I am assuming that you understand English although people have serious doubts about your qualifications. Ask cm office staff to show you cabinet approval for Sargodha cardiology institute . This project was stopped by caretaker Naqvi who was nominee of your party. Alternatively have Kinnaird college principal come over and explain my earlier tweet in Urdu.
سپریم کورٹ کی ہدایات اور الیکشن کمیشن کے آرڈر کو مدنظر رکھتے ہوئے اور تمام حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اس بار پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کروایا گیا ہے، اس کا تمام ریکارڈ تحریری کے ساتھ ساتھ اب ہمارے پاس ویڈیو میں بھی ہے۔ بیرسٹر علی ظفر
نو مئی واقعے کے بیانئے کے باوجود آٹھ فروری کو عوام کے پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالنے کے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں
یا تو عوام نے اس بات پر یقین نہیں کیا کہ یہ سب پی ٹی آئی نے کیا
اور یا پھر عوام نے سوچا کہ جو کیا ٹھیک کیا!
ویب سائٹ پر جاری ہونے والے فارم 45 ایک بار پھر تبدیل ہو سکتے ہیں،
جہاں جہاں واضح دھاندلی نظر آ رہی ہے، ان فارم 45 کو چینج کرکے اپ لوڈ کیا جا سکتا ہے،
جس حلقے میں دھاندلی ہوئی ہے، اس کے امیدوار کو الیکشن کمیشن سے فوری طور پر تصدیق شدہ فارم 45 لینے چاہئیں ،ورنہ یہ ثبوت بھی ہاتھ سے جاتے رہیں گے
شاعر اس شعر میں اورسیز پاکستانیوں سے ڈالر منگوانا چاہتا ہیں۔۔۔
لکن جب تک عوام کی مینڈیٹ عوام کو واپس نہیں کیا جائے گا کوئی بھی پاکستان پیسہ بیجھنے کو تیار نہیں۔۔۔
@falakjavaidkhan جو مرضی ہو جائے اس دفعہ پاکستانی عوام اپنا مینڈیٹ چوری نہیں ہونے دے گی کیونکہ اگر یہ مینڈیٹ چوری ہو گیا تو ہمارى آنے والی نسلیں اس کو بھگتیں گی.
مریم نواز نے کوشش کی کہ سرگودھا میں سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال کی جھوٹی تختی لگانے پہنچ جاے دل کے مریضوں کے ہسپتال کے لیے ،لیکن ٹویٹر پر کیمیونٹی نوٹ لگ گیا کہ یہ تو چوہردی پرویز الہیٰ نے پہلے ہی کیا ہوا ہے۔۔۔۔
فارم 45/47 میں تبدیلی اور جعلسازی کے بعد fia/nab کو اب تک الیکشن کمیشن پر ریڈ کر کے سارے ثبوت اپنی تحویل میں لے لینے چاہیے۔ تمام ملزمان جنہوں نے سفیدی پھیر کر ردوبدل کیا ہے ان کو گرفتار کرنا چاہیے- کیونکہ ساری جعلسازی وہاں ہوئ ہے۔ یہ جرم سرزد ہوا ہے اور اس کے خلاف فوری کاروائی ہونی چاہیے۔ یہ اک قومی جرم ہوا ہے اس کا تدراک فورا ہونا چاہیے-اعتزاز احسن
اعتزاز احسن کی یہ سوچ کہ الیکشن کمیشن اس دھاندلی کی پکڑائ پر جیل جا سکتا ہے اک اشارہ ہے ان مہروں پر جو سہولت کار بننے کے مزے لے رہے ہیں۔ جسٹس بابر ستار کا ڈپٹی کمشنر وغیرہ کے خلاف فیصلہ ابتدا ہو سکتی ہے-انتظامیہ اور عدلیہ کی کالی بھیڑوں کو الٹا لٹکانے کی۔ تاریخ کا سبق ہے کہ برے وقت میں غلط کاری میں کوئ کام نہی آتا۔ سو اپنی قانونی اوقات میں رہنا ہی بہتر ترین رویہ ہے۔ مگر جنہوں نے اختیار کے مزوں کے لیے قانون کو دھجیاں بکھیریں ہیں تیار رہیں۔ برے وقت میں ان کو کوئ نہی آئے گا بچانے کے لیے۔ اور آنا بھی نہی چاہیے۔ سب پھڑے جان گے!!!