💔🥹
دشمنوں سے کیا گلہ، وہ تو پہلے ہی دشمن تھے،
دکھ تو اُن اپنوں کا ہے، جو وفادار بن کر وار کر گئے۔
عمران خان نے تیس سال قوم کے نام کیے،
اور کچھ اپنے ہی اُس کی برسوں کی جدوجہد برباد کر گئے۔
احمد بھائی، شہباز گل کو ان تمام باتوں کا پہلے سے ہی علم تھا کہ کیا ہو رہا ہے، لیکن وہ اُس وقت خاموش رہے۔ وہ مناسب وقت کا انتظار کر رہے تھے تاکہ لانگ مارچ پر اس کا کوئی اثر نہ پڑے۔
شہباز گل اپنے ولاگز میں بار بار کہتے رہے کہ وقت آنے پر میں آپ لوگوں کے سامنے تمام باتیں رکھوں گا
شہباز گل صاحب کے نام کھلا خط
محترم گل صاحب،
جب آپ لوگوں پہ شک کر سکتے ہیں تو تھوڑی اجازت ہمیں بھی دیں کہ ہم بھی آپ پہ شک کر سکیں۔آپ نے بلال انصار کے ذریعے بسم اللہ کر ہی دی ہے تو آپ نے ان سوالوں کے جوابات ضرور دینے ہیں۔
(ہمیں معلوم ہے کہ آپ کااکاؤنٹ بڑا ہےاور آپ چھوٹے اکاؤنٹس کی ریچ نہیں بڑھاتے جب تک وہ آپ کی ملت پہ نہ آئیں۔ آپ ویسے ہی جواب دے دینا میں خود ٹائم لائین پہ جا کے پڑھ لوں گا۔)
-25 مئی 2022 کو شروع ہونے والا لانگ مارچ جب اسلام آباد پہنچا تو عمران خان نے کلثوم ہسپتال کے باہر تقریر کر کے لوگوں کو D-Chowk پہنچنے سے پہل ہی ے واپس کر دیا۔
آپ کی منطق کے مطابق عمران خان کا بیک اپ پلان کیا تھا؟
جو سوال سہیل آفریدی پہ اٹھائے ہیں تو کیا آپ عمران خان پہ بھی اُٹھا سکتے ہیں؟
-28 اکتوبر 2022 کو لانگ مارچ روانہ ہوتا ہے 3 نومبر کو عمران خان کو گولیاں لگیں، پنجاب اور KP میں حکومت ہونے کے باجود FIR تک نہ کٹی۔ عمران خان کے لیئے لوگ کیوں نہیں نکلے؟ اور بیک اپ پلان کیا تھا؟ آپ بھی اس وقت پاکستان میں تھے اور عمران خان کے بازو بھی تھے اور آپ بھی نہیں نکلے، پھر لانگ مارچ بلقسط چلتا رہا اور پھر عمران خان زخمی حالت میں راولپنڈی تقریر کر کے واپس چلے گئے اور اسلام آباد تک نہیں آئے۔پورا لانگ مارچ پنجاب سے شروع ہو کر پنجاب میں ختم ہو گیا تو اس لانگ مارچ نے کیا حاصل کیا؟
جو سوال سہیل آفریدی پہ اٹھائے ہیں تو کیا آپ عمران خان پہ بھی اُٹھا سکتے ہیں؟
-18مارچ 2023 کو عمران خان پہ جس عدالت میں پولیس اور رینجر نے حملہ کیا، سیکڑوں لوگ گرفتار کرنے کے لیئے یا قتل کرنے کے لیئے آئے، عمران خان اُسی عدالت میں ۹ مئی کو بغیر بیک اپ ،بغیر تیاری کے کیوں چلے جاتے ہیں جبکہ انہیں معلوم تھا کہ گرفتاری یا قتل ہو سکتاہے۔
جو سوال سہیل آفریدی پہ اٹھائے ہیں تو کیا آپ عمران خان پہ بھی اُٹھا سکتے ہیں؟
-12 مئی 2023 کےبعد گرفتاری تک 84 دن عمران خان باہر رہے، ان لوگوں کے درمیان کیوں نہیں گئے، جو لوگ ۹-۱۰-۱۱ مئی کو نکلے تھے، جبکہ انہیں معلوم تھا کہ گرفتاری ہونے والی ہے؟
جو سوال سہیل آفریدی پہ اٹھائے ہیں تو کیا آپ عمران خان پہ بھی اُٹھا سکتے ہیں؟
-عمران خان نے جب جنوری 2023 میں KP اور پنجاب اسمبلیاں تحلیل کی تھیں تو 14 مہینے کی عبوری حکومت جرنیلوں کے ہاتھ میں چلی گئی تھی تو کیا یہ عمران خان کا پلان تھا کہ جرنیل ان حکومتوں کے ذریعے راج کریں؟ کیا خان بھی یہی کر رہا تھا جو ابھی آپ سہیل آفریدی کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔
جو سوال سہیل آفریدی پہ اٹھائے ہیں تو کیا آپ عمران خان پہ بھی اُٹھا سکتے ہیں؟
میں سوچ ہی رہا تھا اور تھوڑا سکون میں بھی تھا کہ اس دفعہ فوجی آپسی لڑائی شروع کرانے میں ناکام رہے۔ میں غلط تھا۔
جہاں تک بلال کی بات ہے یہ ایک عمران خان سے پیار رلھنے والا انسان ہے لیکن بندہ اگر بادلوں میں بھی زیادہ دیر تک دیکھتا رہے تو کچھ نہ کچھ شکلیں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں لیکن اگر آپ اُن کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کریں تو فضول بات محسوس ہوتی ہے،، آپ جانتے ہیں کہ فوج کے چند بہترین ہتھیاروں میں سے ایک آپسی الجھاؤ کا ہتھیار بھی ہے لیکن اس کا استعمال آپ کریں گے اور بلال کے علاوہ ان لوگوں کو جو اٹینشن کے بھوکے چند سال پہلے تک عمران خان کو گالیاں دیتےرہے ان کا کندھا استعمال کریں گے، اس پہ افسوس ہوا۔
شہباز گِل سچ کہہ رہے ہیں، وہ عمران خان کے وفادار سپاہی ہیں۔ میری مراد سعید، شہزاد اکبر، قاسم سوری اور دیگر تمام رہنماؤں سے درخواست ہے کہ آپ بھی سچ بولیں اور ان بے غیرت غداروں کو قوم کے سامنے بے نقاب کریں۔ قوم کو سچ جاننے کا حق ہے! 🇵🇰
جب لانگ مارچ شروع ہوا سہیل خان آفریدی نے گرجنا برسنا شروع کیا مجھے دوستوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی سپورٹ کریں، سہیل آفریدی کی تعریف کریں۔ میں خاموش رہا۔ شدید خواہش تھی کہ لانگ مارچ کامیاب ہو لیکن اندر سے خوفزدہ تھا کیونکہ حقیقت کا کچھ فہم حاصل ہوگیا تھا۔
سہیل آفریدی نے جب عہدہ سنبھالا تو سب سے اہم کام تھا عمران خان کی رہائی۔ اس کے لئے اس نے زیرو کاوش کی۔ اچانک سہیل آفریدی نے جو کچھ شروع کیا تھا وہ نیچرل نہيں تھا۔ اس بات کا خدشہ تھا کہ اس سے عمران خان کو کوئی فائدہ نہيں ہو گا۔ خان صاحب جیل میں ہی رہیں گے۔
عمران خان کے ساتھ بہنوں کے علاوہ کوئی مخلص نظر نہيں آیا۔ یہ ہے وہ تلخ سچ جس کی بےپناہ تکلیف ہے۔
بہنیں عمران خان کی رہائی کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے لوگ اپنے ادنی مقاصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ خان کے نام پر کوئی سیاسی مستقبل درخشاں کرنا چاہتا ہے۔ کوئی منسٹر بننا چاہتا ہے۔ کوئی سینٹر بننا چاہتا ہے۔ اور کوئی ان کے نام پر مال بنانا چاہتا ہے۔
کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں۔ اس وقت تنقید کا کیا فائدہ ہے۔ پارٹی تقسیم ہوگی۔ دشمن کا فائدہ۔ اپنا نقصان۔ سہیل کو باہر آنے دیان۔ ہاں یہ سوال اچھا ہے تو سنیں جواب
اس وقت چپ رہنا۔ خان سے غداری ہے۔ ایک جرم ہے۔ ایک بے غیرتی ہے۔ وہ کیسے۔ :
اس وقت کیا صورتحال ہے کہ کوئی نہیں نکلا۔ پی ٹی آئی فارغ ہو گئی۔ مخالفین کہہ رہے ہیں خان کی کہانی ختم۔ آج اسمبلی میں ن لیگ اور پی پی پی قہقے لگا رہے تھے۔ کہ سب ختم۔ Kp میں میں کہانی ختم ہو گئی۔ اپنے ورکز بھی مایوس ہیں۔
سیاسی لیڈر کی کیا طاقت ہوتی ہے ؟ توپ ٹینک بندوق ؟ نہیں۔
اس کی طاقت ہوتی ہے اس کے ساتھ کتنے لوگ ہیں۔ کتنے لوگ نکال سکتا ہے۔ سٹریٹ پاور کیا ہے۔
آج اس کا کیا امیج بنا ہے ؟ تو یہ امیج رہنے دوں کہ خان کمزور ہو گیا ہے ؟
اب میرے پاس دو چوائس ہیں۔
خاموش رہوں اور سب کو سمجھنے دوں کے واقعی کہانی ختم۔ واقعی خان کے لئے کوئی نہیں نکلا۔ اب کوئی نہیں نکلے گا۔ اور اللہ نہ کرے یہ اس اوور کانگیفیڈنس یا فرعونیت میں خان کو کوئی نقصان پہنچا دیں کہ اب تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
دوسرا راستہ۔ کھل کر چیخ کر سچ بولوں کے چوکیدار چور کے ساتھ مل گئے۔ ورکر Kp کی عوام آج بھی خان کے ساتھ ہے۔ جو نظر آیا یہ سچ نہیں ہے۔ لوگ آج بھی خان کے ساتھ ہیں۔ یہ خان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ لوگ نکلنے کو تیار تھے۔ لیکن پلان اے بی اور سی والے ملے ہوئے تھے۔
میرا ایمان کہتا ہے یہ سچ بولوں۔ تا کہ خان کے فارغ ہونے والی کہانی کو رد کر سکوں۔ بتاؤں کہ لوگ آج بھی خان پر اعتماد کرتے ہیں۔ محبت کرتے ہیںُ۔
سچ وقت پر بولنے کے لئے ہوتا ہے جیسے میں نے وقت پر ٹاؤٹ مروت کو ایکسپوز کیا تھا۔
کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں۔ اس وقت تنقید کا کیا فائدہ ہے۔ پارٹی تقسیم ہوگی۔ دشمن کا فائدہ۔ اپنا نقصان۔ سہیل کو باہر آنے دیان۔ ہاں یہ سوال اچھا ہے تو سنیں جواب
اس وقت چپ رہنا۔ خان سے غداری ہے۔ ایک جرم ہے۔ ایک بے غیرتی ہے۔ وہ کیسے۔ :
اس وقت کیا صورتحال ہے کہ کوئی نہیں نکلا۔ پی ٹی آئی فارغ ہو گئی۔ مخالفین کہہ رہے ہیں خان کی کہانی ختم۔ آج اسمبلی میں ن لیگ اور پی پی پی قہقے لگا رہے تھے۔ کہ سب ختم۔ Kp میں میں کہانی ختم ہو گئی۔ اپنے ورکز بھی مایوس ہیں۔
سیاسی لیڈر کی کیا طاقت ہوتی ہے ؟ توپ ٹینک بندوق ؟ نہیں۔
اس کی طاقت ہوتی ہے اس کے ساتھ کتنے لوگ ہیں۔ کتنے لوگ نکال سکتا ہے۔ سٹریٹ پاور کیا ہے۔
آج اس کا کیا امیج بنا ہے ؟ تو یہ امیج رہنے دوں کہ خان کمزور ہو گیا ہے ؟
اب میرے پاس دو چوائس ہیں۔
خاموش رہوں اور سب کو سمجھنے دوں کے واقعی کہانی ختم۔ واقعی خان کے لئے کوئی نہیں نکلا۔ اب کوئی نہیں نکلے گا۔ اور اللہ نہ کرے یہ اس اوور کانگیفیڈنس یا فرعونیت میں خان کو کوئی نقصان پہنچا دیں کہ اب تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
دوسرا راستہ۔ کھل کر چیخ کر سچ بولوں کے چوکیدار چور کے ساتھ مل گئے۔ ورکر Kp کی عوام آج بھی خان کے ساتھ ہے۔ جو نظر آیا یہ سچ نہیں ہے۔ لوگ آج بھی خان کے ساتھ ہیں۔ یہ خان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ لوگ نکلنے کو تیار تھے۔ لیکن پلان اے بی اور سی والے ملے ہوئے تھے۔
میرا ایمان کہتا ہے یہ سچ بولوں۔ تا کہ خان کے فارغ ہونے والی کہانی کو رد کر سکوں۔ بتاؤں کہ لوگ آج بھی خان پر اعتماد کرتے ہیں۔ محبت کرتے ہیںُ۔
سچ وقت پر بولنے کے لئے ہوتا ہے جیسے میں نے وقت پر ٹاؤٹ مروت کو ایکسپوز کیا تھا۔
کتنا بڑا آدمی ہے اور کتنا مظبوط آدمی ہے
پورے کا۔پورا نظام لرز رہا ہے کانپ رہا ہے ڈر رہا ہے
سوچیئے کہ وہ آدمی جیل میں بھی بیٹھ کر بھی آپ کے بارے میں سوچ رہا ہے
عمران ریاض خان