If you want to know how she knows what the public needs, this is how she goes to common citizens and ask them how much they earn! These interactions show how CM Punjab @MaryamNSharif stays rooted to her people. If you want to know how comfortable the people are with her, watch this road side seller call her "baji" like she is an elder of the family, a family every Pakistani living in Punjab feels a part of.
یوتھ ونگ صدر سینٹرل پنجاب میاں حسن شکیل کی بہن کے گھر پولیس کا ریڈ
یہ غنڈہ گردی ریاستی وردی میں ہورہی ہے کیسی بے شرم گھٹیا پولیس ہے جو گھر کے دروازہ اس طرح توڑ رہی ہے جہاں چادر چار دیواری میں خواتین ہوتی ہے
ان لوگو کا غیرت سے دور تک تعلق نہیں
مریم نواز کو جا کر بتا دو ، جو کرنا ہے کر لو پرچہ نہیں ہو گا ۔۔۔ خاتون کے ساتھ دوران ڈ۔کیتی زیا۔دتی ۔۔۔ پولیس والے پرچہ درج کرنے سے انکاری ۔۔۔۔۔ حافظ آباد کے نواح میں دو روز قبل پیش آیا افسوسناک واقعہ ۔۔۔۔ مہوش نامی خاتون رات کے وقت اپنے بچوں کے ہمراہ گھر میں اکیلی تھی اسکا خاوند کام کے سلسلہ میں گھر سے باہر تھا اس دوران جج بھٹی نامی ایک غنڈہ بدمعاش گھر میں گھس آیا چالیس ہزار کی نقدی زبردستی ٹرنک سے نکلوائی اور پھر خاتون کے ساتھ پستو۔ل کی نوک پر زیا۔دتی کی پھر فرار ہو گیا ، خاتون کے شور مچانے پر اہل محلہ اکٹھے ہو گئے 15 کو کال کی اور جب ملزم کے خلاف نامزد پرچہ دینے کا مطالبہ ہوا تو ایس ایچ او نے ٹال مٹول سے کام لیا اور واپس چلا گیا ۔۔۔۔ پھر خاتون اپنے بھائی اور شوہر کے ہمراہ تھانے گئی اور پرچہ درج کرنے اور میڈیکل کروانے کا مطالبہ کیا تو پولیس نے انکار کردیا ، پولیس والوں کے بقول : جسکو بتانا ہے بتا دو ، جو کرنا ہے کر لو بے شک مریم نواز کے پاس چلے جاؤ ، ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تم ۔۔۔ خاتون نے وزیراعلیٰ مریم نواز ، سی سی ڈی حکام اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ اس نے ملزم جج بھٹی کو پہچان لیا ہے اسکے ساتھ ہوئے ظلم کا مقدمہ درج کیا جائے ملزم کو گرفتار کیا جائے اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔۔۔۔
ایک بار ضرور پڑھیں
آج میں نے اپنے شہر کے باہر والے روڈ پر ایک عجیب منظر دیکھا، جو ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے
میں بائیک پر کھڑا تھا کہ دو خواتین نے رکشہ بُک کیا۔ کرایہ طے ہونے لگا۔
رکشہ والے نے کہا: 250 روپے لگیں گے باجی
خواتین: نہیں بھائی، 200 سے ایک روپیہ اوپر نہیں دیں گی، بس!
کافی بحث کے بعد غریب رکشے والا 200 پر مان گیا۔ پسینہ بہا کر، محنت سے کمانے والا 50 روپے ہار گیا۔
خواتین رکشے میں بیٹھیں ہی تھیں کہ ایک بھکاری آ گیا۔ ہاتھ پھیلایا۔
اور بنا ایک لمحہ سوچے، اُن میں سے ایک خاتون نے پرس سے پچاس کا نوٹ نکال کر اُسے دے دیا۔
میں یہ سب دیکھ کر بس سوچتا رہ گیا...
جس رکشے والے نے دھوپ میں جل کر آپ کو منزل تک پہنچانا تھا، اُس سے 50 روپے کے لیے جھگڑا کر لیا۔
اور جس نے صرف ہاتھ پھیلایا، اُسے پچاس روپے فوراً دے دیے؟
یہ کیسی سوچ بن گئی ہے ہماری؟
محنت کی قیمت کم اور بھیک کی قیمت زیادہ کیوں ہو گئی ہے؟
کیا وہ رکشہ ڈرائیور اُس پچاس روپے کا زیادہ حقدار نہیں تھا جس نے پسینہ بہانا تھا؟
کبھی کبھی لگتا ہے ہم ہمدردی غلط جگہ دکھا رہے ہیں۔ محنت کش کو اُس کا حق دو، عزت دو۔ بھیک نہیں، روزگار کو فروغ دو۔۔۔۔۔۔
ریپوسٹ ضرور کریں ۔شکریہ
Eagerly waiting for president #trump's announcement
Blockade removed either due to agreement with #iran
or
on the request of two fantastic persons #PMShehbaz and field marshal #Asim_Munir#IranvsUS_war
کیا ایک غریب، مقروض در مقروض ملک کے اندر اس طرح کی عیاشی کی اجازت دی جا سکتی ھے؟ ۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر گدھ حکمران ہیں جو ہماری ہڈیوں سے گوشت بھنبھوڑ رہے ہیں تو غلط نہیں۔ اتنا عملہ تو کوئی شہنشاہ بھی نہیں رکھتا۔
وزیر اعلی سندھ کے اخراجات ملاحظہ فرمائیں۔
So the final verdict from session court of Meesha Shafi vs Ali Zafar defamation case came out.I was not only a primary character witness, I knew both families and both children very closely. If I took a side, it was with 100% certainty and belief.
For me, Meesha Shafi’s issue ended the day every girl who supported her — including me — was dragged into criminal cases. I was told I could face three years in prison. And if that happens, I will go and serve those three years, because I do not step back from my truth — and anyone who knows me, knows this.
People were silenced, pressured, bought, and scared. The entire support system was broken. On top of that, we were accused of running a foreign agenda, of being paid huge amounts in dollars. I said it then, and I say it again — prove it in court. I am ready to open all my bank accounts, everything.
The truth is, every woman knows that at some point in her life, she has been physically harassed. Sometimes in a room full of people, someone touches you in a way you cannot even process, and you cannot even speak. We have all gone through this — as children, as young women, and even today.
So when a star of this magnitude, who needed no fame, who comes from a respected family, speaks up — is it for fame? Is it some personal enmity? What did she gain from this case? What did we gain except abuse, lies, and humiliation?
We did not step back because we knew that if we lost this case, then every woman who suffers this every day would lose with us. And from that day on, no woman in this country would ever be believed. The entire Lahore, the entire industry knows the truth.
This is not Meesha Shafi’s loss, or Saba Hameed’s, or Iffat Omar’s. And this five million penalty — we can pay it right now. It’s not about that.
It’s about the fact that women will continue to be touched inappropriately, even when married, even by men who are “friends” of their husbands. We all know this is the reality of a man’s world.
From today onwards, even I will not believe a woman in Pakistan — because surely, the man must be right.
And my honorable courts, thank you for proving this.
It’s a man’s world. Goodbye.
عقل کے کرپٹ انسان
یہ گریٹر اسرائیل کے چکر میں حملے کر رہا ہے اسرائیل بقا کی جنگ نہیں لڑ رہا
بقا کی جنگ ایرانی لڑ رہے ہیں جن پر مذاکرات کی آڑ میں بلاجواز حملہ کیا گیا اور سکول کے بچے مارے گئے
مسلمانوں کی آپس میں لڑانے کی کوشش میں باقی اسلامی ممالک کو میزائل مارے گئے
یہودیوں کو کئی ہزار سے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کئی بڑی طاقتوں نے کوشش کی۔ ان میں مسلمان بھی شامل تھے۔ ہٹلر نے سب سے زیادہ ظلم کیا۔ لیکن یہودی پھر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انھیں بار بار بیت المقدس سے نکالا جاتا ہے لیکن وہ گھوم پھر کے وہیں آجاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہودی ذہین ہوتے ہیں۔ تعلیم کے شوقین۔ بہترین کاروباری بھی۔ ٹیکنالوجی کے ماہر بھی۔
ایٹمی طاقت بننے کے بعد اسرائیل کو ختم کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ لیکن کسی معجزے سے ایسا ہو بھی جائے تو یہودی پھر اپنی طاقت جمع کریں گے۔ پھر واپس آئیں گے۔
کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ انھیں ان کے وطن میں رہنے دیا جائے۔ ان کا زندہ رہنے کا حق تسلیم کرکے معاملات آگے بڑھائے جائیں۔ اسرائیلی کو اپنی بقا کا خطرہ نہیں رہے گا تو فلسطینیوں کی بقا بھی یقینی ہوجائے گی۔ ایران اسرائیل کو ختم کرنے کی دھمکیاں بلکہ ارادہ چھوڑ دے تو مستقبل میں کوئی جنگ نہیں ہوگی۔
یہ ایک مشکل صورتحال کا آسان حل ہے۔ جنگیں کرکے بھی یہی انجام ہوگا۔ مذاکرات کی میز سے بھی یہی حل ملے گا۔ جس قدر جلد اس پر اتفاق ہوجائے، اتنی جانیں بچائی جاسکیں گی۔
🚨BREAKING: The Islamic terror regime in Iran just launched another wave of ballistic missiles with cluster munitions to kill as many Israelis as possible.
This is a war crime.