اٹھو لوگو بغاوت سے قیامت اب بپا کر دو
تمہیں خاموش رہنے کی یہ عادت مار ڈالے گی
ریاست گر بچانی ہے سیاست چھین لو ان سے
وگرنہ اس ریاست کو سیاست مار ڈالے گی!
جھکتی ہے دنیا جھکانے والا چاہیے۔۔۔
بھارتی نوجوان اور حکومت مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انکے پاس ڈکٹیٹر والی سوچ نہیں۔
نوجوان ڈٹے رہے اور حکومت نے گولی چلائی اور نہ ہے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرکے جبری گمشدگیاں کی ہیں۔
جمہوریت زندہ باد
جاوید ہاشمی بالکل صحیح کہہ رہے ہیں
ہم مطالعہ پاکستان میں پڑھتے رہے کہ قائداعظم کو پرفضا مقام زیارت میں رکھا گیا
آنکھیں کھلی تو پتہ چلا کہ زیارت میں اس دور میں علاج معالجے کی تو سہولت تک میسر نہ تھی
پاکستان کی تاریخ کے پہلے مسنگ پرسن قائدِاعظم تھے
زیارت میں نہ کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ کوئی علاج ہو رہا تھا
قائدِاعظم کو ریاستی امور سے الگ کرکے وہاں نظر بند کر دیا گیا
یا اللّه۔۔ جو پاکستان اور پاکستان کے لوگوں سے مخلص ہے، اسے کامیابی عطاء فرمائیے
اور جو پاکستان کا دشمن ہے، چاہے اس نے کوئی بھی لبادہ اوڑھ رکھا ہو،
اور چاہے وہ پاکستان کے اندر موجود ہو یا باہر، اور پاکستان میں خون خرابے کی کوشش کر رہا ہو، اسے عبرت ناک شکست فاش دیجئے۔ آمین۔ 🙏
اس وقت ڈار اینڈ کمپنی اپنے آپ کو بچانے کیلئے ہر قسم کا دباؤ استعمال کرنے کی کوشش میں ہے لیکن انشاءﷲ اب قوم ان دو مظلوم خواتین کو انصاف دلوانے کے درپے ہے۔
اب ہم ان خواتین کے مجرموں کو سزا ملتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
ذرا پتا تو چلے کہ CCD کا سارا زور کمزور مجرم پر ہی چلتا ہے یا طاقتور مجرم کو بھی سزا ملے گی؟
@SabeeKazmi786 لطیف کھوسہ بڑا حرامی ے بھائی جب ے آیا تھا پی ٹی آئی میں مجھے اسی دن پتا لگ گیا تھا ے کسی کے کہنے پر پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں آیا ے جو زرداری کے ساتہ رہا ہو وہ تم کو کیا لگتا ے اچھا بندا یا انصاف کر گ والا ہوگا یہ سب کے سب حرامی اور مفاد پرست ہیں اور کچھ نھی
سابق صوبائی وزیر میاں اسلم کی بزرگ والدہ کا کل انتقال ہوا۔ انہیں جنازہ تک پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
عالیہ حمزہ کے گھر کی چادر و چاردیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے چھوٹی بچیوں کے سامنے اغوا کیا گیا۔
بزرگ اعجاز چودھری کا گردہ صرف 20 فیصد کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹرز کی ہدایات کے باوجود ان کا علاج کرنے تک کی رسائی نہیں دی جا رہی۔
کلیم اللہ کو ایک ماہ سے اغوا کیا ہوا ہے۔ فیملی تک کی ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی
@MoeenQureshiPTI
عطا تارڑ کو حقائق کی بنیاد پر قاسم خان کو جواب دینا چاہیے تھا اگر قاسم خان نے حقائق کے منافی کوئی بات کی تھی تو اسے آپ درست کر دیتے بظاہر مجھے لگتا ہے قاسم خان نے جو شکایات کی ہیں ان میں مجھے کوئی غلط بات نظر نہیں آتی ! مظہر عباس
ایک بڑی دلچسپ بات نوٹ کیجئے۔ کل PSL کے آغاز پر مریم نواز کو مدعو کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے پورے خاندان اور قریبی ساتھیوں سمیت موجود تھیں۔
وہاں عام عوام کا داخلہ ممنوع قرار دے کر عمران خان کے حق میں عوام کی نعرے بازی سے بچنے کیلئے اپنی طرف سے یہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
اب سلمان اقبال اور جاوید آفریدی سمیت مختلف ٹیموں کے مالکان کی جانب سے ٹویٹس کی یا غالباً کروائی جا رہی ہیں کہ شہباز شریف صاحب، آپ بطور وزیراعظم عوام کو اسٹیڈیم میں آنے دیں۔
اب ظاہر ہے سارا PSL تو ایسے نہیں چل سکتا، نہ ہی چلنا ہے کہ اسٹیڈیم خالم خالی پڑے رہیں اور گلی محلوں کے کرکٹ میچ کی طرح کچھ لڑکے آپس میں کرکٹ کھیلیں بغیر کسی تماشائی کے۔
عوام کو تو میچ دیکھنے کیلئے لانا ہی لانا ہے۔ بس پہلے دن مریم نواز کو مدعو کرتے وقت عوام اور عوامی جذبات TV پر نشر ہونے سے روکنے مقصود تھے۔ لیکن وہ مقصد بھی اللّه کے فضل سے پورا نہ ہو سکا۔
عوام نے سوشل میڈیا پر ہی کسر پوری کر دی۔ اب آپ آنے والے دنوں میں دیکھیں گے کہ شہباز شریف بہت کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عام عوام کو "اجازت" دے دیں گے کہ وہ آ کر اسٹیڈیم میں میچ دیکھیں۔
اور ان کے چمچے ٹویٹ کریں گے کہ واہ۔ یہ ہوتا ہے لیڈر۔ یہ ہوتا ہے vision ۔۔ سر، یہ آپ کا ہی vision ہے کہ لوگ اسٹیڈیم میں آ کر میچ دیکھنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں ورنہ آپ کے اقتدار میں آنے سے پہلے یہ کہاں ممکن تھا؟ 🤦
اللّه پاکستان کے حال پر رحم کرے اور ہمارے وہ تمام انفرادی و اجتماعی گناہ معاف فرماۓ جن کی سزا کے طور پر یہ نمونے اس ملک پر مسلط ہو گئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر 190 ملین پاؤنڈز کیس یا القادر یونیورسٹی بنانے والا کیس اتنا ہی مضبوط ہے تو پھر نیب دسویں بار بھی بھاگ کیوں جاتا ہے؟
وجہ صاف ظاہر ہے کہ ان کے پلے کچھ ہے ہی نہیں!
#خان_کو_شفا_ہسپتال_منتقل_کرو
میں نے اعتزاز احسن کے تقریریں سنیں ہیں۔ جب وہ کھڑے ہو جاتے تھے تو سب کو بیٹھ کر سننا پڑتا تھا۔ اور پاکستان کی تاریخ میں کوئ شخص نہی جو ان کا مقابلہ کر سکے۔ گوہر ایوب مخالف تھے مگر اعتزاز کو نہی روکا جا سکتا تھا۔ گھنٹوں بولنے کا ریکارڈ ہے ان کا۔ تکلیف ہوئ کہ پاکستان کے اتنے بڑے وکیل کو اک حکومت اکثریت سے لگائے کمیشن کے بنائے سیاسی جج نے جھٹلا کر باہر پھینکا۔ کوئ عدالتی جواز نہی۔ ضرورت ہی نہی۔ کیونکہ ان ججوں کو اس ہی طریقہ کار سے لایا گیا ہے جس سے ڈائریکٹ حوالدار بھرتی کیے جاتے ہیں۔ حوالدار کو پھر بھی اک دو میل دوڑ کر پاس کرنا ہوتا ہے۔ یہ جج حکومت کی مرضی کے فیصلے دے کر وہ امتحان پاس کر رہے ہیں۔ ان کو کیا پتا کہ کون ہے اعتزاز احسن۔ اس نے سی ایس ایس پاس کر کے وکیل بننا پسند کیا۔ پاکستان کے بڑے ترین مقدمے لڑے۔ اس کی بیوی کا ضیا کے خلاف سر پھٹا۔ اس نے جیلیں کاٹیں۔ مگر اسلاماباد کے اس جج نے جس کو حکومت اکثریت سے لگایا گیا ہے۔ اس کیا اس تاریخ سے۔ مانگ کیا رہا تھا اعتزاز کے عمران خان کے خاندان کی تشفی کروا دیں اس کے ڈاکٹرز کے زریعے کے وہ ٹھیک ہے۔ اس کے خاندان کا اخلاقی اور قانونی حق ہے اس کو ملنے کا۔ کیا جرم ہے اس کو مانگنے میں۔ مگر اعتزاز جیسے وکیل کی بھی ہروا نہی کی گئ۔ کوئ شرم نہی رہ گئ اس نظام میں عدلیہ میں اور معاشرے میں
عمران خان کے دور میں ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ جنگ تو دور کی بات پاکستان کی سرزمین پر دہشتگردوں نے بھی حملہ کرنے کی جرت نہیں کی
عمران خان کی پالیسی ملک میں امن و امان کی ضمانت ہے