آج رات قندھار میں پاکستان نے جو بمباری کی ہے وہ پالیسی شفٹ کا سب سے بڑا مظہر ہے کہ اب طالبان کے ساتھ معاملات نہیں آگے بڑھ سکتے۔ گو کہ ابھی کنفرم نہیں ہوا لیکن اگر یہ درست ہے کہ ملا ھبت اللہ کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان نے آخری حد تک جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب چین دونوں ممالک کے درمیان صلح کرانے کی بھر پور کوششیں کر رہا ہے یہ حملہ کافی گھمبیر نوعیت کا ہے۔
میری معلومات کے مطابق ملا ھبتہ اللہ پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے حامی نہیں تھے اور انہوں نے اپنے احکامات سے کوشش بھی کی تاہم جی ڈی آئی کے سربراہ عبدالحق واث�� نے ملا ھبۃ اللہ کے احکامات پر عملد آمد نہیں ہونے دیا۔ بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ قندھار میں حملہ دراصل جی ڈی آئی کے مرکز پر ہوا ہے۔ جی ڈی آئی نے ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو نہ صرف سیف ہاؤسز فراہم کر رکھے ہیں بلکہ ان کی نقل و حمل اور دیگر معاملات سمیت پاکستان کے خلاف المرصاد کے پلیٹ فارم سے منفی پراپیگنڈا بھی مسلسل کر رہی ہے۔
جی ڈی آئی نے ہی داعش اور ٹی ٹی پی کے درمیان آپریشنل تعاون قائم کروا رکھا ہے اور بظاہر داعش کے خلاف بیانئے کی جنگ بھی لانچ کر رکھی ہے۔ اس وقت افغانستان کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے میں عبدالحق واثق اور ان کے نائب تاج میر جواد کا کردار سب سے زیادہ قابل اعتراض ہے۔ ملا ھبۃ اللہ اگر تین بندوں کو تبدیل کر دیتے ہیں تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن بھی بحال ہو سکتا ہے اور طالبان کی حکومت بھی برقرار رہ سکتی ہے۔ عبدالحق واثق‘ تاج میر جواد اور مل�� یعقوب ۔ یہ تین افراد اگر اپنی پوزیشنوں سے ہٹ جائیں تو معاملات بہتر ہو سکتے۔
بہرحال پاکستان کو بھی یہ بات ذہن نشین رکھنا ہو گی کہ چین اور ترکی جیسے ممالک کو اعتماد میں لیے بغیر اس طرح کی بڑی کارروائی جس میں سپریم لیڈر نشانہ بن جائے اس کے منفی نتائج نکال سکتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک پاکستان کے خیر خواہوں میں سے ہیں اور ہمیں انہیں آن بورڈ رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
اسلام آباد میں حمزہ کیمپ پر جو ڈرون حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی اس کا جواب جی ڈی آئی کا ہیڈ آفس یا کیمپ آفس ہی بنتا تھا۔ شاید ملا ھبتہ اللہ کی بجائے جی ڈی آئی کے کمپاؤنڈ پر حملے والی خبر زیادہ مئوثق ہو۔
افغان طالبان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ جلد از جلد ٹی ٹی پی وغیرہ سے جان چھڑائیں۔ پہلے ایک حکومت ایک عربی کے لیے ختم کروائی اب دوسری حکومت کچھ پاکستانیوں کے لیے ختم کروائیں گے تو عام افغان سوال تو پوچھیں گے کہ حضور ہمارا کیا قصور ہے کہ آپ ہر بار دوسروں کے لیے ہمیں آگ میں جھونک دیتے ہیں۔
بہتر ہے کہ پاکستان کا ایک نکاتی مطالبہ جو بہت سادہ سا ہے کہ قابل تصدیق گارنٹی دے دیں۔ اپنا کام کریں۔ جواب میں پاکستان ان کے بیس بائیس مطالبات ماننے پر تیار ہے جس کا براہ راست فائدہ عام افغان کو ہو گا۔ گیند طالبان کی قیادت کے کورٹ میں ہے۔
🚨 🚨 Do you remember that during Operation Rising Line 1, Afghans provided critical information about Iran to Israel, and immediately afterward Iran began sending Afghan nationals back to their country….
Afghanis have always been Israeli assets.
یہ فوٹیج بہت خاص ہے
شمالی وزیرستان میں سرحد پار افغان طالبان پوسٹ کو اندر گھس کر پاک فوج کے جوانوں نے فتح کیا،افغان طالبان کے 4 اہلکاروں کو ہلاک کیا،پاکستان کا جھنڈا لہرایا،اس دوران ہونے والی گفتگو سے آپ کو جوانوں کے مورال کا اندازہ ہوگا
یہ تصویر چند لمحوں کے لیے دل ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
ایک ڈیلیوری رائیڈر۔۔جو روزانہ ٹریفک کے جنگل سے لڑ کر گھر پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس نے اپنے بیگ پر اپنی والدہ اور بیوی کے ایمرجنسی نمبر سہولت کے لیے نہیں لکھے،
بلکہ اس ڈر سے کہ نہ جانے کون سا دن ایسا ہو جائے جب وہ واپس گھر نہ لوٹ سکے۔
ہر ڈیلیوری کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے
ذمّہ داری کی، محبت کی، اور قربانی کی۔
وہ صرف کھانا نہیں پہنچاتا،
وہ اپنی ماں کی دعائیں، بیوی کی امیدیں
اور بچوں کا مستقبل اپنے ساتھ اٹھائے پھرتا ہے۔
اگلی بار جب آپ ڈیلیوری رائیڈر سے آرڈر لیں،
ایک لمحے کے لیے ضرو�� رکیں
یہ لوگ صرف ٹِپ نہیں،
ہمارا احترام، ہماری دعا اور ہماری قدر بھی چاہتے ہیں
یہ حقیقت ہر کسی تک پہنچنی چاہیے
ان بے آواز ہیروز کی زندگی بھی ایک جنگ ہے،
اور وہ روز جیتنے کی کوشش کرتے ہیں!!
Security Forces have been conducting a series of retribution operations against the Ks involved in heinous incident that occurred in Orakzai District on 7 October, resulting in the shahadat of brave sons of soil, including Lieutenant Colonel Junaid Tariq and Major Tayyab Rahat.
During the conduct of operation, based on credible intelligence, in general area Jamal Maya, Orakzai District, after intense fire exchanges, all thirty Indian sponsored khwarij involved in the Terrorist incident have been sent to hell. These successful operations have avenged the heinous act and have brought the main perpetrators to justice.
Sanitization operations are being conducted to hunt and eliminate any other Indian sponsored Kharji found in the area, as the security forces of Pakistan are determined and remain steadfast to eradicate and wipe out the menace of Indian Sponsored Terrorism from the country.