آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے بارش جاری ہے
دوسری جانب راولاکوٹ میں مختلف مقامات پر جاری دھرنوں کے لیے لوگ اپنے گھروں سے کھانا پانی لا رہے اور کچھ مقامات پر دیگیں پکائی جا رہی
ماسیرو۔۔۔ آپ کی محبتیں، قربانیاں اور خلوص کبھی فراموش نہیں کیے جا سکتے۔ ❤️🫀
راولاکوٹ دھرنے کے دوران جب موسلا دھار بارش نے سردی اور مشکلات میں اضافہ کر دیا تو ماسیروں نے جس محبت، اپنائیت اور ایثار کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ اپنے گھروں سے گرم کپڑے، چادریں، رومال اور جو کچھ میسر تھا، سب دھرنے کے شرکاء تک پہنچا دیا تاکہ کوئی سردی، بارش اور تکلیف کے سامنے بے سہارا نہ رہے۔
سلام ہے راولاکوٹ کے ماسیروں کو، جنہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ زندہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنے عمل، ایثار اور محبت سے پہچانی جاتی ہیں۔ ❤️🔥
آپ کی یہ محبتیں اور قربانیاں نسلیں یاد رکھیں گی۔❤️🔥 زندہ باد ماسیرو! زندہ باد کشمیری یکجہتی🔥❤️
#RightsMovementAJK
سفید جھنڈے لہراتے یہ بچے دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ہماری تحریک پرامن ہے....ہم کسی جنگ کے لیے نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کے لیے میدان میں ہیں...امن ہماری پہچان ہے اور ہمارے مطالبات سو فیصد جائز ہیں..
اسلامی تاریخ کی کتابوں میں کبھی پڑا تھا
آج راولاکوٹ میں دیکھنے کو مل رہا ہے
عزت احترام محبت کی ایک ایسی داستان لکھی جو تاریح کے ہر قصے کو پیچھے چھوڑ دے گی
مثالیں اب یہاں سے دی جاہیں گی
…
اور گھروں سے نکلنے والا ہر نوالہ صرف کھانا نہیں، بلکہ ایثار کی خوشبو ہے۔
مائیں اپنے ہاتھوں سے روٹیاں بنا کر بھیج رہی ہیں،
بہنیں دعاؤں کے ساتھ ناشتہ روانہ کر رہی ہیں،
اور مساجد کی آوازیں صرف اذان تک محدود نہیں…
بلکہ خدمت کے اعلان بن چکی ہیں۔
یہاں کوئی اجنبی نہیں…
ہر چہرہ اپنا ہے… ہر ہاتھ سہارا ہے…
ایک نوجوان اپنی پلیٹ بزرگ کو دیتا ہے،
اور وہ لمحہ چیخ چیخ کر کہتا ہے:
“یہ قوم ابھی زندہ ہے!”
نہ خوف ہے… نہ تھکن…
صرف ایک فوکس ہے… ایک مقصد ہے…
اور وہ ہے حق!
خواتین عزت کے ساتھ موجود ہیں،
بچے مسکراتے ہوئے اس تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں،
اور مرد ایک دیوار بن کر کھڑے ہیں—
امن، نظم و ضبط اور اتحاد کی دیوار۔
یہ وہی منظر ہے…
جو ہم نے کتابوں میں غزوات کے قصوں میں پڑھا تھا…
جہاں بھوک سے زیادہ غیرت بڑی تھی،
اور اپنی ضرورت سے پہلے دوسرے کا خیال رکھا جاتا تھا۔
آج… وہی تاریخ زندہ ہے۔
آج… وہی روح واپس آ گئی ہے۔
یہ صرف احتجاج نہیں…
یہ ایک سبق ہے… ایک پیغام ہے…
کہ جب قوم جاگ جائے،
تو حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔
اور یاد رکھو…
ایسی مثالیں صدیوں میں بنتی ہیں،
اور رہتی دنیا تک سنائی جاتی ہیں
ہم یہ جنگ ہر محاز پر امن سے جیت رہے ہو
کشمیرکااحتجاج بنیادی حقوق،مساوات اورانصاف کیلئے آذاد کشمیر کے حکمرانوں کے خلاف ہے۔
لیکن اسکےباوجود کوٹلی،آذاد پتن اور کہوٹہ کے راستوں سے اشیاء خوردونوش کی گاڑیوں کو روکنا عوام میں شدید غم وغصہ پیداکر رہا ہیں۔
بنیادی رسد روک کر عوام کو کیوں سزا دی جا رہی ہے؟
#RightsMovementAJK
آزاد کشمیر کے علاقے راولا کوٹ میں ہونے والے احتجاج میں صرف مرد ہی نہیں، عورتیں اور بچے بھی شریک ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں جمع ہونے والے لوگ نہ دہشت گرد ہیں، نہ کسی کے ایجنٹ۔ یہ اپنے سیاسی اور آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے والے پرامن، محب وطن شہری ہیں۔
ان کی آواز سنیں، ان کے مطالبات پر توجہ دیں۔ ان پر لاٹھیاں اور گولیاں برسانے کے بجائے ان سے بات کریں۔ اختلاف رائے کو بغاوت اور احتجاج کو دشمنی نہ سمجھیں۔
انہیں دہشت گرد اور ایجنٹ قرار دینے کے بجائے یاد رکھیں، یہ بھی اسی وطن کے بیٹے، بیٹیاں اور آپ کے اپنے بھائی بہن ہیں۔۔۔۔
یہ راولاکوٹ کا ایک منظر ہے۔
اسلام آباد پولیس کی وردیوں کو آپ بخوبی پہچانتے ہوں گے۔ ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مظاہرین پولیس اہلکاروں کو پانی پیش کر رہے ہیں۔ مگر اس منظر کو صرف دیکھنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کیجیے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے بانی رکن عمر نذیر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ ان کے ایک ساتھی شہید ہو گئے جبکہ عمر نذیر خود گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ ان کے چاہنے والے انہیں حفاظت کے پیشِ نظر ایک خفیہ مقام پر منتقل کر دیتے ہیں جبکہ شہید کی میت ہسپتال کے گیٹ پر موجود ہوتی ہے اور احتجاج جاری رہتا ہے۔
ادھر ایف سی، پی سی، رینجرز اور دیگر فورسز تعینات کی جاتی ہیں۔ اسلام آباد پولیس شیلنگ کرتی ہوئی دھرنے کے مقام تک پہنچتی ہے۔ دوسری طرف لوگ مسلسل یہی مؤقف اختیار کیے بیٹھے ہیں کہ ہم پُرامن ہیں۔
طویل شیلنگ، دوڑ دھوپ اور کشیدہ حالات کے باعث پولیس اہلکار تھکن کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس پانی بھی موجود نہیں ہوتا۔ اور پھر وہ منظر سامنے آتا ہے جو اس ویڈیو میں محفوظ ہے؛ دھرنا دینے والے لوگ انہی پولیس اہلکاروں کو پانی پیش کر رہے ہیں جو ان کے سامنے کھڑے ہیں۔
یہ وہی لمحے ہیں جن کے بعد گولیاں چلتی ہیں۔ لاشیں گرتی ہیں۔ درجنوں خاندان سوگوار ہوتے ہیں۔ سینکڑوں لوگ زخمی ہوتے ہیں۔ یہ وہی حالات ہیں جن میں شہداء کی لاشیں بھی عوام کے حوالے نہیں کی جاتیں۔
مگر اس سب کے باوجود، اس سب کے درمیان بھی، لوگ اسی پولیس کو پانی پیش کر رہے ہیں۔
پانی دینا شاید کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں، مگر یہ منظر انسانیت کے وقار کی ایک بڑی مثال ضرور ہے۔ یہ اس تہذیب، اس تربیت اور اس شعور کا عکس ہے جس میں دشمنی سے پہلے انسان کو دیکھا جاتا ہے۔
سوچئے، سامنے اسلحے سے لیس وہ لوگ کھڑے ہیں جن پر گولیاں چلانے، شیلنگ کرنے اور لاشوں کو روکنے کے الزامات ہیں، مگر اگر وہ پیاسے ہیں تو انہیں پانی پیش کیا جا رہا ہے۔
پرامن ہونے کی اس سے بڑی دلیل شاید کوئی اور نہیں ہو سکتی۔
یہ صرف پانی نہیں، یہ انسانیت کا احترام ہے۔
یہ صرف ایک منظر نہیں، یہ ایک قوم کے ظرف کا تعارف ہے۔
پونچھ کا زخمی شیر ۔عمر نذیر کشمیری
انڈیاپہ ایک ہزار بار لعنت بھیجتا ہوں اور انڈین ایجنٹ کہنے والوں پہ لاکھ بار لعنت بھیجتا ہوں ۔
ہمیں اس سرزمین پہ بیت اللہ کے بعد اگر کوٸی مقدس ہے۔وہ ریاست جموں وکشمیر ہے اور اس کے بعد ریاست پاکستان ہے۔
ہماری جنگ اشرافیہ سے ہے۔اور ہم اپنے حقوق کی جنگ لڑھ رہے ہیں۔ہمیں معمولی سے علاج کیلٸے بھی اسلام آباد کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں ہمیں بہترین سہولیات دو ہمیں اچھے ہسپتال دو،ہمیں اچھی روڈیں دو آپ نے وعدہ کیا تھا بنک شیڈول کرے گے حکمرانوں نے وعدہ کیا تھا کے ہسپتال میں ایم آر آٸی سی ٹی سکین مشنیں جلد از کشمیر کے ہسپتالوں میں مہیا کرے گے ہم پوچھتے ہیں وہ کہا ہیں؟
ہمیں کہتے ہیں آپ دہشتگرد ہیں
@Imran_HussainMP We must fight for our nation.
Die for our dignity.
No ceding land.
No marriage alliances.
This is the pride of our nation.
#RightsMovementAJK
Over 60 Parliamentarians now support the call for peace and justice in Kashmir.
British Parliamentarians are clear: end the lockdown, restore communications, protect peaceful protest and return to meaningful negotiations.
Kashmiri human rights are inalienable and must be respected.
A timely and principled call for peace deserves to be heard.
The video message from @Imran_HussainMP
Imran Hussain MP comes at a critical moment, as tensions in Rawalakot continue to escalate and the safety of ordinary civilians remains at serious risk.
More than 60 Members of the British Parliament have now spoken with one voice, urging:
• An immediate end to the lockdown
• Restoration of internet and communications
• Protection of peaceful protesters
• Respect for human rights and civil liberties
• A return to meaningful dialogue
These are not political demands—they are universal principles of justice, democracy, and human dignity.
I respectfully urge the Government of Pakistan to respond with wisdom, restraint, and urgency. The people of Azad Jammu & Kashmir deserve protection, not confrontation. Violence and repression will only deepen the crisis, while dialogue and respect for fundamental rights can pave the way for peace.
Imran Hussain MP has conveyed a clear and constructive message from the international parliamentary community. It is a message that deserves an immediate, sincere, and positive response.
🎥 Watch and share the video:
https://t.co/2K3IDpGlMx
1/ Who is a Kashmiri?
Recent debates surrounding the protests in Azad Jammu & Kashmir have revived an old argument: that only certain ethnic or linguistic groups are “real” Kashmiris.
I disagree. 🧵
2/ If being Kashmiri is defined solely by language, then millions of people from Jammu, Poonch, Rajouri, Mirpur, Muzaffarabad, Gilgit, Baltistan, Kargil and Ladakh would suddenly cease to be Kashmiris.
3/ The dispute recognized by the international community has never been limited to the Valley alone.
It concerns the former princely state of Jammu & Kashmir as a whole.
4/ There is a difference between ethnicity and nationality.
A person can be Pahari, Gujjar, Dogra, Balti, Shina or Kashmiri-speaking while still belonging to the wider political community of Jammu & Kashmir.
@AhmadHassanArbi شوکت نواز میر میرے شہر کا ہے اور وہ عوام کے حقوق کی جنگ آذاد کشمیر کی حکومت سے لڑ رہا ہے۔
پاکستان ہمارے اندرونی معاملات میں آخر کیونکر مداخلت کر رہا ہے؟