سیاہی آنکھ کی اشکوں سے ہو گئی ہے بیاض
کہاں تک اب میری جاں اور کس لیے اعراض
عجیب کاٹ ہے مژگاں کی ان صفوں میں خدا
بریدہ جامہ تقویٰ ہے ان سے جوں مقراض
وہ دھوپ چھاؤں رخ و زلف نے دکھائی ہے
اسی سے دیدہ مردم میں ہے سواد و بیاض
چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے
دل نے لے بدلی تو مدھم ہوا ہر ساز کا رنگ
اک سخن اور کہ پھر رنگ تکلم تیرا
حرف سادہ کو عنایت کرے اعجاز کا رنگ
فیض احمد فیض
یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہم راز کا رنگ
سایۂ چشم میں حیراں رخ روشن کا جمال
سرخیٔ لب میں پریشاں تری آواز کا رنگ
بے پیے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب
شیشۂ مے میں ڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ
#اردوـزبان#قومی_زبان