حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
”عنقریب ایسے شیاطین ظاہر ہوں گے جو تمہاری مجلسوں میں تمہارے ساتھ بیٹھیں گے، تمہیں تمہارے دین کی فہم و تعلیم دیں گے اور تم سے باتیں بیان کریں گے، حالانکہ وہ حقیقت میں شیاطین ہی ہوں گے۔“
البدع لابن وضاح - ١٥٧/٢)
امام ذہبی نے کیا کمال بات فرمائی:
”کمال نایاب ہے۔ کسی عالم کی ایک لغزش کی وجہ سے اس کی بے شمار خوبیاں نظرانداز نہیں کرنی چاہییں۔ ممکن ہے اس نے رجوع کر لیا ہو، اور اگر اس نے حق کی تلاش میں پوری علمی کوشش کی ہو تو امید ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے۔ آمین!“
الفقيهُ الأصوليُّ اللُّغويّ، عالم خُراسان، أبو بكر محمد بن عليّ بن إسماعيل الشَّاشيّ الشَّافعيّ القَفَّالُ الكبير.
قال أبو الحسن الصَّفّار: سمعتُ أبا سَهْل الصُّعْلُوكي، وسُئل عن تفسير أبي بكر القَفّال، فقال: قدَّسَهُ من وَجْه، ودنَّسَهُ من وَجْهٍ، أي: دنَّسَهُ من جهة نصْره للاعتزال.
قال الذّهبيّ: الكمال عزيز، وإنما يمدحُ العالم بكثرة ما له من الفضائل، فلا تُدفن المحاسنُ لورطَة، ولعلَّه رجع عنها، وقد يُغفر له باستفراغه الوسع في طلب الحقّ ولا قوّة إلا بالله.
أنشد أبو بكرٍ القَفّال:
أُوسِّعُ رَحْلي عَلَى مَنْ نَزَلْ
وَزَادِي مُبَاحٌ عَلَى مَنْ أَكَلْ
نُقَدِّمُ حاضِرَ ما عِنْدَنا
وإنْ لَمْ يَكُنْ غير خُبْزٍ وَخَلّ
فَأَمَّا الكريمُ فَيَرْضَى بِهِ
وَأَمَّا اللَّئيمُ فَمَنْ لَمْ أَبَلْ
النبلاء (١٦/ ٢٨٥).
دل کی سختی یہ نہیں کہ آنکھیں کبھی نہ روئیں؛ دل کی سختی یہ ہے کہ موسیقی اشک بہا دے، فلم کے مناظر دل کو موم کر دیں، کسی شاعر کا کلام جذبات میں ڈبو دے، مگر قرآنِ مجید کی آیات نہ دل کو لرزائیں، نہ آنکھوں سے ایک آنسو بہا سکیں۔
فارسی کا پہلا شعر (ظہورِ اسلام کے بعد)
مضمون: ڈاکٹر سلام سندیلوی
ماخوذ: ماہنامہ، سب رس، حیدرآباد دکن، جلد ۲۲، شمارہ ۵،۶- مئی جون ۱۹۵۹ء
اردو فورم لنک: https://t.co/rimPcFKDHt