ہم نہیں چاہتے کہ فورسز اور دھرنا دینے والوں کا آمنہ سامنا ہو۔ ہم امن، سکون اور مذاکرات چاہتے ہیں۔ مسائل کا پائیدار حل طاقت نہیں بلکہ ڈائیلاگ سے ہی ممکن ہے۔
خواجہ سعد رفیق
اگر کوئی میاں محمد نواز شریف صاحب کا ایسا ایک بھی بیان ثابت کر دے جس میں انہوں نے کہا ہو کہ ہمارے شہداء تنخواہ کے لیے جان قربان کرتے ہیں، تو وزارت چھوڑنے کے لیے تیار ہوں،حنیف عباسی
سینیٹر انوشہ رحمان صاحبہ میری بہن پیچھے رہ کر سارا سیکرٹریٹ کا کام کرتی ہیں،انہوں نے پنجابی میں تقریر کرکے کھڑاک کردیا ہے،کھڑاک ابھی ختم نہیں ہوا،یہ اُن کی ابھی پہلی پنجابی تقریر ہے،خواجہ سعدرفیق
مولانا فضل الرحمن حلفا یہ کہ دیں کہ “ آج تک انہیں اسی فوج نے سہولتکاری فراہم نہیں کی “ اور جب آپکو جگہ ملتی ہے تو وہ حلال ہے اور جب آپکو جگہ نہیں ملتی تو وہ حرام ہے “
ناظرین اختیار ولی نے اصل مدعا بیان کردیا اور آج بھی مولانا اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جگہ کا ہے
نوازشریف صاحب نے خواجہ سعدرفیق دی ڈیوٹی لگادتی کہ توں سوشل میڈیا تے کشمیر دا مقدمہ لڑیا اے،ہُن جا ،تے پنجاب دیاں دس سیٹاں تے وی کشمیر کا مقدمہ لڑ،سینیٹر انوشہ رحمان
بریکنگ نیوز
پاک فضائیہ کے شاہینوں کا وار
پاک فضائیہ کے شاہینوں نے JF-17 کی مدد سے بکا خیل اور نرمی خیل کے علاقے میں ایک کمپاؤنڈ پر بمباری کی جہاں 30 سے زائد فتنۃ الخوارج TTP کے دہشتگرد جمع تھے، بمباری کے نتیجے میں وہاں موجود تمام خارجی دہشتگرد جہنم واصل ہو گئے.
اگر ماضی کے بیانات پر ہی کھیلنا ہے تو مولانا فضل الرحمان کے والد کا بیان ڈاکٹر اسرار احمد کی زبانی سن لیجئیے
ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں ہیں
مولانا صاحب سناؤ فیر
آزاد کشمیر کے لوگ خون خرابے کو نہیں PMLN کو ووٹ دیں،جو کام پنجاب میں ہورہے وہی AJK میں ہوینگے،ایسی جماعتوں کو ووٹ نہ دیں جنکو کام کرنا نہیں آتا جنکو پرواہ نہیں:مریم نواز
میں نے اپنا بیٹا کیپٹن سلمان سرور شہید اس تنخواہ کیلئے شہید نہیں کروایا جس کا ذکر مولانا نے کیا ہے کیونکہ سیاست اور مذہب فروشی آپکا پیشہ ہے
شہدا کے وارثان میدان میں تشریف لاچکے ہیں اور اگر مولانا نے اپنے بیان پر رجوع نہ کیا تو یہ بیان مولانا کی سیاست مُکانے کیلئے کافی ہوگا
مولانا فضل الرحمن سمجھتے ہیں اُنکو اقتدار کا وہ راستہ نہیں ملا جو انکا حق تھا 2024 کے الیکشن میں سمجھتے تھے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت انہیں ملے گی وزیراعلیٰ کا نام بھی فائنل ھو گیا تھا لیکن مولانا کی جماعت اپنے گھر کی سیٹیں بھی ہار گئی اسی وجہ مولانا کا غصہ ختم ھونے کا نام نہیں لے رہا
مولانا! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ افغانستان میں اسرائیل اپنی انٹیلی جنس معلومات اور ڈرونز فراہم کر رہا ہے، جبکہ بھارت ان کی مالی معاونت کر رہا ہے؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ کراچی میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے چار دہشت گردوں میں سے تین افغان تھے؟
افواجِ پاکستان کے جوانوں کی شہادتوں کی بدولت ہی پاکستان قائم ہے، ورنہ آپ، مولانا فضل الرحمٰن، اسلام آباد میں اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں رہ سکتے تھے۔ وفاقی وزیر حنیف عباسی
🚨 ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایک دن بھارت کو پاکستان سے تیل خریدنا پڑے گا۔ اب حالات بھی اسی سمت بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شاید اسی لیے RSS اور BJP کے حلقوں میں کولمبو میں پاکستان سے بات چیت اور سمجھوتہ ایکسپریس سمیت دیگر روابط کی بحالی کی سرگوشیاں سنائی دینے لگی ہیں۔
گل وچ ھور اے
مولانا فضل الرحمان کی شہداء کے حوالے سے کی گئی باتیں نامناسب تھیں کیونکہ شہید چاہے فوجی ہو، پولیس والا، سویلین یا اعتزاز حسن جیسا کم عمر بچہ، وہ ہر صورت میں قابلِ احترام اور قابلِ فخر اثاثہ ہے مولانا کا موجودہ جارحانہ رویہ نظام کی تشکیل کے بجائے ذاتی مفادات اور سیاسی خدشات کا نتیجہ ہے جس میں انہیں یہ اندیشہ ہے کہ آئندہ سیاسی سیٹ اپ میں عمران کے ساتھ معاملات طے پانے کی صورت میں وہ اقتدار کے حلقوں سے باہر رہ جائیں گے۔