اگر نیشنل ایکشن پلان کے بقیہ 13 نکات پر کام وزیر داخلہ نے کرنا تھا تو پہلے تو اُن کو کابینہ میں کھڑا کر کے پوچھا جائے کہ پچھلے تین سال اُنہوں نے اِن 13 نکات پر کیا کیا ہے۔وزیر اعظم اور کابینہ اُن سے پرفارمنس رپورٹ لیں، احتساب کریں، اچھے کام کے مارکس دیں، اگر فیل ہیں تو ایگزٹ ڈور دکھائیں۔
There must be a cost and benefit analysis and there must be accounbility
محسن نقوی صاحب نے سسٹم کی کسمپرسی پہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ھوں ۔ نقوی صاحب تو ماشا ءاللہ خود ایک پاور ھاؤس ھیں میں بھی بحثیت ایک سیاسی ورکر شدت سے محسوس کرتا ھوں سسٹم کا ارتقائ عمل یا evolution کا پراسیس دہائیوں سے گروہی و ذاتی مفادات کے تابع ھے ۔ اور اسکو آزاد کرنے کی ضرورت ھے۔
میری کچھ گذارشات ھیں ۔ اگر سسٹم میں مضبوط کرنا ھے اور بنیادی تبدیلی لانی ھے تو اسکا فورم پارلیمنٹ ھے جسکے نقوی صاحب رکن ھیں یا اسکو کابینہ میں بھی بھی زیر بحث لایا جا سکتا ھے اس سے یہ ادارے اور سسٹم مضبوط ھو گا اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔ محترم کابینہ کے نہایت اور معتبر رکن ھے۔ اتفاق ھے نقوی صاحب ان دونوں اداروں یعنی پارلیمنٹ اور کابینہ کا اجلاس کبھی کبھار ایٹنڈ کرتے ھیں ۔
ان اداروں کو irrelevant کرکے ملک کے مایہ ناز اور قابل احترام تاجروں کو انوائٹ کرکے captive audience کے آگے اتنی بڑی بات کرنی میری دانست میں وہ اثر نہیں رکھتی جتنا relevant constitutional forums بات کرنے سے پزیرائی ملتی۔
نقوی صاحب اس نظام کے انتہائ طاقتور عہدوں پہ ساڑھے تین سال سے فائز ھیں اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کرسکتے تھے۔ چلیں دیر آید درست آید
کل DGISPR نے NATIONAL ACTION PLAN کے 13نکات یا پوائنٹ کا ذکر کیا ۔ ایک پوائنٹ پہ عمل درآمد جوھماری افواج کے ذمہ تھا اس پہ
عملدرآمد اور تکمیل جانوں کی قربانیوں سے ھو رہا ھے۔ باقی 12 پوائنٹ وزارت داخلہ کی ذمہ داری ھے جن پہ عملدرآمد نہیں ھوا۔ نقوی صاحب سسٹمُ کی تبدیلی کا آغاز National Action plan پہ عملدرآمد سے کریں ۔ سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں ۔ صرف ھماری قابل احترام تاجر برادری ھی نہیں پوری قوم آپکے ساتھ ھے۔ 🤲
آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر سیاست میں شامل کیا اور الحمد للہ یہ 34 سالہ وفا کا سفر آج بھی جاری ہے اور آخری دم تک رہے گا۔ آزمائش ہو، اقتدار ہو یا اپوزیشن , ہمیشہ آپ کے وفادار سپاہی اور رفیق کی طرح ساتھ کھڑا رہا ہوں۔ اس رفاقت پر مجھے اور میرے خاندان کو فخر ہے۔
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے ؟
سنجاوی مانگی ڈیم 46 جنازے ایک دن میں اُٹھے تم نیویارک تھے
14 جولائی کو پانچ لاشیں اور آج چھ لاشیں بلوچستان سے ملی
ہنگو میں دس پولیس اہلکار کل شھید ہوئے اور پھر کہتے ہو سسٹم ناکام ہو گیا ہے ؟
میرے پاس کنفرم نمبر نہیں ہیں البتہ کم سے کم 120 سے زائد شھادتیں صرف اس مہینے میں ہوئی ہیں پاکستانیوں
آج یہ چپڑگنجو کہتا ہے سسٹم ناکام ہو گیا ہے 🖐🖐
جس شخص کے پاس نہ سیاسی تجربہ ہو اور نہ انتظامی، اسے پہلے نگران وزیرِ اعلیٰ، پھر وفاقی وزیرِ داخلہ، پھر سینیٹر، اس کے بعد چیئرمین کرکٹ بورڈ، پھر وزیرِ انسدادِ منشیات بنایا جائے، اور کہیں کہیں وزارتِ خارجہ کا کام بھی لیا جائے، تو نظام کی تباہی کیسے نہ ہو؟ محسن نقوی صاحب درست کہہ رہے ہیں یہ نظام نہیں چل سکتا، اسے فوری تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر نئے نظام میں بھی محسن نقوی صاحب خود کو شامل کر رہے ہیں، تو بھائی پھر موجودہ نظام ہی ٹھیک ہے۔
اندازہ کریں ایک غیر منتخب شخص اپنے بڑوں کی ایما پر قوم کو بتا رھا ھے کہ جمہوری نظام فیل ھوچکا ھے،اور دھمکا رھا ھے کہ اس کو ٹھیک کرلو وگرنہ ھم آجائینگے،جن کی تاریخ ھے کہ بہترین معیشت کو جنہوں نے تباہ کردیا وہ اب سیاستدان کی غلطیاں نکال کر نظام کو برا کہیں گے۔ماشااللہ
علیم خان صاحب کے پاس self respect نامی کوئ چیز ھے تو اس بیان کے ساتھ استعفیٰ دیں اور حکومت مخالف بینچوں پہ بیٹھنے کا اعلان کریں ۔ حوصلہ کریں ۔ صرف بیان نہ دیں ۔ راوی کنارے لوگ جنکو چونا لگا ھے وہ پچھلے سال سے رو رہے ھیں ۔ اسمبلی کا اجلاس آنے والا ھے۔ دیکھتے ھیں صرف بھڑکیں ھیں یا کوئ استعفی دے کر کشمیری بھائیوں کے ساتھ راوی کنارے رہنے والے متاثرین کے ساتھ بھی محبت اور یک جہتی کا اظہار کریں ۔ سیاست کبھی کبھی کوئ شرم کوئ حیا بھی مانگ لیتی ھے۔
🇷🇺🇵🇰 On July 22, FM Sergey Lavrov & Deputy Prime Minister & FM of Pakistan @MIshaqDar50 held a meeting in Manila.
The Sides discussed current issues in #RussiaPakistan relations, as well as a number of regional and international matters.
https://t.co/ImXbrCa0sv
Yesterday, I met with Pakistan's Federal Minister for Finance and Revenue Muhammad Aurangzeb. I welcomed Pakistan's progress in restoring macroeconomic stability and advancing key economic reforms. We discussed the importance of sustaining this reform momentum to promote durable growth, strengthen economic self-reliance, and help position Pakistan for a successful return to international capital markets.
@hinaparvezbutt کوئی گمراہ نہیں کیا گیاسپیکر صاحب کو رجب ان کے بیٹے کا دوست ہے اور حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت نے رجب کے ساتھ ایک کنٹریکٹ بھی کیا ہے، دوسرا آپ اس پر تنقید پر کررہی اور انسٹا پر فالو بھی کر رہی۔ مسلم لیگ حکومت میں ہے کم از کم یوں ٹرولز والی ٹویٹس کرنا آپکو زیب نہیں دیتا۔