تسی سب نے عمران خان نو چھڑوا کے جو کم کرنا او اج کر لئو، عمران خان اس فوج نو پٹا پائے گا تواڈے مطابق تے تسی پا لئو، عمران خان ایلیٹ کیہچر ختم کرے گا تسی کر لئو، عمران خان نظام ٹھیک کرے گا تسی کر لئو۔
عمران خان ایہہ سب عوامی زور نال ہی کرے گا نا کہ عمران خان GHQ تے آبپارہ بیٹھا چنگیز خان ہے؟
تواڈی سوچ و ولولہ عمران خان یا نظام واسطے ��ہی ہے۔
تسی چاھندے ہو تواڈا کم کوئی ہور کرے بس۔
Nothing sexier than an ambitious man working his ass off to build generational wealth for his family. That kind of hunger can’t be taught, it’s a fire that lives in you.
پوٹیمکن کی بستیاں
اٹھارہویں صدی کے روس کی بات ہے۔ سلطنت وسیع تھی، شاہی دربار شاندار تھا اور تخت پر کیتھرین دوم، یعنی کیتھرین دی گریٹ بیٹھی تھی۔ سلطنتیں تب بھی اپنے حکمرانوں کو وہی دکھانے کا ہنر جانتی تھیں جو حکمران دیکھنا چاہتے تھے۔ درباروں میں سچ بولنے والوں کی کبھی بہتات نہیں رہی، وہاں ہمیشہ ان لوگوں کی مانگ زیادہ رہی ہے جو بادشاہ کے خواب کو حقیقت کا لباس پہنا سکیں۔
کہانی ہے کہ ملکہ نے روس کے نئے زیر نگیں جنوبی علاقوں، خصوصاً کریمیا، کے دورے کا ارادہ کیا۔ ان علاقوں کی نگرانی اس کے نہایت بااثر جرنیل اور درباری گریگوری پوٹیمکن کے پاس تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ شاہی نقشوں اور درباری رپورٹوں میں جس خوشحالی کے رنگ بھرے گئے تھے، زمین پر تصویر اتنی دلکش نہ تھی۔
چنانچہ روایت ہے کہ حقیقت بدلنے کے بجائے حقیقت کا منظر بدلنے کا فیصلہ ہوا۔
ملکہ کا شاہی قافلہ جن راستوں سے گزرنا تھا، وہاں خوش نما بستیاں، صاف ستھرے راستے، آباد بازار�� خوش لباس لوگ اور ہنستے بستے دیہات دکھائے گئے۔ کہیں لکڑی، کپڑے اور رنگ سے منظر آراستہ کیے گئے اور کہیں لوگوں کو جمع کرکے آبادی، رونق اور آسودگی کا تاثر پیدا کیا گیا۔ روایت یہاں تک پہنچی کہ لوگوں اور مویشیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا تاکہ شاہی قافلہ جہاں پہنچے، خوشحالی پہلے ہی وہاں ملکہ کے استقبال کے لیے کھڑی ہو۔
غربت ختم نہیں کی گئی تھی۔ غربت اور ملکہ کی نگاہ کے درمیان صرف ایک خوبصورت پردہ کھڑا کردیا گیا تھا۔
یہ داستان تاریخی طور پر کہاں تک درست ہے اور کہاں تک پوٹیمکن کے مخالفین کا تراشا ہوا افسانہ، اس پر مؤرخین اختلاف کرتے ہیں، مگر بعض کہانیاں اپنی تاریخی صحت سے کہیں بڑا استعارہ بن جاتی ہیں۔ اسی داستان نے دنیا کو ایک اصطلاح دی، ’’پوٹیمکن بستی‘‘۔
یعنی ایک ایسا خوبصورت منظر جو حقیقت دکھانے کے لیے نہیں، حقیقت چھپانے کے لیے تعمیر کیا جائے۔
سامنے رنگ و روغن ہو اور پیچھے شکستہ دیوار۔سامنے روشن بازار ہو اور پیچھے خالی دسترخوان۔ سامنے خوشحالی کا جشن ہو اور پیچھے بھوک ماتم کر رہی ہو۔ سامنے اعداد و شمار کا چراغاں ہو اور پیچھے افلاس اندھیرے میں اپنے بچے گن رہا ہو۔سامنے ترقی کے ترانے ہوں اور پردے کے پیچھے نظام اپنی آخری سانسیں گن رہا ہو۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ، تاریخ نہیں رہتی، آئینہ بن جاتی ہے۔
کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے بھی پوٹیمکن سے یہ ہنر مستعار لے لیا ہے۔مسئلہ ختم کرنے سے زیادہ مہارت مسئلے کا منظر بدلنے میں پیدا ہوگئی ہے۔
معیشت دباؤ میں ہو تو اعداد و شمار کا کوئی نیا زاویہ نکال لیجیے۔ صنعت سکڑ رہی ہو تو کسی ایک مثبت اعشاریے کو قومی کامیابی بنا دیجیے۔ کاروبار بند ہو رہے ہوں تو سرمایہ کاری کانفرنس سجا دیجیے۔ عوام کی قوت خرید گرتی جائے تو مہنگائی کی شرح میں کمی کا مژدہ سنا دیجیے۔ بجلی ناقابل برداشت ہو تو ٹیرف کے کسی ایک جزو میں کمی کو انقلاب قرار دے دیجیے۔قرض بڑھتا رہے تو اسے کامیاب فنانسنگ کا نام دے دیجیے۔
یوں مسئلہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے، صرف اس کا نام بدل جاتا ہے۔پھر سرکاری ترجمان انہی جدید پوٹیمکن بستیوں کے سامنے کھڑے ہو کر قوم کو بتاتے ہیں کہ دیکھیے، سب کچھ کتنا خوبصورت ہے۔ مگر وہ ایک بنیادی فرق بھول جاتے ہیں۔قوم شاہی قافلہ نہیں ہوتی۔اسے صرف سڑک کنارے کھڑی عمارت کا خوبصورت اگواڑا نظر نہیں آتا، اسے اس کے پیچھے اپنا باورچی خانہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ اسے اپنے بجلی کے بل کا علم ہے، اپنے کاروبار کی فروخت معلوم ہے، اپنی تنخواہ کی قوت خرید معلوم ہے، اپنے بچوں کی فیس معلوم ہے اور اپنے کارخانے کی بند مشینیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔
اعداد و شمار سے حقیقت کی تشریح تو کی جا سکتی ہے، حقیقت کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ریاستیں شاید اس وقت اپنے سب سے خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی ہیں جب حکمرانوں تک بری خبر پہنچنا بند ہو جائے۔ جب ہر ناکامی کے لیے خوبصورت اصطلاح، ہر بحران کے لیے پریس ریلیز، ہر زوال میں کوئی مثبت اعشاریہ اور ہر سوال کے جواب میں ایک نئی پریزنٹیشن موجود ہو۔پھر حکومتیں ملک نہیں چلاتیں، منظرنامے چلاتی ہیں۔
اور منظرناموں کی کمزوری یہ ہے کہ وہ دور سے بہت خوبصورت دکھائی دیتے ہیں، قریب جائیے تو ان کے پیچھے لگی لکڑی، کیلیں اور پردے نظر آنے لگتے ہیں۔پوٹیمکن مر گیا، کیتھرین بھی چلی گئی، روسی سلطنت بھی تاریخ ہوگئی،مگر پوٹیمکن کی بستیاں نہیں مریں جہاں زوال کا نام استحکام، مجبوری کا نام حکمت عملی اور ناکامی کا نام کامیاب اصلاحات رکھ دیا جائے، وہاں ایک پوٹیمکن بستی آباد ہوتی ہے۔اور جہاں پیچھے بھوک ناچ رہی ہو، ننگ رقص کر رہا ہ��، افلاس کی فراوانی ہو، کاروبار دم توڑ رہے ہوں، مگر سامنے کھڑا ترجمان پورے اعتماد سے اعلان کر رہا ہو کہ حالات پہلے سے کہیں بہتر ہیں، وہاں پوٹیمکن کو خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
آئی پی پیز کو 2 سال میں کیپسٹی و انرجی چارجز کی مد میں 6047 ارب کی ادائیگیاں
تقریباً 22 ارب ڈالر 2 سال میں دیے گئے، دوسری طرف IMF سے 5 ارب ڈالر کیلئے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں، جہاں سے چشمہ پھوٹنا ہے۔ خیر آئی پی پیز پر عظیم قائد کا لازمی شکریہ ادا کریں، قائد تجربہ کار ہیں
@miandawoodadv ویسے عقلمند لوگو
یہ بتاؤ کہ نواز شریف @NawazSharifMNS یا شہباز شریف @CMShehbaz کے منہ سے اسرائیل کے خلاف ایک لفظ بھی نکلا ہے حکومت میں ہوتے ہوئے؟؟
اڈے تسی سیانے
سب منہ لگائے بیٹھے ہو کوئی دے ادھر بھی
@MohsinHijazee یہودیوں کے خلاف آج تک ارباب اختیار سے چوں تک تو نکلی نہیں۔
اور آئے بات کر��ے۔
کچھ عقل کو پاتھ مار لو۔
عمران خان نے کہا تھا کہ تم لوگ پڑھنے لکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔
اس کو اس معاملے میں ہی غلط ثابت کر دو۔
چول لوگ اور غیرت سے عاری
رنگ روڈ اسکینڈل کے بعد ٹرانسفر، آئی ٹی وزارت میں اسکینڈل کے بعد ٹرانسفر، یہ اگست 2023 سے جنوری 2024 تک وزارت نیشنل فورڈ میں بطور سیکرٹری انچارج تھے یہ وہ وقت تھا جب انوار کاکٹر کے دور میں گندم اسکینڈل آیا تھا اس کے بعد وہاں سے بھی کیپٹن محمود کو ٹرانسفر کیا گیا اور آج کل وزارت ہاوسنگ میں ہیں وہاں سے بھی خبریں بہت ا رہی ہیں۔۔۔۔شہباز شریف کے پاس یہی ایک افسر ہے جس کو ہر وزارت کا چارج دینا ہے
پمز اسپتال سانحے کے بعد وزیراعظم نے سیکرٹری ہیلتھ کو عہدے سے ہٹا کر انکی جگہ سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کو وزارت قومی صحت کا اضافی چارج دیا گیا۔
2013 میں کیپٹن محمد محمود نندی پور منصوبے کے انتظامی سربراہ بنے۔ نندی پور منصوبے کی تاخیر، انتظامی ناکامیوں اور ایک متنازعہ ٹینڈر کے معاملات سامنے آئے بڑا سکینڈل بنا، جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
2020 کمشنر راولپنڈی بنے۔ 2021 میں پنجاب اینٹی کرپشن نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کو گرفتار کیا۔ ان پر الزام تھا کہ راولپنڈی رنگ روڈ کی الائنمنٹ میں مبینہ تبدیلیوں اور دیگر بے ضابطگیوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
حالیہ دور میں پیٹرولیم، فوڈ سیکیورٹی اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے پر رہے۔ اس وقت وزارت ہاؤسنگ کے سیکرٹری ہیں اور اب سانحہ پمز اسپتال کے بعد انکو وزارت قومی صحت کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے سیکرٹری ہیلتھ کو تو عہدے سے ہٹا ��یا لیکن دوسری جانب اصل ذمہ دار پمز اسپتال کے انتظامی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ اطلاعات ہیں کہ وہ تگڑی سفارش پر پمز کے ای ڈی لگے تھے۔
وفاقی وزیر قومی صحت مصطفی کمال کا تو ذکر ہی نہ کریں، وہ آج کل جس قبیلے کی نمائندگی کرتے ہیں، انکو ہٹانے کے مطالبہ کرنا بھی ملک دشمنی تصور ہوگا۔