Last time Trump was on CNN, he knocked it out of the park. I believe he will do even better against Fake Tapper on Thursday.
Trump: "You are a nasty person. I'll tell you."
یہ قیام پاکستان سے قبل 1939 میں برصغیر پاک و ہند کا نقشہ ہے جس میں واضع طور پر یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس دور میں کن کن علاقوں کی سرکاری زبان اردو تھی :-
1 - بلوچستان کی ریاست قلات - سرکاری زبان اردو
2 - کشمیر - سرکاری زبان اردو
3 - جموں - سرکاری زبان اردو
4 - دارالحکومت دہلی - سرکاری زبان اردو
5 - اجمیر - سرکاری زبان اردو
6 - راجپوتانہ ( راجھستان ) - سرکاری زبان اردو
7 - ممالک متوسط ( مدیحہ پردیش ) - سرکاری زبان اردو
8 - لکھنئو - سرکاری زبان اردو
9 - آگرہ - سرکاری زبان اردو
10 - بنارس - سرکاری زبان اردو
11 - بہار - سرکاری زبان اردو
12 - کلکتہ شہر - سرکاری زبان اردو
13 - بمبئ - سرکاری زبان اردو
14 - اورنگ آباد - سرکاری زبان اردو
15 - حیدرآباد دکن - سرکاری زبان اردو
" تاریخ کے جھروکوں سے"
پیارے پاکستانیوں!
چلتے ہیں مسلمانوں کے واشنگٹن ڈی سی میں یعنی بغداد۔
لجب ع��اسی خلفاء نے اپنی سلطنت و خلافت کے لیے ایک نئے دارالحکومت کی تعمیر کا پروگرام بنایا تو ’’مدینۃ السلام‘‘ کے نام سے خلیفہ منصور عباسی نے ایک عظیم الشان شہر کی بنیاد رکھی جو سرکاری کاغذات میں ’’مدینۃ السلام‘‘ کہلاتا تھا لیکن اس کا روایتی اور تاریخی نام ’’بغداد‘‘ ہی رہا۔
بغداد ایک زمانہ میں ’’عروس البلاد‘‘ کہلاتا تھا۔ اسلامی سلطنت و خلافت کا پایۂ تخت ہونے کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر وہی حیثیت حاصل تھی جو آج کل واشنگٹن ڈی سی کو حاصل ہے۔ یہاں بیٹھ کر ہارون الرشید اور مامون الرشید جیسے باسطوت حکمرانوں نے دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکومت کی ہے۔
بغداد علم کا مرکز تھا، فنون کا گہوارہ تھا اور دنیا بھر کے اہل علم و دانش کا مرجع تھا، مگر عباسی خلفاء اور ان کی سلطنت کے زوال کا اثر بغداد پر بھی پڑا۔
جب فروری 1285ء میں منگول سردار ہلاکو خان نے سلطنت عباسیہ کے آخری تاجدار معتصم باللہ کو شکست دے کر قتل کر ڈالا تو نا صرف عظیم الشان عباسی سلطنت و خلافت تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہوگئی بلکہ ہلاکو خان نے بغداد کی بھی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس موقع پر اس قدر وحشیانہ قتل عام ہوا کہ بغداد کی بیس لاکھ آبادی میں سے پندرہ لاکھ کے لگ بھگ اس قتل عام کی بھینٹ ��ڑھ گئے۔ کتب خانے جلا دیے گئے، علماء و دانشور تہہ و تیغ کر دیے گئے، ا ور علم و تہذیب کے نشانات تک مٹا دیے گئے۔
وجہ یہ بنی کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر آپسی اختلاف مسواک کا سائز اتنا ہو نہیں اتنا ہو نہیں جی اتنا ہو ہلاکو خان نے کہا کہ اگر ہیرے جواہرات اکٹھے کرنے کی بجائے کچھ اسلحہ بھی بنا لیا ہوتا تو میں کبھی حملہ کرنے کا نہ سوچتا۔
اس کے بعد بغداد پھر آباد ہوا اور اس کی رونقیں کسی حد تک بحال ہونے لگیں، اگرچہ وہ اب اسلامی خلافت کا پایۂ تخت نہیں رہا تھا مگر اپنے شاندار ماضی کے حوالے سے اس کی عظمت کی روایات موجود تھیں۔ مگر 1401ء میں اسے امیر تیمور لنگ کی یلغار کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے بھی بغداد پر قبضہ کے بعد قتل عام کا بازار گرم کر دیا جس میں بغداد کی ایک آبادی کا ایک بڑا حصہ نشانہ بنا۔ پھر بغداد نے تقریباً ایک صدی سکون سے گزاری اور وہ ابھی سنبھل ہی رہا تھا کہ 1508ء میں ایران کے صفوی حکمران شاہ اسماعیل نے اس پر چڑھائی کر دی۔ صفویوں نے بغداد پر قبضہ کر لیا، عام باشندوں اور سرکردہ سنی رہنماؤں کو قتل عام کیا، اور حضرت امام ابوحنیفہؒ اور حضرت شاہ عبد القادر جیلانیؒ سمیت بہت سے بزرگوں کے مزارات اجاڑ دیے۔
اس کے بعد!
خلیفہ عثمانی سلطان سلیمانؒ نے 1534ء میں ایک بڑے معرکہ کے بعد بغداد پر قبضہ کر لیا اور اسے سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنا لیا۔ سلطان سلیمان نے حضرت امام ابوحنیفہؒ اور حضرت شاہ عبد القادر جیلانیؒ سمیت بہت سے بزرگوں کے مسمار شدہ مزارات دوبارہ تعمیر کرائے ۔
1632ء میں ایرانی حکمرانوں نے ایک بار پھر قسمت آزمائی کی اور شاہ عباس اول نے بغداد پر قبضہ کر لیا۔ لیکن 1638ء میں عثمانی خلیفہ سلطان مراد چہارم نے پھر بغداد پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد مسلسل تین صدیوں تک بغداد اور عراق خلافت عثمانیہ کا حصہ رہا بیسیوں صدی عیسوی کے آغاز میں پہلی جنگ عظیم کے موقع پر قسطنطنیہ (استنبول) کی خلافت عثمانیہ نے یورپی اتحادیوں کے مقابلہ میں جرمنی کا ساتھ دیا جس میں جرمنی کے ساتھ خلافت عثمانیہ بھی شکست سے دوچار ہوئی۔
اس دوران یورپی اتحادیوں نے خلافت عثمانیہ کی حدود کے اندر ترک قومیت اور عرب قومیت کے درمیان منافرت کا طوفان کھڑا کر دیا تھا اور برطانوی جاسوس میجر لارنس نے ایک عرب دانشور کے روپ میں عربوں کو ترکوں کے خلاف ابھارنے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ اس نے مکہ مکرمہ پر خلافت عثمانیہ کے نمائندہ گورنر شریف مکہ حسین بن علی کو اس لالچ پر خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت پر اکسایا کہ اس کی خلافت قائم کر دی جائے گی اور اس کے ہاشمی اور عرب ہونے کی وجہ سے دنیائے اسلام اسے آسانی کے ساتھ ’’امیر المومنین‘‘ تسلیم کر لے گی۔ مگر میجر لارنس نے شریف مکہ حسین بن علی کے بیٹوں کے ساتھ الگ الگ ساز باز بھی کر رکھی تھی۔ چنانچہ جب شریف مکہ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف مسلح بغاوت کر کے ترک فوج کو حجاز مقدس سے نکال دیا تو میجر لارنس نے ستمبر 1918ء میں انہی شریف مکہ کے بیٹے فیصل کے ساتھ مل کر شام پر یلغار کی اور دمشق پر قبضہ کر کے شام میں فیصل کی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔
مگر جولائی ۱۹۲۰ء میں فرانس نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور فیصل کو
جاری ہے 👇🏻
تاریخی سچ ۔۔۔۔۔۔۔ صوبیدار عبدالخلیل صدیق گیارہ سو قبائلیوں کے قتل عام کرنے پر ملکہ وکٹوریہ سے ملٹری کراس کا ایوارڈ پاتا ہے ۔یہ مولانا فضل الرحمان کے دادا تھے اس صوبیدار کے پوتے کا فجی میں 9 ارب مالیت کا ایک ٹورسٹ ریزورٹ کا مالک بنا ہوا ہے ۔جس کو اس کا بیٹا اسد محمود اور اس کا بھائی عطاء الرحمان اور منسٹری آف ٹورازم کا ایک ریٹائرڈ سیکرٹری فضل محمود چلا رہا ہے اس ریزورٹ میں جوا ۔ شراب ۔ زنا کی سب سہولیات موجود ہیں۔