جب برے لوگوں سے ہم گِھر جائیں تو پرانے اچھے یاد آتے ہیں
صحت کارڈ ، ٹیکس فری ای کامرس ، احساس پروگرام ، روس سے سستا تیل
ایبسلوٹلی ناٹ ، اینٹی وار مین ۔۔۔۔ہر تقریر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاطر خواہ تذکرہ
عمران خان اللہ کی حفاظت میں رہیں
وَقَالَ عَلِيٌّ:” حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ، أَتُحِبُّونَ أَنْ يُكَذَّبَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ”.
علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ”لوگوں سے وہ باتیں کرو جنھیں وہ پہچانتے ہوں۔ کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلا دیں؟“ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 127
#خان_کی_جدوجہد_کے_30_سال
#युद्ध_समस्या_का_समाधान_नहीं
#امن_کا_سفیر_پاکستان
#warupdate
#pakistanistraffic
#fieldmarshalisfantastic
#kunar
#iqrar
#openPSLforpublic
#اڈیالہ_کی_چابی_صرف_مزاحمت
The next 10 seconds can make you the best among all the world
خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں بہترین وہ ہے جو ان میں سے (دوسرے) لوگوں کے لیے زیادہ نفع مند ہو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1234]
صحیح الجامع الصغیر
#hadith#trend #trendy #trends #trendingreelsvideo
اے امریکہ و اسرائیل، بدانید ما ملتِ امام حسین (ع)
اے امریکہ و اسرائیل جان لو ہم ملت امام حسین علیہ السلام ہیں ہم ملت شہادت ہیں
۔۔۔۔
کیا ہم برصغیریوں کو بھی ایسا جزبہ ہمارے بڑوں کی طرف سے عطا ہوا ہے ؟
نہیں ہم اپنے بچوں کا اس عمر میں ٹوینکل ٹوینکل لٹل سٹار سن کر جھمر ڈالتے ہیں ۔ اور ایرانی مائیں بچوں کو اس عمر میں شہادت امام حسین پڑھاتی ہیں یہی وجہ ہے آج وہ وقت کے سب سے بڑے فرعون کو گھٹنوں پر لے آئے ہیں ۔
اور ہم (ہمارے حکمران )اسی فرعون کو رب مانے ہوئے ہیں
علی والے کبھی شکست سے دوچار نہیں ہو سکتے کیونکہ
علی کا لقب حیدر
علی کی تلوار زوالفقار
علی شیرِ خدا
علی فاتح خیبر
علی رسول اللہ کے بھائی
علی جگرِ رسول کے شوہر
علی حسن وحسین کے والد
علی سے محبت ایمان
علی سے بغض نفاق
رضی اللہ عنہم و علیہم السلام اجمعین
ایران میں امریکی جہازوں کا منظر
تم آؤ تو سہی!
چاہے دریا میں آؤ، سمندر میں آؤ،
پہاڑوں پہ آؤ، صحراؤں میں آؤ،
میدانوں میں آؤ—
تم آؤ تو سہی… ہم منتظر ہیں!
تہران کی گلیوں میں آؤ،
جزیرۂ خارق پہ آؤ،
آبنائے ہرمز کے سینے پہ آؤ،
بلوچستان کی مٹی پہ آؤ،
چابہار کی لہروں میں آؤ،
کردستان کی چوٹیوں پہ آؤ—
تم آؤ تو سہی!
ہمارے بوڑھے بھی تیار،
ہمارے بچے بھی تیار،
ہمارے جوان، ہمارے مرد و زن—
سب سرِ میدان تیار!
تم آؤ تو سہی!
یہ سمجھ کر آنا—
یہ ویتنام نہیں، یہ کمبوڈیا نہیں،
یہ عراق نہیں، یہ شام نہیں،
یہ لیبیا نہیں، نہ جاپان، نہ جرمنی—
یہ ایران ہے!
یہ ملتِ اسلام ہے!
وہ ملت—
جس کا پرچم رسولؐ نے
علیؓ کے ہاتھ میں دیا تھا،
جب خیبر کے در لرزے تھے،
اور صدا آئی تھی:
"لا فتیٰ الا علیؓ، لا سیف الا ذوالفقار!"
پھر کیا ہوا؟
خیبر ٹوٹا، خیبر جھکا—
اور آج بھی وہی صدا ہے،
آج بھی وہی معرکہ جاری ہے!
تم آؤ—
برداروں میں آؤ، جہازوں میں آؤ،
اپنی ٹیکنالوجی پہ آو ۔ ایف 35 پہ آؤ یا پیدل آؤ، بحری بیڑے پر او
فضاؤں سے آؤ یا سمندروں سے—
تم آؤ تو سہی!
ہم تمہیں ہر روپ میں تیار ملیں گے،
شوقِ شہادت لیے کروڑوں جوان،
جن کی ماؤں نے انہیں رخصت کیا،
دعاؤں کے سائے میں بھیجا—
تم آؤ تو سہی!
مگر سنو—
اپنی ماؤں سے دودھ بخشوا کے آنا،
اپنے بچوں کو سپردِ خدا کر کے آنا،
اپنی بیویوں کو آخری سلام کہہ کے آنا—
کیونکہ…
یہ ایران ہے!
یہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں،
یہاں بگرام کی آخری فلائٹ نہیں،
یہاں سے صرف…
تابوت جاتے ہیں!
تمہارے گھروں تک،
تمہارے پیاروں تک—
اور وہ پوچھیں گے:
ہم نے اپنے بچوں کو کہاں بھیج دیا؟
کہا گیا تھا:
چند دن کی جنگ ہے،
تیل کے خزانے لوٹ لائیں گے—
مگر لوٹی تو لاشیں!
اور تمہارے رہنما؟
وہ کہیں نظر نہ آئیں گے…
تم آؤ تو سہی!
یہ ایپسٹین کا جزیرہ نہیں،
نہ عیاشی کی کوئی دنیا—
یہ محنت کی سرزمین ہے،
یہ آگ کے صحرا ہیں،
یہ پتھروں کے پہاڑ ہیں—
یہاں تمہیں کچھ نہ ملے گا!
سوائے…
شعلوں کے!
جو تمہیں نگل جائیں گے!
اور سنو—
آبنائے ہرمز میں لہریں نہیں،
شارکیں منتظر ہیں—
تمہارے گوشت کی!
تو آنا—
مگر سوچ کر آنا،
اپنوں کو الوداع کہہ کر آنا—
کیونکہ…
ایک بار آئے…
تو واپسی نہیں!
تم آؤ تو سہی—
ہم تیار ہیں!
ہر میدان میں، ہر محاذ پہ—
تم سے نمٹنے کے لیے!
شام میں لاکھوں کی تعداد میں عوام اور مجاہدین غزہ اور مسجد اقصی کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں مجاہدین موت پر بیعت کر رہے ہیں
غزہ کے بعد ایران اور اسکے بعد شام میں یہود و نصاریٰ کے خلاف اس مقدس جہاد کی چنگاری جل چکی ہے
شیخ سنوار کے الفاظ سچ ثابت ہوئے