج اٹھا۔ لاہور کنونشن کا یہ منظر محض ایک سیاسی اجتماع نہیں تھا، بلکہ ایک پیغام ہے ایک قیدی لیڈر سے جڑی قوم کی وفاداری اور اس کی جدوجہد کے ساتھ اٹل عزم کا اعلان۔
لاہور نے آج پھر ثابت کر دیا اپنے ہیرو کو بھولنا اس کے بس میں نہیں۔
#قید_تنہائی_کا_ٹارچر_نامنظور
اپنے گھر، بچوں اور زمین سے دور رہنا آسان نہیں ہوتا۔ میرے خلاف افواہیں چلتی رہیں میں نے کرنٹ افیئرز کو بریک لگائی کہ میرا اللہ سے رابطہ رہے اس لیے لوگوں نے میرے خلاف افواہیں پھیلائیں، عمران ریاض خان کی گفتگو
It’s a great honour for me to meet Sheikh Abdul Wahhab bin Zain Al-Abidin Al-Shaibi “The current holder of the keys of the Kaaba” He is so kind that he spared few hours for me and some other friends. He has a charismatic personality and great knowledge of Islamic history.
بے شک عزت دینے والا اللہ ہے
عمران بھائی جب حج ادا کر رہے تھے تو کعبہ کے متولی نے ملاقات کی خواہش کی عمران ریاض جب ملاقات کے لیے پہنچے تو وہاں دنیا بھر سے آئے لوگ تھے جو عمران ریاض سے ملاقات کے لیے وہاں موجود تھے ایک طویل ملاقات ہوئ
سابق وزیراعظم عمران خان کا عیدالاضحٰی کے موقع پر اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کےنام خصوصی پیغام
(05-06-2025)
“تمام پاکستانیوں کو عید الاضحٰی مبارک
یہ عید قربان ہے جس کی روح اللہ کی راہ میں صدق دل سے قربانی کرنا ہے۔ پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے ان میں سب سے بڑی قربانی حق کی راہ میں نکلنا ہے۔ حق کی راہ میں نکلنا افضل جہاد ہے۔ پاکستان کو درپیش مسائل کا اسی وقت خاتمہ ہو سکتا ہے جب یہ قوم حقیقی آزادی کی جدوجہد میں کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرے گی۔
مجھ سمیت تمام سیاسی اسیران اسی نیت سے جہاد کر رہے ہیں۔ مولانا رومی کا قول کہ “انسان کو اللہ نے پر دئیے ہیں تو اسے چیونٹی کی طرح رینگنا نہیں چاہیئے”ہمارے لیے مشعل راہ ہونا چاہیئے-“
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
”اس ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ تحریک انصاف پر تمام قانونی اور آئینی راستے بند کر دیے گئے ہیں اس لیے میں اب خود بطور پارٹی سربراہ جیل سے احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا- باہر میری نمائندگی عمر ایوب کریں گے- سلمان اکرم راجہ ہدایات پر عملدرآمد کروائیں گے-
تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اس احتجاجی تحریک کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں سمیت تحریک تحفظ آئین، جی ڈی اے اور ماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دیں گے۔ انشأللہ اس تحریک کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
پاکستانی قوم کو میرا پیغام ہے کہ شاید یہ پھر سے میری ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دیں لیکن آپ نے یاد رکھنا ہے کہ ووٹ میرا نہیں آپ کا چوری ہوا ہے۔ آواز میری نہیں آپ کی دبائی جا رہی ہے، لہذا آپ کو خود پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونا ہوگا۔ بارہا کہہ چکا ہوں کہ “آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا”-
احتجاجی تحریک ملک گیر اور مسلسل ہو گی کیونکہ اسلام آباد میں سنائپرز تعینات ہوتے ہیں جو معصوم شہریوں اور پر امن احتجاجیوں پر سیدھے فائر کھول دیتے ہیں۔جو قتل عام تحریک انصاف کے ساتھ کیا گیا اور کسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا۔
میرا اپنے پارٹی عہدیداران کو پیغام ہے کہ اگر میں جیل کاٹ سکتا ہوں تو آپ کو بھی کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیئے۔ اب تک پارٹی سب کو بنی بنائی مل گئی تھی۔ اب مشکل وقت ہے اور سب کا امتحان ہے۔ مجھے بھی جیل میں ڈالنے کے بعد تین سال خاموش ہو جانے پر آرام سے بنی گالا بیٹھ جانے کا کہا گیا تھا جیسے نواز شریف کو دس سال تک چپ رہنا پڑا مگر میں بزدل نہیں ہوں اور یزیدیت پر کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔
میں جمہوریت کی بحالی کے لیے آخری دم تک جدوجہد کروں گا-“
1/2
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
“پاکستانی عوام نے سمبڑیال انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ظلم کے ذریعے ان کا نظریہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کا فیصلہ وہی ہے جو 8 فروری کو انھوں نے سنایا تھا۔ اس الیکشن میں بھی بے شرمی سے دھاندلی کر کے عوامی مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا گیا۔
8 فروری کی انتخابات کی چوری میں قاضی فائز عیسیٰ، سکندر سلطان راجہ اور جنگل کا بادشاہ پوری طرح شامل تھے۔ انھوں نے اس وقت تک انتخابات ملتوی کروائے جب تک تحریک انصاف کو اپنی دانست میں کرش نہیں کر دیا گیا لیکن 8 فروری کو عوام خاموش انقلاب لے آئی۔
آٹھ فروری ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ جنھوں نے 8 فروری کا دو تہائی مینڈیٹ چرا لیا وہ ہمیں ضمنی انتخاب کیسے جیتنے دیتے؟ کیونکہ ان کو یہی ڈر ہے کہ میں جیل سے باہر نہ آ جاؤں۔لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لاشوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ان کو اپنے اصل ٹھکانے لندن واپس چلے جانا چاہیئے۔
تحریک انصاف کو کرش کرنا “لندن پلان” کا حصہ تھا جو نواز شریف نے جنگل کے بادشاہ، قاضی فائز عیسیٰ اور سکندر سلطان راجہ کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
لندن پلان کے تحت ہی نو مئی بھی کروایا گیا۔ جس کا مقصد تحریک انصاف کو توڑنا اور ختم کرنا تھا۔ اسی لیے جنھوں نے پریس کانفرنس کر دی وہ آزاد ہیں جبکہ نظریے پر کھڑے رہنے والے آج بھی ناحق قید میں ہیں۔
اگر 9 مئی تحریک انصاف کی سازش تھا تو سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہو جاتا لیکن سی سی ٹی وی چرا کر سب سے بڑا جرم کیا گیا اور پھر ایک دم سے ۱۰ ہزار ورکرز کو گرفتار کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک فالس فلیگ تھا، جس کی آڑ میں تحریک انصاف کو کرش کیا گیا۔
پاکستان میں عدلیہ مکمل طور پر مفلوج ہے۔ قاضی فائز اور سکندر سلطان کے جانے کا وقت آیا تو چھبیسویں ترمیم کر کے کئی نئے فائز عیسیٰ پیدا کر دیے گئے۔ سکندر سلطان راجہ مدت ختم ہو جانے کے باوجود آج تک صرف دھاندلی کی سہولت کاری کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔ اس ملک میں انصاف ناپید ہو چکا ہے۔ اب ہم سے مخصوص نشستیں بھی چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں کے ذریعے چھیننے کی کوشش میں ہیں۔
ہم اس حکومت سے کیا بات کریں جو خود دو NROs کی پیداوار ہے۔ اس حکومت میں بیٹھی کٹھ پتلیوں نے پہلے مشرف اور پھر باجوہ سے NRO لیا اور اپنی چوریاں معاف کروائیں۔ شہباز شریف “لیلے” کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی رسی سے لٹکا ہوا ہے، دور جاتا ہے تو اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہ حکمران اور چھبیسویں ترمیم والے جج کسی کو کیا ہی انصاف دے سکتے ہیں؟
دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو فراڈ کرے وہی اپیل سنے؟ میرے خلاف 4 جھوٹے فیصلے کروائے گئے جو اسلام آباد ہائی کورٹ آنے پر اڑ گئے، اس کے بعد سرکاری ججوں کا انتظار کیا گیا اور میری اپیل تب لگائی گئی جب سرکاری جج آ گئے۔
میرے تمام انسانی حقوق معطل ہیں۔ میں 2 سال سے قید میں ہوں جبکہ میری اہلیہ کو 14 ماہ سے قید میں رکھا گیا ہے۔ عدلیہ انسانی حقوق کا دفاع نہیں کرتی کیونکہ وہ سب ایک کرنل سے ڈرتے ہیں۔ میں یہ سب ظلم صرف قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں اور کسی صورت ڈیل نہیں کروں گا۔
یہ بات کہ کوئی ڈاکٹر امریکا سے آئے ہیں سب افواہ ہے۔ جب ان پر دباؤ آتا ہے یہ مجھ سے بات چیت کا آغاز کر دیتے ہیں اور جب دباؤ ختم ہو جائے تو پھر سختی بڑھا دیتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے سیل میں رہتے ہوئے انسان کیا کر سکتا ہے سوائے کتابیں پڑھنے کے مگر اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کو میری کتابوں سے بھی مسئلہ ہے۔
میرا اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے کہ آپ کو تحریک انصاف کی ضرورت ہے مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اصل طاقت اسی کے پاس ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو۔ عوام کی اصل نمائندہ جماعت تحریک انصاف ہی عوام میں فوج کا تاثر بحال کر سکتی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی اس وقت زخمی ہے اور پاکستان پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ بھارت کی معیشت ہم سے کافی مضبوط ہے اور 700 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں، ہمیں بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہونا ہو گا تاکہ بھارت کا مقابلہ کر سکیں-
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے میں جس میں معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں۔
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں-
جس ملک میں انصاف نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ سرمایہ کاری کے لیے کوئی بھی کلیہ آزما لیں عوام کی منشاء کی حکومت جب تک قائم نہیں ہو گی یہ بس ایک خواب ہی رہے گا۔”
2/2
“پارٹی کے تمام عہدیداران کو پیغام ہے کہ جس میں بھی دباؤ برداشت کرنے کی قوت نہیں ہے وہ عہدے سے الگ ہو جائے اور اپنی جگہ انہیں موقع دے جو پریشر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا کم حوصلہ عہدیداران براہ مہربانی خود ہی پیچھے ہٹ جائیں تاکہ انکی جگہ ہم دلیر اور نظریاتی ورکرز کو آگے لائیں جو قانون اور آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہوسکیں۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اس قدر ظلم نہیں ہوا جو تحریکِ انصاف کیساتھ ہوا۔ ایسے میں ہمارے پاس ملک گیر احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
میں خود جیل سے بطور پارٹی سربراہ احتجاج کی قیادت کروں گا۔ میں نے پوری پارٹی کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ملک گیر عوامی احتجاج کی تیاری کریں۔ ہمارے پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی جاتی ہیں اب ہم گولیاں نہیں کھائیں گے۔ پوری قوم اور اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن احتجاج کیلئے کمر کس لیں۔
میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی آئین کی بحالی کے لیے اس ملک گیر احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
سپیکر قومی اسمبلی جس طرح ایوان کو چلا رہا ہے ہم اس کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔ اس کے ہوتے ہوئے ایوان سے اراکین قومی اسمبلی کو اغوا کیا گیا، ہمارے ایم این ایز کی تقاریر سنسر کر دی جاتی ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر پارلیمنٹیرینز پر تشدد ہوتا ہے مگر یہ ہر معاملے میں ممبران قومی اسمبلی کی نمائندگی میں ناکام رہا ہے۔
حیران کن طور پر الیکشن دھاندلی کی اپیل چیف الیکشن کمشنر ہی کے پاس جارہی ہے جو اس دھاندلی کا سہولت کار اور مینڈیٹ چوروں کی ٹیم “بی” ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ 8 فروری کے الیکشن فراڈ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور تحریک انصاف کو victimize کیا جائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ محض حکومتی عدلیہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہم سے مخصوص نشستیں چھیننے کی پوری تیاری ہے مگر آپ سب نے حوصلہ نہیں ہارنا اور جم کر کھڑے رہنا ہے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ اور میڈیا سے گفتگو
3/3
“Those who uphold the truth can never be defeated. Allah Almighty states clearly in the Holy Qur’an: “And your Lord would not have destroyed the cities unjustly while their inhabitants were righteous”. As Hazrat Ali (RA) said, ‘A system built on disbelief may survive, but one founded on injustice will not.’ Lies and deceit inevitably unravel, and the truth prevails.
The events of May 9th (2023) were, in fact, a part of the “London Plan”, the sole purpose of which was to eliminate Pakistan’s largest political force, Pakistan Tehreek-e-Insaf. Under this premeditated plan, I and several of my party leaders and workers were unlawfully imprisoned. Our democratic mandate was brazenly stolen, and corrupt individuals were imposed upon the nation. We were subjected to relentless fascist oppression, our supporters were shot at, and baseless cases have been fabricated against us.
As Prime Minister, when I removed General Asim Munir from the post of DG ISI, he sought to approach my wife Bushra Bibi through intermediaries to discuss the matter. Bushra Bibi categorically declined, saying that she had no involvement with such affairs and would not meet him. It is General Asim Munir's vindictive nature that is behind Bushra Bibi's unjust 14-month incarceration and deplorable inhumane treatment in prison. The way my wife has been targeted for personal vengeance is unprecedented, even during Pakistan’s darkest periods of dictatorship. She was accused of aiding and abetting, an allegation for which no proof has ever been presented, and she is arrested in one false case after another. She is a private citizen, a homemaker with no political involvement. I have not even been allowed to meet her in the past four weeks. According to jail regulations, I was scheduled to meet her yesterday, but even that meeting was denied, in complete violation of court orders.
Yesterday, our Member of National Assembly, Abdul Latif Chitrali, was convicted in a fabricated case related to May 9th (2023). Based on what evidence? Similarly, Dr. Yasmin Rashid remains imprisoned, while Shah Mehmood Qureshi would be released if he agreed to make the statements they desire from him. Anti-terrorism courts and numerous judges are complicit in this campaign of repression. Despite repeated demands, they refuse to summon or examine the stolen CCTV footage from May 9th. Not a single judge has the courage to demand those tapes and deliver a verdict based on evidence. We are innocent. Our people are being sentenced without evidence and without the right to a fair trial. We will petition all courts to demand the release and review of that CCTV footage.
I had called for the formation of a judicial commission to conduct a transparent investigation into the massacres (of unarmed pro-democracy protesters) of May 9th and November 26th (2024). Yet there has been no movement on this demand. The judiciary in Pakistan has never been more disgraceful than it is today. In the past, there was Justice Munir, whose unjust decisions earned him global notoriety. Today, Justice Qazi Faez Isa is following in the same footsteps. The entire judicial system seems complicit, driven not by justice but by a desire to protect their own jobs and privileges.”
Former Prime Minister Imran Khan, speaking from Adiala Jail during a conversation with his legal team and the media (May 31, 2025)
2/3