آئیں پیج ایڈمن "شہروز احمد" سے ملتے ہیں ✨
شہروز احمد ایک خاموش طبع اور سادہ مزاج انسان ہیں اور کبھی کبھی غصہ کرتے ہیں ، مگر صرف اپنے لوگوں پر-- اپنے جذبات کا اظہار ٹھیک انداز سے نہیں کر پاتے کہ بچپن سے ہی ایسے ہیں۔
قدرے سنجیدہ مزاج انسان ہیں۔ اپنی اور دوسرے لوگوں کی عزت اور احترام کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں۔۔
آپ کو بتائیں ! شہروز خواب بہت اچھ�� دیکھتے ہیں ۔ کبھی کبھی انھیں لکھتے بھی ہیں۔۔ تخیل پر لکھنا پسند کرتے ہیں
شہروز احمد کو بادل بارش ، برفیلے پہاڑ، دریا ندیاں آبشاریں سر سبز تفریحی مقامات بہت پسند ہیں ۔ پسندیدہ تفریحی مقامات ناران ہنزہ اور سوئٹزرلینڈ ہیں۔
چاۓ کے بے حد شوقین ہیں۔، کھانا بھلے ملے یا نہیں ملے دن میں چار پانچ کپ چائے تو ضرور پی لیتے ہیں ۔ خود بھی بہت اچھی چائے بناتے ہیں۔ کریلے گوشت ، ثابت مسر ، دال چاول ان کی پسندیدہ ڈشیز ہیں ۔
پیج سے پہلے شہروز احمد کا اُردو ادب یا شاعری سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔ کبھی زمانہ طالبعلمی اور نہ ہی کبھی کاروباری زندگی میں اُردو ادب باقاعدگی سے پڑھا ۔۔
ہاں مگر اب ضرور پڑھنا اور سیکھنا چاہتے ہیں ۔ ان شاءاللہ
یہ پیج (جون 2016) حادثاتی طور بن گیا، ارادہ بالکل نہیں تھا۔ شہروز احمد سوشل میڈیا کے اتنے شوقین نہیں تھے الگ سے اپنا کوئی ذاتی فیس بک اکاؤنٹ نہیں چلاتے ۔
جن اشعار اور تحریروں کے نیچے شہروز احمد نام درج ہو ۔۔ وہ اشعار اور تحریریں اُن کی ذاتی تحلیق ہوتی ہیں ۔
اور کیا بتائیں اپنے بارے میں !!!
آپ لوگ کچھ پوچھنا چاہیں گے ۔۔ ؟ 🙂
شہروز احمد
https://t.co/XSquvnK0kR
وہ مجھے یوں تکتی ہے جیسے آسمان پر چاند کو دیکھا جائے، جیسے ساون کی بارش میں بھیگا جائے، جیسے دسمبر کی دھند میں دور تک جایا جائے، جیسے سب کچھ پا لیا جائے۔
شہروز احمد۔
ایک عام سا انسان ہوں، شاید تیرے کام کا نہیں ہوں ۔🕊
احساس کرنے والا بہت حساس ہوں ۔ دوسروں کا خیال رکھتا ہوں، درد بھی محسوس کرتا ہوں، مگر کچھ کہنا نہیں آتا کچھ جتانا نہیں آتا۔ دکھاوے کی دنیا میں بناوٹیں نہیں آتیں،
کہ شاید تیرے کام کا نہیں ہوں۔۔🍂
شہروز احمد
میری بہت شروع میں آمدن کم تھی، تب میرے پاس ایک چھوٹی سی گاڑی تھی۔ میں اس کی صفائی اور دھلائی خود کرتا تھا، مجھے لگتا تھا کہ یہ میری ذمہ داری ہے اور اس کام سے مجھے مزہ بھی آتا تھا۔
وقت گزرتا گیا، آمدن بڑھتی گئی اور گاڑی بڑی ہو گئی۔ گاڑیوں کی تعداد بھی ایک سے زائد ہو گئی۔ اب میں کبھی بھی گاڑی کی صفائی نہیں کرتا، نہ دھوتا ہوں، نہ وقت ہے اور نہ ہی انرجی۔ یہ سب کام ایک 30-40 ہزار روپے والے ملازم کرتا ہے۔
بالکل ایسے ہی عورت کو بھی لگتا ہے کہ وہ گھر کہ صفای ستھرائی اور برتن دھلائی کے لیے پیدا ہوی ہے ۔ وہ اسی میں خوش یے کے زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔۔۔
تاہم مجھے لگتا ہے جب عورت معاشی طور پر مستحکم ہونے کا فیصلہ کرتی ہے، چاہے وہ کامیاب ہو یا نہیں، تو وہ نہ صرف اپنی اولاد کے لیے ایک موٹیویشن ہوتی ہے بلکہ مرد اور معاشرے کے لیے بھی۔۔
شہروز احمد
میں موسیقار ہوتا تو سات سُر تمہارے نام کرتا، مصور ہوتا تو رنگ رنگ تمہیں سجاتا، شاعر ہوتا تو حرف حرف تمہیں لکھتا ♡
مگر میں انسان نکما ٹھہرا؛
فقط محبت کرنا آتی ہے، محبت ہی کرتا رہوں گا 💜
شہروز احمد