جاپانی اداکار ہیرویوکی سناڈا نے انسانی فطرت کے تضادات کے بارے میں کہا:
"کچھ لوگ اپنے گھر میں سوئمنگ پول کا خواب دیکھتے ہیں، جبکہ جن کے پاس ہوتا ہے وہ اسے شاذ و نادر ہی استعمال کرتے ہیں۔ جو اپنے کسی پیارے کو کھو دیتے ہیں وہ گہرے غم میں ڈوب جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنے زندہ رشتہ داروں کی قدر نہیں کرتے اور شکایت کرتے رہتے ہیں۔ جن کے پاس شریکِ حیات نہیں ہوتا وہ اس کی خواہش رکھتے ہیں، اور جن کے پاس ہوتا ہے وہ اکثر اس کی قدر نہیں کرتے۔ بھوکے لوگ ایک وقت کے کھانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں، جبکہ سیر لوگ کھانے کے ذائقے پر اعتراض کرتے ہیں۔ جن کے پاس گاڑی نہیں ہوتی وہ اس کا خواب دیکھتے ہیں، اور جن کے پاس ہوتی ہے وہ ہمیشہ بہتر گاڑی کی تلاش میں رہتے ہیں۔"
خوشی کا راز شکرگزاری میں ہے: جو کچھ ہمارے پاس ہے اسے دل سے دیکھنا اور اس کی قدر کرنا، اور یہ سمجھنا کہ کہیں کوئی ایسا بھی ہے جو ہماری ان نعمتوں کے لیے سب کچھ دینے کو تیار ہے جنہیں ہم معمولی سمجھ لیتے ہیں۔
غلط انسان کو اگر آپ اپنا بہترین بھی پیش کریں
تب بھی وہ کبھی کافی نہیں ہوگا.
جبکہ صحیح انسان کے لیے آپ کا محض موجود ہونا ہی قابل ستائش اور خوشی کا باعث ہوتا ہے۔
🚨 Switzerland just declared US-Israeli attacks on Iran a violation of international law.
Switzerland.
The country that hasn’t taken a side in a conflict since 1815.
An elementary school bombed. A boys’ school. Freshwater desalination plants. Oil refineries blanketed in acid rain. A civilian airport destroyed. Scores of children dead.
When your war crimes are so egregious that Switzerland stops being neutral — You have lost the moral authority of the entire world.
Spain said no. The UAE demanded answers. London marched. NYC marched. Switzerland broke 200 years of neutrality.
And Trump is at a golf resort.
🔴 Live updates: https://t.co/YisiMI3CtD
Are we entering another period of global barbarism?
Putin’s invasion of Ukraine - 500,000 dead.
Netanyahu’s war against the people of Gaza - 72,000 dead.
Trump’s war in Iran - thousands dead already.
تازہ ترین
تازہ ترین
دنیا کا سب سے زیادہ مصروف ہوئی اڈہ دبئی بند ہو گیا، indefinitely.
سرکاری طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ دبئی انٹرنیشنل کے علاؤہ مختوم ایر پورٹ بھی بند ہو چکا۔ کل۔280 جہازوں کو واپس جانا پڑا۔ اس سے پہلے 250 جہازوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ کرہ خاک کے مصروف ترین ہوائی اڈ ے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے اندیشے سے صبح سویرے سے تاریکی میں ڈوبے پڑے ہیں۔
فضائی پروازوں کی دنیا نے یہ منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔
امارات ایر لائن بند،اتحاد ایر لائن اور قطر ایئر لائنز اب برسر زمین ہیں ۔ قطر کا فضائی راستہ معطل ہونے کے بعد دوحا کا ہوائی اڈہ بند پڑا ہے۔ عرب سرزمینوں میں ایرانی میزائل تیر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں فضائی سرگرمیوں کا مکمل طور پہ خاتمہ ہے۔ ترکی نے بھی مشرق وسطیٰ اپنی ایر لائنز کو مکمل۔طور پہ روک دیا ہے۔بحرین ، عراق ،ایراں، اردن ، کویت ، اومان ، شام اور قطر کے لئے بھی پروازیں معطل۔ بڑش ائرویز کے آپریشن بھی متاثر ہوئے ہیں۔ پہلی بار دنیاکی منظر دیکھ رہی ہے۔
۔دبئ فقط ایک ہوائی اڈہ نہیں ،ممبئی سے لندن ، سنگاپور سے فرینکفرٹ اور نیروبی سے نیویارک جانے والے جہاز یہاں رکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے گزرنے والی پروازیں پروازیں اب بند ہیں ،تاخیر کا شکار ہیں یا ہزاروں میل کا زائد فاضلہ طے کرنے پہ مجبور ۔ انڈیگو نے نے الماتی کے لئے پروازیں روک دی ہیں ۔28 مارچ تک باکو،تاشقند اورطلبسی کے لئے بھی۔
پٹرول کی قیمت سو ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے اور فضائی کمپنیاں خوفناک گھبراہٹ میں مبتلا ہیں ایسے مسئلے کا وہ سامنا کر رہیں ، جس کا ان کے پاس کوئی حل نہیں۔کریں تو کیا کریں۔ نہ صرف فضائی سفر کی طوالت کا بحران ہے بلکہ آبنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ بھی لاحق ہے، جہاں سے روزانہ دو کروڑ دس لاکھ بیرل تیل صنعتی ممالک کو پہنچتا ہے۔
ایک اور پہلو بھی ہے، جس پر ابھی بات نہیں ہورہی ۔امارات کی معیشت کا تمام تر انحصار فضائی رابطوں پہ ہے ۔صرف تجارت نہیں، سیاحت کو بھی نہ سنبھلنے والا دھچکا لگے گا۔ امارات کی معیشت کا تمام تر انحصار اس پر تھا کہ وہ ایک محفوظ سر زمین ہے۔ اب وہاں خوف اور تاریکی کا راج ہے۔
ایرانی حملے صرف امریکی اڈوں پر نہیں ہوئے۔ مشرق وسطیٰ کی ہر معیشت کو بھی لے ڈوبے۔ امارات والے یہ زخم نہیں بھولیں گے اور ایرانی کہیں گے کہ اس کے سوا ہم کیا کرتے۔ امریکی کو تم نے اڈے کیوں فراہم کئے۔ جنگی صورتحال کے لئے اس ٹویٹ کے اوپر والا ویلاگ بھی ملاحظہ کریں ۔
ولی خان اور آج کا پاکستان
ولی خان انتہا کے مستقبل شناس تھے۔ ضعیف ہوئے۔ بیمار رہنے لگے۔ ایک مرتبہ مولانا فضل الرحمان مزاج پرسی کے لئے گئے۔ ولی بابا نے آؤ بھگت کی۔ لڑکوں کو دوڑایا کہ مولانا صاحب کی مہمان داری میں کوئی کمی کوتاہی نہ آئے۔ پھر مولانا سے گفتگو کرنے لگے۔ مولانا سے پوچھا کہ بیٹا یہ بتاؤ کہ یہ جو افغانستان میں جنگ ہوئی یہ ک فر اور اسلام کی لڑائی تھی یا روس اور امریکہ کی۔ تب تک تو بات کھلی چکی تھی۔ مولانا بولے کہ بابا یہ تو امریکا اور روس کی لڑائی تھئ۔ اگلا سوال کیا کہ روسی کتنے مرے اس جنگ میں۔ مولانا نے کہا اتنے۔ اور امریکی کتنے مرے؟ وہ تو بابا کوئی نہیں مرا۔ امریکیوں کی طرف سے کون مرا؟ زیادہ تر قبائلی پشتون اور باقی پاکستان کے لوگ۔ تب ولی خان نے کہا کہ بیٹا یہی بات جب ہم آپ کے والد صاحب کو سمجھاتے تھے کہ مفتی صاحب یہ جہاد نہیں فساد ہے تو ہم پہ فتوے لگتے تھے۔ ہم نے مفتی صاحب کو یہ بھی عرض کی تھی کہ مفتی صاحب اس خطے کے لوگ پیدائشی مسلمان ہیں۔ ان کے اندر زور زبردستی مزید اسلام نہ گھسائیں۔ یہ اضافی اسلام ان کے اندر خراب ہوجائے گا اور اس خراب اسلام کو نکالنے کے لئے اس سے زیادہ خون خرابہ کرنا پڑے گا۔
تو بات یہ ہے۔ کہ یہ وہ اضافی اسلام ہے جو اندر جا کے خراب ہو چکا ہے۔
The Pakistani military is forcing thousands of families to evacuate from Khyber District’s Tirah Valley ahead of a security operation it says will target Pakistani Taliban fighters who now control parts of the region. Al Jazeera’s Kamal Hyder reports.