Sibghatullah Shahji Baloch during the Baloch National Gathering in Gwadar:
“From yesterday until today, several of our people have been killed, and we have no clear information about how many are injured. I am saying this because of what is happening as we come to our resource-rich Gwadar. Last night, bodies were laid there, and there seems to be no other way forward. The situation is dangerous, and the State can do anything to us.”
#ReleaseBYCLeaders
آج ایک بار پھر اس ریاست نے بلوچ نوجوانوں کو یہی پیغام دیا ہے کہ اگر تم پُرامن سیاست کرو گے، اپنے حقوق کی بات کرو گے، سوال اٹھاؤ گے اور جمہوری ذرائع سے اپنی آواز بلند کرو گے، تو ریاستی مشینری پوری قوت کے ساتھ تمہیں خاموش کرنے اور کچلنے کی کوشش کرے گی۔
بلوچوں کے لیے یہاں نہ قانون ہے اور نہ ہی انصاف اور اخلاقیات کے وہ اصول موجود ہیں جن کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ جو کچھ موجود ہے، وہ طاقت، جبر اور خوف کے بل پر قائم ایک ڈھانچہ ہے۔
#ReleaseBYCLeaders
پہلے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کے کیسز عدالت میں لگتے تھے، پھر عدالت کو جیل میں شفٹ کیا گیا۔ اس کے بعد فیسلیس ٹرائلز اور سرکاری وکیل کے ذریعے یک طرفہ فیصلہ سنا کر انصاف کا قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی نوجوان وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے قید رکھا گیا ہے۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہر اٹھنے والی آواز کو طاقت سے دبا دیا جائے۔
قاسم خان سوری
کشمیری بھائی, مہرنگ بلوچ کے لیے آواز اٹھا رہےہیں!
یہی حل ہے, اب ایک ہونا پڑےگا, پچھلے 77 سال سے انہوں نے ہمیں تقسیم کیا ہؤا تھا, لیکن اب سب کو سمجھ آگئی ہے!!
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج جسٹس مبین نے آج میری بہن، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، اور ایک اور رہنما صبغت اللہ شاہ جی کو گوادر میں احتجاج کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق ایک نہایت متنازع اور سوالات سے بھرپور مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ مقدمہ خود اپنے بنیادی حقائق کے اعتبار سے مشکوک ہے۔ ایک ہی سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے واقعے پر دو مختلف تاریخوں میں دو الگ الگ ایف آئی آرز درج کی گئیں جو پورے کیس کو سوالیہ نشان بناتی ہیں۔ یہ انصاف نہیں بلکہ قانون کو سیاسی انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ایک واضح مثال ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو پہلے 3MP کے تحت حراست میں لیا گیا، پھر ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے اور بعد ازاں ایک ایسا ٹرائل چلایا گیا جس پر ابتدا ہی سے جانبداری اور تنازع کے سائے منڈلاتے رہے۔ یہ بات ہم پر روزِ اول سے واضح تھی کہ ریاست کا مقصد انصاف فراہم کرنا نہیں بلکہ ماہ رنگ بلوچ کو ہر قیمت پر سزا دینا ہے۔
ماہ رنگ کا جرم کیا ہے؟ نہ انہوں نے تشدد کیا، نہ کسی جرم کا ارتکاب کیا۔ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے لوگوں کی آواز بلند کی، جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کی اور بلوچ عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے کھڑی ہوئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ریاست ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بڑھتی ہوئی قومی اور بین الاقوامی پذیرائی سے خوفزدہ ہو چکی تھی۔ گزشتہ دو برسوں میں انہوں نے بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد ہوئیں، بی بی سی کی 100 بااثر خواتین میں شامل کی گئیں اور ٹائم میگزین سمیت دنیا کے معتبر اداروں کی توجہ حاصل کی۔ ایک ایسی آواز جو عالمی سطح پر سنی جانے لگی، ریاست کے لیے ناقابلِ برداشت بنتی گئی۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گرفتاریاں، نظر بندیاں اور سزائیں ماہ رنگ بلوچ کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ وہ پہلے سے زیادہ ثابت قدم، باحوصلہ اور اپنے مقصد کے ساتھ کھڑی ہیں۔ جب ہم نے اس جدوجہد کا راستہ چنا تھا تو ہمیں اس کی قیمت کا بخوبی اندازہ تھا۔ ہم جانتے تھے کہ ہم ایک طاقتور نظام کے سامنے کھڑے ہیں، جو سزا دے سکتا ہے، قید کر سکتا ہے، مار سکتا ہے، اغوا کرسکتا ہے مگر ہمارے نظریے، ہمارے حوصلے اور ہمارے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔
میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ثابت قدم رہے، منظم رہے اور مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دے۔ یہ وقت گھبرانے کا نہیں بلکہ مزید استقامت، اتحاد اور مزاحمت کا ہے۔ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ سزاؤں اور جبر کے ذریعے ایک تحریک کو خاموش کیا جا سکتا ہے تو وہ تاریخ کے سبق کو فراموش کر رہی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اُن خواتین اور رہنماؤں کی روایت کا تسلسل ہیں جنہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ قید ان کے جسم کو محدود کر سکتی ہے لیکن ان کے نظریے اور آواز کو نہیں۔
گزشتہ سات دہائیوں سے بلوچستان میں جاری مسلح جدوجہد کے بعد ڈاکٹر مہرنگ بلوچ نئی بلوچ نسل کے لئے پرامن جدوجہد کا استعارہ بن کر اُبھری تھی لیکن ایک جھوٹے اور بےبنیاد مقدمے میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور دیگر BYC رہنماؤں کو عمر قید سُنا کر ریاست پاکستان نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے
بی وائی سی چیئرپرسن ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ سمیت قید رہنماؤں کے مقدمات میں عدالتی شفافیت کی خلاف ورزی پر قانونی ٹیم کی پریس کانفرنس
#ReleaseMahrangBaloch#ReleaseBYCLeaders
بلوچستان کے علاقے تمپ میں پاکستان فوج نے متعدد گھروں کو مسمار کرنے سمیت نذرآتش کردیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق قبل ازیں گھروں پر چھاپوں کے دوران فورسز نے گھروں میں موجود قیمتی زیورات و دیگر اشیاء بھی لوٹ لیا ہے۔
END UNFAIR TRIAL OF BYC LEADERS!
Rule of Law, fair trial and justice have become myths in Pakistan. More than 14 months have passed since Dr. Mahrang Baloch and her companions have been kept in jail under baseless accusations and unlawfully detained. Despite the absence of evidence, they have been detained, harassed and mentally tortured in jail.
Against these injustices and violations of the rule of law, Dr. Mahrang Baloch and her companions are protesting inside the jail, where they have organised a “Dharna.” If their demands are not met, they will proceed with a “Token Hunger Strike” inside the jail.
The trials have shifted from prison-based hearings to a virtual court system, where faceless trials are being conducted and the judge and other parties participate remotely, while the State seeks a speedy conclusion of the proceedings.
Their demands are simple and clear:
1) End online and jail trials and restore hearings in open court so that judicial proceedings are transparent and accessible to the public.
2) Replace the current judge, Mobin, as he has been biased towards the state regarding the case from day one. The organisation's leaders have filed a court application for the judge's replacement, which should be heard soon and a new impartial judge should be assigned to hear this case.
3) Suspend the case until the judge's replacement and the commencement of open court proceedings.
We once again request all human rights organisations, journalists, politicians, social and political unions, humanitarians and the Baloch nation to raise their voices against state barbarism and spread awareness about the ongoing injustice and online trial of BYC leaders.
@EUPakistan@KaroblisR@HRCP87@UNinPak@amnestysasia@MunizaeJahangir@TIME@UNHumanRights@BBC100women@AusHCPak@NLinPakistan@MJibranNasir@AsadAToor
#ReleaseBYCLeaders
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا آسان ہے۔ جو لوگ ظالم کے سامنے خاموش رہتے ہیں، انہیں عہدوں اور وزارتوں سے نوازا جاتا ہے، مگر ایمان مزاری اور ہادی علی نے سچ کا ساتھ چنا اور یہی ان کا قصور ہے۔ #ReleaseImaanAndHadi
بلوچستان سے انتہائی خوفناک مناظر!!
بلوچستان میں دھماکہ ہؤا ہے, یاد رہے بلوچستان ایران کے بارڈر پر ہے, جہاں عاصم منیر مزاکرات کے لیے ٹرمپ کا نائی بن کر گیا ہے!!
کوئٹہ چمن پھاٹک کے قریب ایک ٹرین پر دھماکے کے نتیجے میں دو بوگیاں الٹ گئی ہیں جبکہ ایک بوگی میں آگ بھڑک اٹھنے کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔
ٹرین کینٹ سے آرہی تھی دھماکے کا نشانہ بنی جبکہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعہ خودکش دھماکہ ہے۔
حکومت کا یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے کہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل ہوچکا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جارہا اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات بھی بدستور سامنے آرہے ہیں۔
چیرمین نصراللہ بلوچ