مجھ کو اپنے تمام سفر میں جس قدر جامعہ ازہر کے حالات سے مسلمانوں کی بدبختی کا یقین ہوا کسی چیز سے نہیں ہوا. ایک ایسا دارالعلوم جس میں دنیا کے ہر حصہ کے مسلمان جمع ہوں, جس کا سالانہ خرچ دو تین لاکھ سے کم نہ ہو, جس کے طالب علموں کی تعداد بارہ ہزار سے متجاوز ہو , اس کی تعلیم و تربیت سے کیا کچھ امید نہیں ہو سکتی تھی لیکن افسوس ہے کہ وہ بجائے فائدہ پہنچانے کے لاکھوں مسلمانوں کو برباد کر چکا ہے اور کرتا جاتا ہے. تربیت و معاشرت کا جو طریقہ ہے اور جس کا میں ذکر کر چکا ہوں. اس سے حوصلہ مندی, بلند نظری, جوش, ہمت غرض تمام شریفانہ اوصاف کا استیصال ہو جاتا ہے. میں نے یہاں ایسے طلبہ دیکھے ہیں, جن کے عزیز اور نہایت قریب عزیز (چچا, ماموں وغیرہ) خود اسی شہر میں بڑے بڑے عہدوں پر ہیں اور ان کی تمام ضروریات کے متکفل بھی ہیں. تاہم یہ طلبہ ازہر میں رہتے ہیں, اس لیے ان کو عام بازار میں ہاتھ پھیلا کر روٹیاں لینے میں زرا شرم نہیں آتی. طالب علموں کی دنائت(پست فطرتی) اور پست حوصلگی کا یہ حال ہے کہ بازار میں پیسہ کی ترکاری خریدتے ہیں تو کنجڑے کو قسم دلاتے جاتے ہیں کہ براس سیدنا الحسین یعنی تجھ کو امام حسین کے سر کی قسم واجبی قیمت بتانا. کیا اس قسم کے تربیت یافتہ لوگوں سے یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ اسلام کی عظمت و شان بڑھائیں گے؟ ہمارے ملک میں اس قسم کے جو مدرسے ہیں, ازہر ان سے بھی گیا گزرا ہے. "
سفرنامہ روم ,مصر, شام 1884ع شبلی نعمانی
درست بات ہے اگر اپنی برینڈنگ کرنی ہے تو پھر مفت میں لفافہ دیں۔ گاہک کیوں آپ کو پیسے دے کر آپ کا چلتا پھرتا اشتہار بنے۔۔
حکومت بھی ایکشن لے بڑے برینڈ اپنی مشہوری ہمارے پیسوں پر کیوں کریں؟
یہ سستی حرکت امتیاز کے علاوہ باقی برینڈز بھی کر رہے ہیں۔۔
حق تو یہ بنتا ہے کہ ایک قومی کمیشن دیا جائے جس میں جوڈیشری، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور انٹیل ایجنسیوں کےنمائیدگان شامل ہوں اور یوں سپریم کورٹ کے تمام کے تمام وکیلوں کے کوائف کی تصدیق کی جائے، یہ لوگ براہِ راست ہائیر جوڈیشری اور قومی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں، انکو ہر کسی کا احتساب درکار ہوتا ہے مگر خود کے احتساب کی بات آئے تو ٹِڈھ میں کڑُلیں اور غشی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔
وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ ہمارے شہر تشریف لائے اور سادگی سے اپنی کاغذی کاروائی کرکے عام شہری کی طرح خاموشی سے گھر چلے گئے۔ میں انہیں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مرسوں مرسوں ٹورونٹو نا دیسوں۔ اطلاعاً عرض ہے کہ سوشل انشورنس کارڈ دو سے تین ہفتوں تک آتا ہے جبکہ ہیلتھ کارڈ شاید جلدی آجائے۔ شہریت میں کچھ وقت لگے گا لیکن پی آر ہولڈر کے لیے آنا جانا سہل ہوتا ہے۔ آپ کا بقیہ وقت جتنا بھی سندھ میں گزرے خیر خیریت سے گزر جائے اور پھر آپ ہمارے درمیان ہی کسی محلے میں گھاس کاٹتے اور برف صاف کرتے یاد الہی میں وقت گزار دیں گے۔ کوشش کیجیے گا کہ بچوں کے لیے ڈاؤن ٹاؤن میں ایک فلیٹ ضرور لیجئے گا پڑھائی میں ان کو سہولت رہے گی۔ کہاں وہ بسوں اور ٹرین کے دھکے کھاتے پھریں گے۔ مزید کوئی معلومات یا مدد چاہئے تو خادم حاضر ہے۔
آج بھی اسکو اقتدار کا آسرا کرائیں تو یہ تیل کی بوتل پکی جیب میں رکھ لے گا۔ دانتوں والے ڈاکٹر نے جب باجوہ سے ملاقات کرائ تو کو اقتدار کی واپسی کے لئیے ساری عمر کی ایکسٹنشن دینے پہ راضی تھا۔
🚨🇵🇰 Pakistan’s PM Shehbaz Sharif exposes India-Afghan backed terrorism at UN
He highlighted Taliban safe havens for TTP (Fitna al-Khawarij) and BLA (Fitna al-Hindustan) on Afghan soil.
He also called for protecting Afghan women’s and girls basic rights and access to education.
Powerful warning to India:
Water should not be weaponized.
Any attempt to stop or impede Pakistan's water will be treated as an act of war. Pakistan PM @CMShehbaz at UNGA
امریکی قبضے کے دوران امریکہ اور اتحادیوں نے افغانستان کو 170 بلین ڈالر سے زیادہ امداد grant دی۔ کئی سالوں میں یہ رقم افغانستان کی کل قومی پیداوار GDP سے بھی زیادہ تھی۔ حکومتی وار لارڈز اور طالبان دونوں کا کھاتا اسی مال سے چلتا تھا۔ اداس ہونا تو بنتا ہے۔
Some of my Pashtun friends are frustrated that I targeted the KP Assembly regarding child marriage. However, my focus is justified: every other province and the federal government have already criminalized child marriage. KP remains the only holdout. It is unacceptable that the KP government continues to lag behind in protecting children's rights. #BanChildMarriages
سب دو نمبر ہیں یہاں..ججوں اور جنرلز تو جیسے بھی ہیں کچھ کہہ نہیں سکتے کہ سالے اٹھا کہے لے جائیں گے چھترول کریں گے..لیکن سیاست دان ،افسر ، کھلاڑی ،کپتان ، پیر ،مولوی ،صوفی ،دانشور، ٹی وی اینکرز ، استاد ، شاگرد جس کو دیکھیں دو نمبر
..ہم خود بھی کونسے ایک نمبر ہیں
..بس ایک ایجنسی سنا ہے لمبر ون ہے
نسل کشی کی وجہ سے افغانستان سے ہجرت کرنے والے ایک خاندان کے فرزند جنرل موسیٰ خان ہزارہ آٹھ سال 1958-1966 تک پاکستان کی بری فوج کے کمانڈ ان چیف رہے اور انہوں نے 1965 کی جنگ کی قیادت کی۔ یہ پاکستان ہے!
آج افغانستان کے ہزارہ نسل کشی کا دن منا رہے ہیں 1890 کی دہائی میں عبدالرحمٰن خان کے دور میں نسل اور عقیدے کی وجہ سے ہزارہ آبادی کے 60 فیصد سے زیادہ افراد کا قتلِ عام کیا گیا۔ اس کے علاوہ، دسیوں ہزار ہزارہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر فروخت کیا گیا، جبکہ بڑی تعداد میں ہزارہ خاندانوں کو ان کے آبائی علاقوں سے جبراً بے دخل کیا گیا اور ان کی وسیع زمینیں اور جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ ہزاروں خاندان جان بچانے کے لیے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔
On Pakhtoon Culture day I demand KP Assembly to ban under age marriages and BachaBazi in KP, children exploitation in the name of tribal culture must end now…. #BanChildMarriages
اس شخص کے ساتھ میرا 1964 سے کواڈرینگل ھوسٹل گورنمنٹ کالج لاھور سے تعلق تھا ( دوستی کہتے مجھے حیا آتی ھے) جب ھماری عمر15سال تھی۔ بے شمار اچھے برے کام ساتھ کیے ۔ مشترکہ دوستوں کی بڑی تعداد تھیاور شاید ھے بھی ۔
عمران خان کی حکومت میں یہ وزیر تعلیم تھا۔ اس نے میرے خلاف کابینہ کی میٹنگ بعد عمران خان کے کہنے پہ پریس کانفرنس کی ۔ اور کہا کہ مجھے بیرون ملک سے ماہانہ 12لاکھ کیremittance آتی جو ایک حقیقت اور 30 سال آتی تھی اور میرے انکم ٹیکس ریٹرن میں ماقاعدگی کے ساتھ رپورٹ ھوتی تھی اور میں اس پہ ٹیکس دیتا تھا۔ اس الزام پہ عمران خان نے مجھ پہ آرٹیکل 6 کی کاروائی شروع کی اسکے بعد مجھ پہ نیب کی کاروائی شروع ھوئ اور پھر میں 6مہینے قید رہا۔ PTI کی حکومت کے دوران ھی ھائی کورٹ نے مجھے رہا کیا اور انکوائری اور الزامات کچھ بھی ثابت نہ ھو سکا ۔
یہ شخص پہلے PPPپھر مشرف کا وزیر پھر شہباز شریف کا درباری پھر PTi کا وزیر۔ اور اب کسی نئے مالک کی تلاش میں منتظر ۔
ضمیر اور وفا کے سوداگروں نے جتنی سیاست کی تذلیل کی ھے ۔ شاید جسم کے سوداگروں نے بھی اتنی تذلیل نہیں کمائ ھو گی۔
مکہ معائدے کے بعد پہلی مرتبہ تینوں ملکوں کی افواج کے سربراہان ایک چھت کے نیچے سعودیہ میں موجود
“ تمھیں سعودیہ پسند ہے سعودیہ چلے جاو “ کہنے والوں کو بتانا تھا ہم سعودیہ پہنچ چکے ہیں
یہ مناظر دیکھ کر جواد نقوی وٹے پر کسیٹیاں مارے ای مارے