اگر مریم نواز یا آصفہ بھٹو اس طرح جیل کے باہر زمین پر بیٹھی ہوتی تو ابھی تک عورت مارچ، پاکستانی لبرلز اور سرکاری مولویوں نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔
لیکن افسوس یہ عمران خان کی بہن ہے۔ عورتوں کی عزت پر آیات سنا کر تقریریں جھاڑنے والے یہاں خاموش اور شریک جرم نظر آتے ہیں۔
عمران خان میرا لیڈر ہے، اُس کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، میں اپنے لیڈر کے ساتھ سچا تھا، ہوں اور رہوں گا، جب تک میری سانس میں سانس ہے، عمران خان زندہ باد کہتا رہوں گا، کوئی فرق نہیں پڑتا آپ کتنی بار مجھے میرے بستر سے اُٹھا کر گرفتار کرتے رہیں، یہ وفا رُک نہیں سکتی، عون عباس بپی
مطیع کی گرفتاری حکومت میں شامل جماعتوں کے لئیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ ایک وہ دِن بھی تھا جب مطیع کے پہلے اغوا پر انہیں جماعتوں کے سربراہان صحافتی آزادی کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اُن کے گھر جا پہنچے تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ سب ٹوپی ڈرامہ تھا۔ اپوزیشن میں گفتگو اور ،اقتدار میں چلن اور۔
ہر شخص ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے کہ کتنے لوگ ہیں، میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ قافلہ تعداد اور جذبات میں اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ اسکے بعد اب گنتی ہی بے معنی ہو چکی ہے۔ ابھی تو اسلام آباد، راولپنڈی اور پنجاب کی عوام شامل ہوئے ہی نہیں تو دنیا بھر کا میڈیا اور حکومتیں اس طرف متوجہ ہو چکی ہیں۔ لہذا اگر، اگر تحریک انصاف کی قیادت نے compromise نہ کیا اور وہ اپنے مطالبات پر ڈٹی رہی تو عوام اتنی زیادہ ہے کہ ریاست کو عمران خان کا ایک نہیں بلکہ تمام آئینی اور جمہوری مطالبات ماننا ہی پڑیں گے
#نومبر24_یوم_انقلاب