عمران خان کی جان اب واضح طور پر خطرے میں ہے!
عمران خان بارہا خبردار کر چکے ہیں: “یہ مجھے بھی اسی طرح مار دیں گے جیسے انہوں نے مصر میں مرسی کو مارا تھا۔”
اکتوبر 2025 میں مکمل تنہائی میں رکھے جانے سے پہلے عمران خان مکمل طور پر تندرست اور صحت مند تھے۔ دسمبر کے آخر تک ان کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونا شروع ہوگئی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کو بار بار یہ بتانے کے باوجود کہ انہیں ایک آنکھ سے نظر نہیں آ رہا، تقریباً دو ہفتوں تک انہیں طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ جب بالآخر ایک ڈاکٹر کو ان کا معائنہ کرنے کی اجازت دی گئی تو عمران خان کو بتایا گیا کہ علاج میں تاخیر کے باعث ان کی آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ چکا ہے۔
ان کے سیل کے اردگرد کم از کم ایک درجن سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں۔ ان کی نگرانی کرنے والے ادارے جانتے تھے کہ عمران خان کو ایک آنکھ سے نظر نہیں آ رہا۔ علاج میں یہ تاخیر مجرمانہ نیت سے کی گئی۔
اس کے بعد سے، اگرچہ اڈیالہ جیل سے تقریباً کوئی حقیقی معلومات باہر آنے کی اجازت نہیں، لیکن ان کی صحت سے متعلق میڈیکل رپورٹس اور مبینہ “اندرونی معلومات” جان بوجھ کر لیک کی جاتی رہی ہیں۔ جولائی کے آخر تک سوشل میڈیا اچانک ایسی خبروں سے بھر گیا کہ ان کی صحت بگڑ رہی ہے، ان کے ہاتھ اور ہونٹ کانپ رہے ہیں، بلڈ پریشر غیر مستحکم ہے اور طویل تنہائی ان کی ذہنی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ ان خبروں کے ساتھ جعلی اور مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصاویر بھی پھیلائی گئیں، جن میں انہیں وہیل چیئر اور ہسپتال کے بستر پر دکھایا گیا۔
یہ بیانیہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
کیونکہ انہیں قید رکھنے والوں کا خیال تھا کہ عمران خان ان انتہائی سخت حالات کو برداشت نہیں کر سکیں گے جن میں انہیں رکھا گیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ٹوٹ جائیں گے، بالآخر پاکستان کے عوام کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور خود کو بچانے کی کوشش کریں گے۔
لیکن وہ نہیں ٹوٹے۔
جب عمران خان نے جھکنے سے انکار کیا تو انہیں انسانی رابطے سے مکمل طور پر محروم کرکے انتہائی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ صرف اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کی اجازت دی گئی، جو کے باقاعدگی سے نہیں تھی اور وہ خود بھی اسی جیل میں قید ہیں۔
اس کے باوجود عمران خان آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور چونکہ وہ انہیں توڑنے میں ناکام رہے، اس لیے اب عمران خان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے حوالے سے جھوٹا بیانیہ اور جعلی تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔
18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمران خان کو آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی موجود ہوں۔ عدالت نے اس حکم پر عمل درآمد کے لیے دو دن کی مہلت دی تھی۔ انہیں 20 اگست تک ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا، لیکن آج تک اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
حکومت آخر کیا چھپا رہی ہے کہ وہ ایک آزادانہ طبی معائنے کی اجازت دینے کے بجائے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کو تیار ہے؟
اب ہمارے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا کہ ہم پُرامن طور پر سڑکوں پر نکلیں، ہمارے دو واضح مطالبات ہیں:
1. سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے حکم کی مکمل تعمیل کرتے ہوئے عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مکمل، آزادانہ طبی معائنہ اور علاج کیا جا سکے۔
2. چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جو القادر کیس میں بشریٰ بی بی اور عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں کو 22 ماہ سے زائد عرصے اور توشہ خانہ کیس میں 9 ماہ سے سماعت کے لیے مقرر کرنے میں ناکام رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ یا انصاف فراہم کریں یا اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔
اسرائیل کے اپاچی ہیلی کاپٹروں نے غزہ کی بندرگاہ پر بمباری کی۔
بندرگاہ کے ساتھ قطار در قطار لگے سینکڑوں خیموں میں رہنے والے شہری اس حملے کا نشانہ بنے، جبکہ حملے میں زندہ بچ جانے والوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اور دنیا اب بھی اسے "نازک جنگ بندی" کہتی ہے۔
یہ جنگ بندی نہیں؛
بلکہ موت کا ایسا نظام ہے جہاں بم کچھ وقفوں کے بعد دوبارہ بولنے لگتے ہیں۔
🚨فلسطین میں ایک چھوٹی بچی کو اُس وقت شہیدکر دیا گیا جب وہ باہر پانی جمع کرنے گئی تھی کیا یہ اسرائیل کے لیے خطرہ تھا؟
🚨دوسری طرف مائیں ایسی اپنے بچوں کو رخصت کر رہی ہیں جنکی تکلیف کا اندازہ ہم نہیں کرسکتے۔
فلسطین پرظُلم دیکھ دیکھ کر پاکستانی معاملات پر لکھنے کو اب دل نہیں کرتا
🔴 مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں رہنے والے بوڑھے فلسطینی
جب اسرائیلی فوجی اس کا گھر گرا رہے تھے اور وہ اپنی آواز مسلمانوں تک نہ پہنچا سکا۔
تو اس نے اذان دے کر اپنی فریاد اللہ تک پہنچائی!
https://t.co/vi9MaoPcsf
فلسطینی شہری: "میرے پاس دستاویزات ہیں، یہ میرا گھر ہے۔"
• اسرائیلی وزیر بن گویر: "مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ 2 گھنٹوں کے اندر یہاں سے چلے جاؤ، ورنہ مار دیے جاؤ گے۔"
کیا اس ظلم کو دیکھنے اور خاموش رہنے والی انسانیت بھی اس ظلم میں شریک نہیں سمجھی جائے گی؟
یہ لبنان ہے۔ اسرائیل کی بربریت دیکھیں۔ 😡
ثالث کہاں ہیں؟
لبنان پر کوئی پوسٹ نہيں کریں گے؟ کوئی بیان نہیں دیں گے؟
یا وائٹ ہاؤس سے ڈرافٹ آنے کا انتظار ہے؟ ڈرافٹ ملے گا تو پوسٹ کریں گے؟
سبی کاظمی نے خود کو 50 ڈگری ٹمپریچر گرمی میں ایک کمرے میں بند کر کے پاکستانیوں کو بتایا کہ ایسے عمران خان اڈیالہ جیل میں آپ کی آزادی کیلئے بیٹھا ہوا ۔۔۔۔۔۔