جماعت کے ساتھیوں، اپنے آپ کو اس قابل بناؤ، آپ اپنے عقیدے اور اپنے منشور پر دیانت کے ساتھ عمل کر سکیں، کیونکہ دینِ اسلام ابتدا امانت اور دیانت سے کرتا ہے۔:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
جب آپ کے اندر عبادت آئے گی تو امانت آئے گی، ایمان آئے گا، دیانت آئے گی، دین آئے گا۔ جب افراد یہ مقام حاصل کر لیں، اس کے بعد پھر جائیں کہ وہ ملک کے نظام کو سنبھالیں، اقتدار کو سنبھالیں، اور جب ایک حکومتِ عادلہ قائم ہو جائے، اس کے بعد پھر ہمارے دفاع کی بھی ضرورت ہوگی۔
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ﴾
آج کے زمانے میں ہم نے اس پر عمل کرنا ہے اس ایت پر۔
تو قوت میں عموم ہے، وہ عوام کی طرف، رِباط الخیل میں خصوص ہے، تو وہ خاص اداروں کی طرف۔ عموم اور خصوص کی مغایرت کی وجہ سے عطف آ گیا۔
اور پھر یہ بھی بتا دیا کہ ایک ہے حصولِ قوت، ایک ہے استعمالِ قوت۔ آپ کے ہاتھ میں بندوق آگئی تو اس کا یہ معنی نہیں کہ فوراً بس چلانے شروع کر دو۔ طاقت کا حصول دشمن کے اوپر رعب اور دبدبہ رکھنے کے لیے ۔۔ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم پاکستان کو دفاعی لحاظ سے طاقتور بنائیں۔
لیکن مشکل یہ ہے کہ نوآبادیاتی نظام تو ختم ہو چکا، لیکن عملاً برقرار ہے۔ براہِ راست نوآبادیات ختم ہو گئی، لیکن بالواسطہ نوآبادیات برقرار ہیں؛ سیاسی لحاظ سے بھی، معاشی لحاظ سے بھی، دفاعی لحاظ سے بھی۔
آج بھی بین الاقوامی ادارے فیصلے کرتے ہیں۔ جنرل اسمبلی، اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل، انسانی حقوق کنونشن، یہی فیصلے کرتے ہیں۔ اور اگر انہوں نے عالمی سطح پر ایک قانون پاس کیا تو ہمارے ملک میں وہ مؤثر ہوگا، ہمارا اپنا قانون غیر مؤثر ہو جائے گا۔ ہمارا آئین غیر مؤثر ہو جائے گا۔
اس کا معنی یہ ہے کہ سیاسی طور پر غلامی کے کچھ حصے ابھی باقی ہیں، اثرات باقی ہیں۔ اس کی شکل تبدیل ہو گئی ہے۔
معاشی طور پر ہم اپنے آپ کو ہزار آزاد کہیں، لیکن ہم ورلڈ بینک کے، آئی ایم ایف کے، ایف اے ٹی ایف کے، ایشین بینک کے اور قرضہ دینے والے ممالک کے نظام سے وابستہ ہیں۔ ہم ان کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے، ہم اپنے وسائل نہیں استعمال کر سکتے۔
اور آج بھی اگر ہمارے پاس معدنیات ہیں، معدنی ذخائر ہیں، تیل کے ذخائر ہیں یا گیس کے ذخائر ہیں، یا سونے، چاندی اور تانبے کے ہمارے پاس ذخائر ہیں، تو ہم اس کے مالک نہیں ہیں۔
ہمارا سیندک کا پروجیکٹ، جب سے پاکستان بنا ہے، اس پر کام ہو رہا ہے، ناکام۔ اور چین بھی ہاتھ اٹھا رہا ہے۔
ریکوڈک کہاں کھڑا ہے؟ اگر کہیں پر مائننگ ہو رہی ہے، کون کر رہا ہے اور کہاں لے جایا جا رہا ہے، اور کس طرح عوام کو لاتعلق کر جائے، ملکیت ہماری ۔۔
ہمارے آج ساری باتیں ہو رہی ہیں: صوبہ کو تقسیم کرو، صوبہ کو تقسیم۔ یعنی مسائل کا حل یہ ہے کہ صوبہ کو تقسیم کرو۔
صوبہ تقسیم ہونا ایک ہے، اس کی اصولی حیثیت ایک یہ ہے کہ کیا عملی طور پر ہم اس پر عمل درآمد کے قابل ہیں یا نہیں؟ حالات ہمیں اجازت دیتے ہیں یا نہیں؟ ماحول اجازت دیتا ہے یا نہیں؟
تو دنیا میں صوبے بنتے ہیں، انڈیا میں بنتے ہیں، افغانستان میں بنتے ہیں بھی، لیکن ہم نے اسی سال ایک نظام میں گزار دیے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ساہیوال میں خطاب
کوئٹہ: قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ، جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے رکن ملک سکندر ایڈووکیٹ کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے ان کے مرحوم بھائی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا، فاتحہ خوانی کی اور مرحوم کی مغفرت، درجاتِ بلندی جبکہ اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا فرمائی۔
اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع،سید آغا محمود شاہ و دیگر بھی ہمراہ تھے
مقتدرہ کی غیر آئینی مداخلت نے معیشت تباہ کر دی ہے۔ پارلیمنٹ پالیسی سازی کے اختیارات سے محروم کٹھ پتلی بن چکی ہے۔ اداروں کو سیاست چھوڑ کر وسائل پر قبضہ بند کرنا ہوگا۔ قصور جلسے کے سچ کو پیڈ ٹرولرز نہیں چھپا سکتے!#فخر_ملت_مولانا#سرکاری_چمچے_فلاپ#بارڈر_یا_بیرکس#معدنیات_فروش_ٹولہ