پی ٹی آئی سیاسی طور پر کمزور ہو چکی ہے، لانگ مارچ میں لوگ ساتھ ہوں گے یا نہیں؟ جس علی امین گنڈاپور کو کبھی آلہ کار اور مختلف القابات دیے گئے، آج اسی کے پاس جانا پڑا۔ سہیل آفریدی کے لیے اتنے بڑے لانگ مارچ کی قیادت کرنا کتنا ممکن ہے؟
22 سال سے یہی پالیسیاں چل رہی ہیں، لیکن وزیراعلیٰ صاحب! آپ کو بھی آئے کافی وقت ہوگیا، اگر پالیسی تبدیل کرنی تھی تو شروع سے کرتے۔ اب تک تو زیادہ تر اسٹریٹ موومنٹس اور عمران خان کی رہائی کی تحریک ہی نظر آئی، دیرپا امن کی پالیسی کب بنے گی؟
آئین میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی گنجائش موجود ہے، مگر یہ اقدامات مجبوری میں اٹھائے جاتے ہیں۔ صوبائی حکومت صورتحال کو اس حد تک نہ لے جائے کہ صدر، وزیراعظم اور متعلقہ ادارے اس آئینی اختیار پر غور کرنے پر مجبور ہوں، فیصل کریم کنڈی۔
ریڈیو پاکستان کیس: سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کی 6 اکتوبر تک عبوری ضمانت منظور۔
تیمور جھگڑا: 2023 میں تحقیقات مکمل ہوئیں، تب ہمارا نام نہیں تھا، اب لاہور سے کیس میں شامل کیا گیا۔ قلعہ بالاحصار کیس کی طرح میرٹ پر فیصلہ ہو تو بات ختم۔
سہیل آفریدی کے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد سے انہیں عہدے سے ہٹانے کی خبریں گردش میں ہیں۔ نورین خان کے بعد اب وکلا کی جانب سے بھی ایسے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ کیا واقعی سہیل آفریدی کو ہٹایا جا رہا ہے یا یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں؟ آپ کی رائے؟
PTI postpones its long march, with KP CM Sohail Afridi announcing the protest will now begin from Peshawar on October 4 and proceed towards Islamabad. Further details on the route and schedule will be announced later.
@mianumarjamil سیاسی جماعتوں سے اختلاف اپنی جگہ، مگر عوام کے پیسے سے لگائی گئی رکاوٹیں ایک طرف لگانا اور دوسری طرف انہیں اٹھا کر پھینک دینا، عوامی وسائل کا ضیاع ہے۔ اگر کسی سیاسی کشمکش کی قیمت یا قربانی دینی پڑے تو اس کا بوجھ بھی آخرکار عوام ہی اٹھاتی ہے۔
لانگ مارچ ہر صورت ہو گا،پرامن ہو گا، چاہے کینٹینر رکھیں یا گولی چلائیں، اس مرتبہ نکلیں گے تو ان کرپٹ حکمرانوں کا once for all بندوبست کریں گے، سہیل آفریدی