تحریک انصاف کے واٹس ایپ گروپس میں خبر گردش کر رہی ہے عمران خان کی صحت کے مسلے کی وجہ سے پنجاب سے 7 اور خیبر پختون خواہ سے 11 اور قومی اسمبلی سے 3 اراکین اسمبلی نے اپنے استعفے جمع کروا دیے مزید استعفے متوقع ! کیا اس خبر کی کوئی تصدیق کر سکتا ہے ؟
صبح بخیر
پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں جب حریم شاہ اسمبلی آئی تھی تو نون لیگ کے اُس وقت کے انقلابیوں کو بڑا غُصہ آیا تھا کہ اسمبلی کا تقدس پامال ہوگیا ہے۔
کل 07 اگست کو یہ "اچھا جی" والی لڑکی جو نہ صرف پارلیمنٹ آئی، بلکہ پورا پارلیمنٹ گھوما اور وزارتِ اطلاعات کے دفتر کا بھی معائنہ کیا
قدرت نون لیگ سے زبردست انتقام لے رہی ہے، قوم انجوائے کرے۔
آپ کے لاکھ اختلافات سہی،مگر ایک دن سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ 'بارڈر پر کھڑے لوگوں کا بینک بیلنس چیک کرو تاکہ سچ سامنے آ سکے۔یہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہوتا ہےکہ ہمارے سرحدی جوان رشوت خوری میں پڑ گئے ہیں اور بغیر رشوت کے گاڑیاں نہیں چھوڑتے۔یہ ہمارےجوانوں کو کس راہ پر لگا دیا گیا ہے؟
🚨ہمارا ویزہ اور نائیکاپ مسلسل Deny کیا جا رہا ہے وزیر دفاع نے کہا ہمیں عمران خان کے بیٹوں کے آنے سے کوئی مسئلہ نہیں انکو مسئلہ ہونا بھی نہیں چاہیے لیکن یہ ویزہ نہیں دے رہے ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔
قاسم خان کی CNN سے گفتگو
سوات کبل پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے والا خودکش حملہ آور 2023 میں دہشت گردی کے جرم میں گرفتار ہوا، بعد میں ضمانت پر عدالت سے رہا ہوا، اور پھر افغانستان چلا گیا۔یہ پورے نظامِ انصاف اور تفتیشی عمل پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ اگر دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار شخص عدالت سے رہا ہو کر دوبارہ افغانستان گیا اور پھر خودکش حملہ آور بن کر واپس آیا، تو عوام کو بتایا جائے کہ اس کی رہائی کس بنیاد پر ہوئی؟ ایسے فیصلوں کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر کسی کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق سخت جوابدہ بنایا جائے۔ دہشت گردی کے معاملات میں معمولی لاپرواہی بھی بے گناہ جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔
جماعت اسلامی کی خواتین کا کل ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج تھا، اسلام آباد پریس کلب کے باہر سے گزار تو دیکھا کہ پولیس دور کھڑی سیکیورٹی دے رہی ہے، مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا تھا، جو کہ خوش آئند ہے،
آج جماعت اسلامی کا ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان ہے، پورے ملک میں جماعت اسلامی کا کوئی ایک بھی کارکن گرفتار نہیں ہوا،
دوسری طرف عمران خان کی بہنیں اڈیالہ کے باہر قرآن خوانی بھی نہیں کر سکتیں، پی ٹی آئی کا جھنڈا خودکش جیکٹ کی طرح بین ہے،
جماعت اسلامی کو فری ہینڈ دینے کی دو ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک تو یہ کہ جماعت اسلامی کو احتجاج کا کہا گیا ہو تاکہ لوگوں کا غصہ کچھ کم ہو ، یہ دیکھ کر کہ کوئی تو ہے جو احتجاج کررہا ہے ، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ لیڈر لیس نہیں نکلتے جیسے سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں نکلے،
دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارا نظام کیونکہ عمران خان کے ساتھ لڑائی میں اپنی پوری انرجی لگائے ہوئے ہے تو ایسے میں کسی اور جماعت سے لڑائی نہیں ہو سکتی اور وہ بھی پھر جماعت اسلامی جیسی منظم جماعت۔۔۔۔۔
اگر دوسری وجہ ہے تو حافظ نعیم الرحمن صاحب امیر جماعت اسلامی بننے سے اب تک حکومت کو کسی ایک بھی معاملے پر مجبور کیوں نہیں کر سکے کہ وہ کوئی ایک ہی عوام کے بھلے کا کام کر لے، آپ کو کیا لگتا ہے؟؟؟؟
آٹھ اپریل کو میری عمران خان سے 65 منٹ کی ملاقات ہوئی تھی جس میں سے 60 منٹ عمران خان جیل میں مینٹل ٹارچر اور ان کو قید تنہائی میں رکھنے جانے کے حوالے سے بات کرتے رہے ، سلمان صفدر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے دلائل ۔۔۔ !!
27 ستمبر یعنی 2 مہینے کا وقت کیوں دیا گیا؟
کشمیر کا مسئلہ اس وقت تک نمٹایا جا چکا ہو گا۔ ستمبر کے اختتام تک فیلڈ مارشل اور انکے ساتھی ڈونلڈ ٹرمپ کے مڈ ٹرم انتخابات میں مدح سرائی کا اہم زریعہ بن چکے ہوں گے۔ خطے کی چنگی صورتحال بدل چکی ہوگی لہذا موجودہ رجیم کو کافی سپیس مل جائے گی۔ پھر کل کس نے دیکھا ہے؟
لانگ مارچ پہلے بھی ناکام ہوئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی تھی جیسا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کرو۔
بہرحال یہ 2 ماہ بھی گزر ہی جائیں گے۔
پاکستان میں ٹیکس چوری کرنا جرم نہیں لیکن ٹیکس چوری کو بےنقاب کرنا جرم ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم صاحب سگریٹ سیکٹر میں ٹیکس چوری روکنے کے لیے ہر ماہ میٹنگ کرتے ہیں اور زیرو ٹالرنس پالیسی رکھی ہوئی ہے۔ اور دوسری طرف میڈیا ٹیکس چوری کو بےنقاب کرے تو وزارت اطلاعات کے ادارے صحافیوں کے موبائل کا فرانزک آڈٹ کروانے کے لیے صحافیوں کو طلب کر رہے ہیں۔ حکومت کو واضح پالیسی دینی چاہیے کہ ٹیکس چوری کرنے والے مجرم ہیں یا ٹیکس چوروں کو بےنقاب کرنے والے صحافی مجرم ہیں۔
میڈیا کو دیکھنا چاہیے اور متحد ہونا چاہیے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹوں میں کیسے ذاتی مفادات کے لیے سکور سیٹل کیے جا رہے ہیں۔
آج ایک دفعہ پھر پی ٹی آئی قیادت نے، بالخصوص پنجاب میں 5 اگست فکسڈ میچ کھیلا، جس کا ثبوت عون بپی، معین قریشی، علی ظفر اور باقی ٹاوٹس کے ایکس پروفائل پر واضح ہے۔
ان لیڈران کے ہوتے ہوئے عمران خان اور پاکستان کی رہائی ناممکن ہے۔ ڈبو اینڈ پارٹی اسی چیز کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے
Babar Azam said, "When we saw the pitch, we decided it wasn't a typical spinner-friendly wicket like those in Pakistan. So, the coach and I decided to go with one fast bowler and two spinners, and we rested our main bowler, Mohammad Abbas, because of the team combination. We also gave a young batter his debut. The way Mohammad Ali bowled with both the new ball and the old ball, he put the West Indies under pressure. Then Ali Usman bowled really well and picked up wickets for us."
"میرے نوجوانوں جس گرمی میں آج آپ یہاں جمع ہوئے سوچیں ہمارا لیڈر پچھلے تین سال سے ہماری خاطر اس گرمی میں جیل میں بیٹھا ہے اگر وہ چاہے تو آج جیل سے رہا ہو سکتا ہے لیکن وہ کیوں گرمی برداشت کر رہا ہے؟ ہمارے لیے،ہماری نسلوں کے لیے،پاکستان کے لیے۔عمران خان کو اب عدالت سے کوئی امید نہیں رہی،چھبیسویں ، ستائیسویں ترامیم کے بعد عدالتیں مفلوج ہوچکی ہیں۔عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن پھینکا جاتا، عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی جیل میں ہی!، ان کا بھانجا حسان نیازی جیل میں ہے۔یہ ظلم وہ پورا خاندان کس لیے برداشت کررہا ہے؟ ہمارے لیے، اس ملک و قوم کے لیے"۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
بریکنگ نیوز 🚨بڑا فیصلہ سامنے آگیا، ہل چل مچ گئی، مخالفین کی چیخیں نکل گئیں 🔥🔥
وزیر اعلی سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ اب ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ لاکھوں افراد کا مجمع لے کر میں آرہا ہوں۔ تمہیں سیدھا کروں گا
Trusting bowlers who have been domestic workhorses for years & played first class games was always the need of the hour in Test cricket, proven to be the correct decision. Hope we stick to the concept of playing the right players for the right format. This Test though, belongs to Abdullah Shafique. Classy innings!
ایکسکلوسیو : عمران خان کے جیل میں تین سال مکمل ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کے پی ٹی آئی کے دعوی متعلق اہم رپورٹ سامنے آگئی
سپریڈنٹ جیل کی عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے اور امتیازی یا غیر مساوی سلوک کی تردید
سپریڈنٹ جیل کی رپورٹ کی حاصل تفصیلات کے مطابق " جیلوں میں قید تنہائی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا اب یہ رائج نہیں نا ہی عدالتیں طویل عرصے سے ایسی سزا دے رہی ہیں اڈیالہ جیل میں کوئی بھی قیدی بشمول عمران خان کو قید تنہائی میں نہیں رکھا گیا عمران خان کو سزا ہو چکی وہ قانون کے مطابق قید کاٹ رہے ہیں ان کے ساتھ دوسرے قیدیوں کی طرح ہی قانونی سلوک کیا جا رہا ہے کوئی امتیازی یا غیر مساوی برتاؤ نہیں کیا جا رہا البتہ ان کے بہتر کلاس قیدی ہونے کی وجہ سے کچھ اضافی سہولیات فراہم کی گئی ہیں سابق وزیر اعظم اور سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے لیے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات ہیں اسی لیے عام قیدیوں کو عمران خان کے رہائشی حصے تک رسائی نہیں دی جاتی عمران خان قید تنہائی نہیں انکو جو سہولیات حاصل ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے یہ قیدی تنہائی نہیں "
جیل سپریڈنٹ رپورٹ میں مزید کہتے ہیں کہ " 7 سیل پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن بھر آزادانہ چل پھر سکتے ہیں صرف رات کے مخصوص اوقات میں بانی پی ٹی آئی اپنے سیل میں رہتے ہیں جیل افسران اور عملہ عمران خان کی ضروریات کے حوالے سے وقتاً فوقتاً ان سے رابطے میں رہتا ہے مجھے بھی آگاہ کرتا ہے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل معمول کے مطابق ان سے ملاقات کرتا ہے ضرورت پڑنے پر خصوصی ملاقات بھی کرتا ہے جیل کے ڈاکٹر روزانہ تین مرتبہ ان کا معائنہ کرتے ہیں کھانے کی جانچ کرتے ہیں بلڈ پریشر ، دل کی دھڑکن اور آکسیجن سیچوریشن سمیت دیگر طبی علامات چیک کرتے ہیں اور ان کو بتایا بھی جاتا ہے ضرورت پڑنے پر عمران خان کا اضافی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے عمران خان کے لیے ایک کل وقتی سزا یافتہ قیدی مقرر ہے جو بانی کے منتخب کردہ مینو کے مطابق روزانہ تین وقت کا کھانا تیار کرتا ہے عمران خان کو قدرتی روشنی ، تازہ ہوا اور طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک ورزش کی سہولت حاصل ہے جیل مینوئل کے مطابق عمران خان کی رازداری بھی یقینی بنائی گئی ہے وہ صبح لاک اَپ کھلنے سے شام لاک اَپ ہونے تک آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں دن بھر اپنی پسند کے مطابق سرگرمی کر سکتے ہیں ان کی قید کی جگہ محفوظ اور مکمل نگرانی میں ہے جہاں جیل عملہ مناسب تعداد میں موجود ہے میں اور جیل کے دیگر افسران ان کے قید کی جگہ کے حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہتے ہیں جیل قواعد کے مطابق عمران خان کو ہر منگل اپنی اہلیہ بشریٰ عمران سے ملاقات کی اجازت ہے عمران خان پی ٹی آئی کو باقاعدگی سے اپنی پسند کے اخبارات اور کتابیں فراہم کی جاتی ہیں "
رپورٹ میں مزید کہا گیا " فرینڈ آف کورٹ کے طور پر سلمان صفدر نے 10 فروری 2026 کو ان کے سیل کا معائنہ بھی کیا تھا سلمان صفدر نے بانی کی رہائشی اور قیدی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا تھا رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی عمران خان کی حراست اور رہائشی حالات مناسب اور اطمینان بخش ہیں، اور ان میں قید تنہائی کا معمولی سا بھی عنصر موجود نہیں درخواست گزار علیمہ خانم کے الزامات محض قیاس آرائی اور بے بنیاد ہیں لہٰذا استدعا ہے درخواست کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا جائے "
Pakistan have often crumbled after making good starts in recent Tests. That could be due to a lack of temperament for the longer format, which Pakistan’s players get very little, whether in Test cricket or first-class cricket. They will look to correct that imbalance today.