@YasirPirzada
You are the best columnist👍🏻
I've been a big fan of yours for a long time♥️
لیکن آپ نے ایک لائن نہیں لکھی:
" میں ہوں اور میرے ساتھ بھی میں ہوں"
میں اگر کسرِ نفسی سے کام لوں تو بھی اپنی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنے کیلئے مجھے کم از کم دس صفحے کالے کرنے پڑیں گے۔ میرےایک حاسد دوست نے کہا کہ اتنا ’کشٹ‘ کرنے کی بجائے اگر تم ویسے ہی دس صفحوں پر سیاہی پھیر دو تو وقت بھی بچے گا اور لوگوں کو تمہیں جاننے میں آسانی ہوگی۔
https://t.co/lbyjSjOz3n
@YasirPirzada
سب سے ضروری بات کہ ملک میں یونیورسٹیوں کی بھرمار ہے لیکن کسی بھی یونیورسٹی میں عالمی معیار کی ریسرچ نہیں ہے۔ ہمارے جیسے طالب علم جب دن رات کی محنت سے اسکالرشپ حاصل کر کے باہر کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے جاتے ہیں تو وہ ہمیں نالائق اور نااہل سمجھتے ہیں۔
تفریح کے معاملے میں ہمارے کیمپس ایسے بنجر ہیں کہ لگتا ہے ہنسنا بھی کسی سرکلر کی خلاف ورزی ہے۔ یقین نہ آئے تو ایک تازہ ترین فرمان دیکھ لیں جو ایک ’کھلی‘ سی یونیورسٹی نے جاری کیا ہے، رجسٹرار صاحب فرماتے ہیں کہ وہ کسی شخص کو یونیورسٹی کی طرف سے منظور شدہ پالیسی/قواعد/ضوابط پر تنقید کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ کر لو گل۔ پوری دنیا میں جمہوریت کا مطلب ہی تنقید کی اجازت ہوتا ہے اور جامعات میں یہی تنقید سکھائی پڑھائی جاتی ہے جبکہ اپنے ہاں باوا آدم ہی نرالا ہے۔
https://t.co/zOwTRTML3z
سچ یہ ہے کہ ٹیلنٹ کو غربت نہیں مارتی، ٹیلنٹ کو وہ معاشرہ مارتا ہے جس کے پاس اسے ڈھونڈنے اور تراشنے کا کوئی بندوبست نہ ہو۔
فرق ٹیلنٹ کا نہیں، بندوبست کا ہے۔ ان کے ہاں سات سال کے بچے کو نظام ڈھونڈ لیتا ہے، ہمارے ہاں سترہ سال کا نوجوان نظام کو ڈھونڈتا پھرتا ہے
ٹیلنٹ کو غربت نہیں مارتی، ٹیلنٹ کو وہ معاشرہ مارتا ہے جس کے پاس اسے ڈھونڈنے اور تراشنے کا کوئی بندوبست نہ ہو۔ ہمارے ہاں بھی ہر گلی میں کوئی نہ کوئی یامال گیند سے کھیل رہا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اسے ڈھونڈنے والی کوئی آنکھ موجود نہیں۔ ہمارا نظام صرف ان بچوں کو جانتا ہے جن کے والدین کو ’نظام‘ جانتا ہو۔
https://t.co/LmT0JXstlY
@YasirPirzada جبکہ باقی سارے مضمون انگریزی زبان میں پڑھائے جاتے ہیں۔ میں نے سی ایس سی سکالر شپ حاصل کی ہے۔ اب میں پی ایچ ڈی سکالر ہوں اور ستمبر میں چائنہ چلی جاؤں گی۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اردو کا مضمون ساری جماعتوں (بی ایس، ایم فل، پی ایچ ڈی اور یہاں تک کہ پوسٹ ڈاکٹریٹ) میں بھی پڑھانا چاہیے
اردو ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
@YasirPirzada
میں بھی جین زی ہوں لیکن اردو میری پسندیدہ زبان بھی ہے اور پسندیدہ مضمون بھی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں اردو صرف بارہویں جماعت تک پڑھائی جاتی ہے اور وہ بھی صرف ایک مضمون کی حیثیت سے ۔۔۔۔۔۔
اردو کا حقیقی مستقبل مدارس سے نہیں بلکہ موسیقی، سینما، انٹرنیٹ اور عوامی ثقافت سے جڑا ہے۔ برصغیر کے شاعروں، نغمہ نگاروں اور گلوکاروں نے اردو کو جو آفاقی زندگی بخشی ہے، اسکی مثال دنیا کی کسی دوسری زبان میں نہیں ملتی۔
https://t.co/NdUSUar0mk
ہم فصیل کے پتھروں کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ ہمارے پاس کوئی اوزار نہیں ۔ لیکن نیچے کی گرج بڑھتی جا رہی ہے، اور قلعے کا لوہے کا دروازہ اب آہستہ آہستہ اندر کی طرف جھک رہا ہے۔
ہجوم میں شامل لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ ہم بھی کبھی انہی کی طرح نادار تھے یا ہم نے چور دروازے سے آ کر یہاں پناہ لی تھی۔ ان کیلئے ہم اس قلعے کا حصہ ہیں جس نے انہیں صدیوں تک انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھا۔ ان کے بھوکے ہاتھ، بڑھے ہوئے ناخن، اور غصے سے سرخ چہرے جب فصیل پر پہنچیں گے، تو وہ انصاف نہیں مانگیں گے، وہ انتقام لیں گے۔
https://t.co/H1Z6oxaLQU
ہمارے ہاں فیملی پلاننگ کا اشتہار رات بارہ بجے ٹی وی پر اس طرح شرماتے شرماتے چلایا جاتا تھا جیسے دعوت گناہ دی جا رہی ہو۔حضور، خاندانی منصوبہ بندی کے اشتہارات چلائیں، اس میں کوئی بے شرمی نہیں، بے شرمی وہ غربت ہے جو سڑکوں پر رینگتی اور سسکتی دکھائی دیتی ہے۔
جتنے بچے پاکستان میں ہر سال پیدا ہوتے ہیں اتنے پورے یورپ میں نہیں ہوتے۔ اِن بچوں کی تعداد ستّر لاکھ ہےہمارا بھی کوئی قابل ذکر عالم دین یہ نہیں کہتا کہ اندھا دھند بچے پیدا کرو لیکن نہ جانے کیوں ’نیانے جمنا‘ ہم نے اسلامی فرض سمجھ لیا ہے۔ نماز پڑھیں نہ پڑھیں، سچ بولیں نہ بولیں، پورا تولیں نہ تولیں، بچے ضرور پیدا کریں گے۔
https://t.co/62SCNE5mTy
دبنگ انداز میں مدمقابل کو مخاطب کرے تو لوگ کہیں کہ واہ کیا گھبرو جوان ہے۔ لیکن یہی سب کچھ اگر ایک عورت کرے تو اسے ’ر‘ کے القابات سننےکو ملیں گے۔ ہمایوں شاہ کا ’علاج‘ تو پولیس مقابلےکے ذریعے کر دیاگیا لیکن اِن مردانہ کمزوری کےحامل مردوں کا علاج کیسے ہوگا،کوئی حکیم لقمان یہ بتا دے
انگریزی میں کہتے ہیں men will always be men، آخری تجزیے میں مرد، عورت کے کردار کا ’فیصلہ‘ اُسکے لباس، اُسکی آزادی اور اُسکی بیباک طبیعت کی بنیاد پر ہی کرے گا۔ ایک مرد اگر فیشن ایبل لباس پہن کر، کسی ہیرو کی طرح کالا چشمہ لگاتے ہوئے ایک مخصوص انداز میں لائٹر سے سگریٹ جلائے اور۔۔۔۔۔
مرد، عورت کے کردار کا ’فیصلہ‘ اُسکے لباس، اُسکی آزادی اور اُسکی بیباک طبیعت کی بنیاد پر ہی کرے گا۔ ایک مرد اگر فیشن ایبل لباس پہن کر، کسی ہیرو کی طرح کالا چشمہ لگاتے ہوئے ایک مخصوص انداز میں لائٹر سے سگریٹ جلائے اور دبنگ انداز میں مدمقابل کو مخاطب کرے تو لوگ کہیں کہ واہ کیا گھبرو جوان ہے۔ لیکن یہی سب کچھ اگر ایک عورت کرے تو اسے ’ر‘ کے القابات سننے کو ملیں گے۔
https://t.co/EacxNTcSL7
تو نے رات بنائی تو میں نے چراغ بنا لیا، تو نے مٹی بنائی اور میں نے پیالہ بنا لیا۔ تو نے صحرا، کہسار اور خار و خس پیدا کئے، میں نے (انہی کو کام میں لا کر) سڑکیں، گلزار اور باغ بنا لئے۔ میں وہ ہوں جو پتھر سے آئینہ بناتا ہوں، میں وہ ہوں جو زہر سے تریاق بنا لیتا ہوں۔ سو بات تو سچ ہے
وہ سائنس دان ہی تھا (ایلگزینڈر فلیمنگ) جس نے پنسلین ایجاد کرکے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بچائیں اور وہ بھی جینئس تھا (نارمن بورلاگ) جس نے گندم کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کرنے کا نسخہ ایجاد کیا حالانکہ بیسویں صدی میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ دنیا کی آبادی اِس قدر بڑھ جائےگی کہ زمین پر خوراک کی قلت ہو جائےگی۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔
https://t.co/YNfMUrIMg2
غاصب اور استعماری طاقتیں کبھی مظلوم قوموں کو یہ مہلت نہیں دیتیں کہ وہ آرام سےبیٹھیں، لیبارٹریاں بنائیں، یونیورسٹیاں قائم کریں، معیشت مضبوط کریں اور پرامن طریقے سے طاقتور ہو جائیں۔ ظالم کا بنیادی ہدف ہی مظلوم کی شناخت، اس کے وسائل، اس کی تعلیم اور آنےوالی نسلوں کو تباہ کرنا ہوتاہے
کسی کو گمان نہیں تھا کہ ایران دو چار دن سے زیادہ امریکہ کے سامنے ٹِک سکے گا، ہم تو اِس امید پہ تھے کہ ہمیشہ کی طرح مسلم دنیا کے لتّے لیں گے اور کہیں گے کہ ’دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ طاقتور سے پنگا نہ لو، اب آرام ہے!‘ پس ثابت ہوا کہ سارا قصور مسلم دنیا کا ہے، نیتن یاہو سے لے کر مودی تک، سب دودھ کے دھلے ہوئے ہیں!
https://t.co/36vBKPmuSS
انسانوں کو یہ خوش فہمی ہے کہ وہ اِس کائنات میں کوئی خاص مقام رکھتے ہیں جبکہ انسان بھی دیگر نباتات اور حیوانات کی طرح ایک مخلوق ہے، اُس کے ساتھ وہی کچھ ہوتا ہے جو دیگر مخلوق کے ساتھ ہوتا ہے، اسے زمین پر ایک اندھے، بے رحم اور استحصالی نظام کا سامناہے جس میں بیماری، بڑھاپا اور موت اٹل حقیقتیں ہیں۔ ہم سب محض ذرا سے وقفے کیلئے زندہ ہیں۔۔۔
https://t.co/kKY3KeBbPe
اپنے باپ کی تمام بکریوں کا رکھوالا بن گیا اور کچھ ہی عرصے بعد وہ گھوڑوں کی دن رات نگہداشت پر مامور کر دیا گیا“۔
روس کے الیوشا سے لے کر مریدکے کے اقبال مسیح تک، ہر جگہ ایک ہی کہانی ہے۔ امیر اور غریب کہانی۔ باقی سب خوش کُن باتیں ہیں۔ دل بہلانے کے قصے ہیں۔ فُرصت کے بہانے ہیں
یہ بچے جو سڑکوں، بازاروں، کارخانوں، ورکشاپوں، گھروں میں اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، انہیں اُنکا بچپن لوٹا دیا جائے۔ ٹالسٹائی کا شاہکار افسانہ ’پیالہ‘ یاد آ گیا: ”جس دن سے الیوشا نے چلنا شروع کیا، اسی دن سے گھر کا کام بھی کرنا شروع کر دیا۔ چھ سال کی عمر میں وہ۔۔۔۔۔۔
وہ پھنّے خان افسران، جو اپنے دفتروں میں بیٹھ کر پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز بناتے ہیں، ایک دوسرے کی نوٹنگ پر انگریزی میں اعتراضات لگاتے ہیں اور خود ہی اور اپنی کارکردگی پر پھولے نہیں سماتے، اپنے پورے کیرئیر میں ایک بھی ایسا کام نہیں کر پاتے جس کا موازنہ اقبال مسیح کی کاوشوں سے کیا جا سکے۔ اقبال مسیح کی بارہ سالہ زندگی اِن افسران کی سو سالہ زندگی پر بھاری ہے۔
https://t.co/FJxEuPFtab
The biggest troll is getting trolled. No one has ever trolled Trump the way Iranian embassies around the world have roasted him—even U.S. media is covering it. Watch.
ہاں اتنا ضرور پتا ہے کہ روزِ محشر جب یہ افتادگانِ خاک اپنی خمیدہ کمر کے ساتھ خدا کے حضور پیش ہوں گے تو برزخ میں روحیں بھی کانپ اٹھیں گی۔ الڈس ہکسلے نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ شاید یہ دنیا کسی اور کائنات کی جہنم ہو
سو باتوں کی ایک بات، غریب آدمی کیا جانے IMF, PDL, OMC یا FIFO، وہ تو بس یہ سوچتا ہے کہ رات کا چولہا کیسے جلے گا۔ اگلے روز ایسے ہی ایک آدمی کو دیکھا جس کیلئے غریب کا لفظ بھی ’امیر‘ تھا، وہ کسی خچّر کی طرح ایک ریڑھی کے آگے جُتا ہوا تھا جس پر منوں سامان لدا تھا اور وہ سڑک پر اسے
کھینچتے ہوئے چلا جا رہا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ ایسے بے کس اور لاچار لوگوں کو کون سی سبسڈی ملتی ہے، اکنامک سروے آف پاکستان کے کون سے صفحے پر اِن کا ذکر ہوتا ہے اور فنانس ڈویژن کا کونسا سیکشن انہیں ’ڈیل‘ کرتا ہے۔