پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے اس کے صوبے اقوام کی تاریخی جغرافیائی ثقافتی و لسانی شناخت پر مبنی ہے، 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے اور انہیں بند کمروں میں بیٹھ کر چھیڑنا ملکی مفاد میں نیک شکون ثابت نہیں ہوگا، بہتر یہی ہے کہ لوکل گورنمنٹ نظام کو مظبوط کیا جائے۔
#نئےصوبےنامنظور
اس وقت حالات اس نہج پر ہے کہ سیکورٹی فورسز اور مزاحمت کار بات کرنے کو تیار نہیں، معاملات کو ٹھنڈا کرنے کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ڈاکٹر مالک بلوچ
#Balochistan#Quetta
سوراب واقع قابل مذمت ہے اور آنے والے وقت میں بلوچستان میں مزید حالات کی کشیدگی دیکھ رہے ہیں اور ایسا نہ ہو کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ہماری بہنوں کو پتہ بھی نہ ہو اور کاروائی ہوجائے کیونکہ سوراب کے بعد مزید خطرات بڑھ گئے ہیں،ڈاکٹر مالک بلوچ
#Balochistan#Quetta
26اگست، نواب اکبر خان بگٹی کو شہید کرکے جنرل مشرف نے بلوچستان میں جو چنگاری لگائی وہ آگ آج تک تھم نہ سکا اور شعلہ بن گیا،نواب بگٹی 85سال کے عمر میں تھےاسے انتقال کرنا ہی تھا مگر مشرف کے اس مکروہ عمل سے وہ نہ صرف امرہوئے جبکہ مشرف کےعزیزُبھی اس کے نام لیوا نہ رہے
قائد بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بلوچستان کے سیاسی استاد ہیں استاد کا احترام کرنا واجب ہے ڈاکٹر صاحب محسن بلوچستان ہیں اسد بلوچ یہ جان لے کہ ڈاکٹر مالک کے ساتھ گستاخی نا قابل برداشت ہے
#LeaderDrMalikBaloch#NPDrMalikBaloch#NationalParty#npmedia
بلوچستان کا رقبہ 43 فیصد ہے لیکن ، اسکی قومی اسمبلی میں سیٹیں صرف 16 ہیں، این ایف سی میں صرف پانچ فیصد حصہ ملتا ہے ۔ پانچ فیصد سے کیا ترقی ہو سکتی ہے ۔ جان محمد بلیدی سینیٹر
نیشنل پارٹی کے رکن آصف کریم کھیتران کو لاپتہ کرنا اور کوئٹہ میں پارٹی کے سینئر رہنما کامریڈ غفار بلوچ کے گھر پر چھاپہ بلوچستان میں جاری جابرانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ آصف کھیتران کو مسلسل ہراساں کرنے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے جبکہ غفار قمبرانی کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلوچستان میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے سیاسی کارکنوں کو ہراسانی اور جبری گمشدگی کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان منفی پالیسیوں کے باعث نفرت اورتشدد میں مزید اضافہ ہو رہا ہے مگر حکمرانوں نے قانون کی عملداری کی بجائے ماورائے آئین اقدامات کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ آصف کھیتران سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب اور سیاسی کارکنوں کی ہراسانی کا سلسلہ بند کرکے قانون کی پاسداری یقینی بنانے کی ضرورت ہے اس کے بغیر قیام امن ممکن نہیں۔
متحرک صحافی اور نیشنل پارٹی کے رکن آصف کریم کھیتران کو مسلسل ہراساں کرنے کے بعد اب جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے۔ یہ اقدام بلوچستان میں دہائیوں سے جاری جابرانہ روش کی آئینہ دار ہے جس کے تحت اختلاف رکھنے والوں کی ہراسگی اور جبری گمشدگی کے زریعے زبان بندی کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس پالیسی کے باعث نفرتوں اور تشدد میں سنگین اضافہ ہوا ہے مگر حکمرانوں نے قانون کی عملداری کے بجائے ماورائے آئین اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ آصف کریم سمیت دیگر لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔