strongly condemn the horrific acid attack on Dr. Mah Noor Nasir at Sandeman Hospital in Quetta. This inhumane and deeply disturbing act is an attack not only on an individual but also on the values of humanity and justice.#Quetta
The acid attack on a female doctor while she was performing her duties at Civil Hospital Quetta is extremely shameful, condemnable, and deeply disturbing. We stand in solidarity with Dr. Mah Noor Nasir, her family, and the entire medical community during this difficult time.
The Chief Minister's prompt decision to airlift Dr. Mah Noor to Karachi for urgent medical treatment is a commendable and timely step. We pray for her swift and complete recovery.
The government must ensure the safety and security of doctors and healthcare workers so that they can perform their professional responsibilities without fear or threat
گزشتہ رات پرامن سیاسی ورکر عارف سلیم کے گھر پر ہونے والے دھماکے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
صوبائی حکام نہتے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، جس کے باعث مسلح جتھے آزادی سے عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں
پارٹی رہنما ٹھیکیدار عارف سلیم کے گھر پر ہینڈ گرنیڈ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی اور بلوچی روایات کے منافی ہے
عام شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے گھروں کو نشانہ بنانا، خواتین اور بچوں تک کو نہ بخشنا اور رہائشی علاقوں پر بمباری کرنا ناقابل برداشت جرم ہے۔
ریاست بلوچستان کو کالونی نہ سمجھے، قومی مفاہمتی پالیسی بنائے: سنیٹر جان بلیدی
نیشنل پارٹی ، مسلم لیگ (ن) سے محبت کیوں کرتی ہے؟ دولت پورے پاکستان کی لیکن اسلام آباد اس پر صرف اپنا قبضہ چاہتا ہے https://t.co/4apaNHvsKx #Balochistan
Dissenting opinions, particularly calls for political engagement and reconciliation, were absent from the final consensus, though some voices were raised in this regard by a few opposition figures, including https://t.co/g1usLj49Vk
اسلام آباد میں خدیجۃ الکبریٰ امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ میری اظہار ہمدردیاں،اور زخمیوں کے جلد صحت یاب ہونے کے لیے دعاگو ہوں۔
پاکستان کی تمام سنجیدہ سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان معاملات میں بیٹھ کر نیا حل نکالیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ نیا نیشنل ایکشن پلان تیارکرنا چاہیے۔
ہمیں سرجوڑ کر سوچنا چاہیے کہ بلوچستان کے یہ بچے ریاست کے خلاف کیوں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں آخر ان کے پیچھے بنیادی بات کیا ہے۔
اسلام آباد کی ملٹری، سول اور سیاسی قیادت بلوچستان کو سمجھنے سے قاصر ہے، طاقت کے زور پر بلوچستان میں امن قائم کرنے کے بجائے ملٹی ڈائی مینشنل سٹریٹیجی اپنانی پڑے گی، بلوچستان میں بے روزگاری، بارڈر ٹریڈ اور مائن اینڈ منرل بلز جیسے مسائل کا ماحول کو گرم کرنے میں ہاتھ ہے،@nguramani
ظہور جان،سیاسی تاریخ بڑی بےرحم ہوتی ہے۔ذرا ماضی کی ملکی سیاست پر نظر ڈالیں تواندازہ ہوگا کہ کس کیساتھ کیا کچھ نہیں ہوا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کل آپ اپنے تحفظات لیے طاقت کےکوریڈورسے باہر بیٹھے ہوں اور سننے والا کوئی نہ ہو۔ان کےتو پھر بھی حقیقی اور تسلیم شدہ تحفظات ہیں،مگر آپ لوگوں کا؟
Thanks to electoral manipulation, there is a widespread perception that the gvt is unrepresentative and has thus failed to establish its authority. Those elections were criticised as marginalising even Baloch nationalists seeking democratic rights within the federal structure
https://t.co/VHVixpIlLP The civilian administration is non-existent in large parts of the province. Besides, the uptick in violence has also been evident following the controversial 2024 national elections.
میرا بھائی شہید ولید صالح کا سیاست سے تعلق نہیں تھا جنھیں بے گناہ شہید کیا گیا ہم سیاسی و نظریاتی لوگ ہیں کسی سے زاتی رنجش نہیں، قاتل جرات کا مظاہرہ کرکے اپنی شناخت ظاہر کریں بصورت دیگر قاتلوں کو خود بے نقاب کرینگے ۔ سیکیوریٹی اداروں کی غفلت پر تشویش ہے۔
کوئٹہ- نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور میر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو کی برسی کے موقع پر ان کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما ایسے سنیاسی کردار تھے جنہوں نے دنیاوی لالچ اقتدار کی ہوس اور زر و زور کو کبھی اہمیت نہیں دی بلکہ اپنی پوری زندگی اصول صداقت اور عوامی خدمت کے لئے وقف کر دی انہوں نے کہا کہ میر غوث بخش بزنجو آزادی کے بعد اقتدار کی راہ آسانی سے اختیار کر سکتے تھے مگر انہوں نے بلوچستان کے عوام کی عزت اور حق حاکمیت کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر بھی درویش منش انسان تھے جنہوں نے طاقت کے بجائے دلیل اور مکالمے کو اپنا ہتھیار بنایا اسی روحانی اور سیاسی طرز سیاست نے انہیں بابائے بلوچستان بنا دیامیر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ میر حاصل خان بزنجو نے بھی اپنی زندگی میں کبھی دولت اختیار اور مفاد کو اہمیت نہیں دی وہ ہمیشہ درویشوں کی طرح سادہ زندگی گزارتے رہے اور ایوانوں میں بھی سچائی اور حق گوئی کے چراغ روشن کرتے رہے حاصل بزنجو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیاستدان کم اور صوفی زیادہ تھے کیونکہ ان کی سیاست کا مرکز و محور عوام کا دکھ درد محکوم اقوام کے زخم اور جمہوریت کی پاسبانی تھی انہوں نے کہا کہ حاصل بزنجو نے اپنی زندگی میں یہ پیغام دیا کہ اقتدار وقتی ہے مگر اصول ہمیشہ زندہ رہتے ہیں وہ دنیا سے رخصت ہو کر بھی تاریخ میں زندہ ہیں کیونکہ انہوں نے طاقت اور دولت کے سامنے جھکنے کے بجائے سچائی کی مسافت کو اپنی منزل بنایا
میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی اپنے رہنماؤں کی اسی سنیاسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاست کو کاروبار یا ذاتی فائدے کے بجائے خدمت استقامت اور اصول پسندی کے طور پر جاری رکھے گی،انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کل کراچی میں مشترکہ طور پر برسی منائی جائے گی...
We condemn harassment of Journalists, ministers can not digest the stories of their corruption, @PPP_Org gathered all the corrupt Politicians under its umbrella
یہ جناب نور بلیدی ہیں ظہور بلیدی کی ترجمانی کر رہیں کہ @Akbar_notezai پر جو FIA کا نوٹس دیا گے ہے وہ ہتک عزت کا کیس ہے۔ اس کا مطلب یہ کام ظہور بلیدی نے کیا ہے ؟ ہم اس نوٹس کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔ @KiyyaBaloch